اسلام کے تمام عقائد کی بنیاد توحید ہے ، اس عقیدہ کی ترجمانی کلمہ طیبہ ’’ لا اِلٰہ الا اللہ ‘‘ سے ہوتی ہے۔ اس کلمہ میں اثبات بھی ہے اور نفی بھی، تسلیم بھی ہے اور انکار بھی، اقرار بھی ہے اور برأ ت کا اظہار بھی، اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات موجود ہے اور وہ ایک ہے۔
اسلام کے تمام عقائد کی بنیاد توحید ہے ، اس عقیدہ کی ترجمانی کلمہ طیبہ ’’ لا اِلٰہ الا اللہ ‘‘ سے ہوتی ہے۔ اس کلمہ میں اثبات بھی ہے اور نفی بھی، تسلیم بھی ہے اور انکار بھی، اقرار بھی ہے اور برأ ت کا اظہار بھی، اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات موجود ہے اور وہ ایک ہے۔ یہ پہلو کفر کی ایک خاص قسم ’’کفر الحاد ‘‘ کی تردید کرتا ہے، الحاد کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے وجود ہی کو نہ مانا جائے جیساکہ کمیونسٹ کہتے ہیں یاجیساکہ بہت سے اہل مغرب اور مشرقی ملکوں کے مغرب زدہ لوگ کہا کرتے ہیں۔ اس کائنات کا مشاہدہ کرنے اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اُٹھانے کے باوجود خدا کا انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ میں بغیر باپ کے اپنے آپ پیدا ہوگیا ہوں۔ یقیناً ایسا کہنے والے کو لوگ یا تو پاگل کہیں گے یا سمجھیں گے کہ یہ ثابت النسب نہیں ہے ۔
اس کلمہ کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خدائی میں شرکت نہیں ہے؛ بلکہ وحدت ہے ۔ یہ کفر کی ایک دوسری قسم ’’ کفر شرک‘‘ کی تردید کیلئے ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ کلمۂ طیبہ میں پہلے اسی دوسرے پہلو کا ذکر کیا گیا ہے ، مثبت پہلو کا ذکر بعد میں آیا ہے، قرآن مجید میں جو دلائل پیش کئے گئے ہیں، وہ زیادہ تر شرک کی تردید کیلئے ہیں، مختلف انبیاء نے جو اپنی قوموں کو خطاب فرمایا ہے، اس کی تفصیل قرآن مجید میں موجود ہے، ان سبھوں کا ہدف شرک کا رد کرنا تھا۔ جن جن قوموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا ہے، ان کی اصل بیماری شرک ہی تھی ؛ البتہ شرک کی مختلف شکلیں ان کے یہاں مروج تھیں ، کوئی قوم مورتی پوجا کرتی تھی ، کوئی سورج ، چاند اور ستاروں کی پوجا کرتی تھی، کسی کے یہاں بادشاہ پرستی مروج تھی، کوئی جانور کا پرستار تھا؛ لیکن اللہ تعالیٰ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا ان میں قدرِ مشترک تھا۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ مسلمان کیلئے توحید کے اقرار کے ساتھ باطل معبودوں سے برأت کا اظہار بھی ضروری ہے۔ (مفاتیح الغیب : ۶؍۲۵۴) اسی لئے اسلامی عقائد کے مشہور ترجمان امام طحاویؒ اپنی کتاب ’’ العقیدۃ الطحاویۃ‘‘ میں اور اس کے مشہور شارح علامہ ابن ابی العز حنفی فرماتے ہیں: ’’یہی وہ کلمہ توحید ہے، جس کی طرف تمام پیغمبروں نے دعوت دی اور اس کلمہ میں توحید کا ذکر نفی و اثبات دونوں اعتبار سے ہے، جو حصر کا تقاضا کرتا ہے، اسلئے کہ اگر صرف خدا کا اثبات ہوتا تو اس میں ( دوسرے خدا کی ) شرکت کا احتمال ہوسکتا تھا۔ ‘‘ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ : ۱۰۹) ایک اور موقع پر فرماتے ہیں :
’’جان لوکہ توحید رسولوں کی بنیادی دعوت ہے، یہ راستہ کی پہلی منزل ہے اور یہی وہ مقام ہے جس کے ذریعہ سالک اللہ کے مقام تک پہنچ سکتا ہے؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ’’ نوح ؑنے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘ ( الاعراف : ۵۹) اور ’’حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا : اللہ کی عبادت کرو کہ اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں۔‘‘ (سورہ الاعراف: ۶۵)
نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ ہم نے ہر اُمت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اورغیر اللہ کی عبادت سے بچو۔ (النحل: ۳۶) اسی لئے مکلف پر جو پہلا فریضہ عائد ہوتا ہے ، وہ یہی ہے کہ وہ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ‘‘ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ : ۷۷)
قرآن و حدیث کی اگر تمام تعلیمات کو جمع کیا جائے تو اس کا غالب حصہ عقیدۂ توحید کی تعلیم اور ہر قسم کے شرک کی تردید سے جڑا ہوا ہے۔ مسلمان جس حال میں بھی رہے اور جیسی کچھ آزمائش سے گزرے؛ لیکن اس کی زبان پر ہمیشہ یہی کلمہ رہے: ’’مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اﷲ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ (کسی کو) شریک نہ ٹھہراؤں، اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے ۔‘‘ (سورہ الرعد : ۳۶)
مسلمانوں نے سب کچھ برداشت کیا ؛ لیکن عقیدۂ توحید کے بارے میں کبھی جانتے بوجھتے مداہنت گوارا نہیں کیا، جب صحابہؓ نے اللہ کے رسولؐ کے حکم سے حبش کی طرف ہجرت فرمائی اور وہاں انہیں امن و سکون نصیب ہوا تو اہل مکہ کو یہ بات گوارا نہیں ہوئی اور انہوںنے ان کے پاس اپنے نمائندے بھیجے۔ حبش کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو بھی طلب کیا اور ان کی مخالفت میں آنے والے وفد کو بھی، مسلمانوں کی طرف سے حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے ایک مؤثر تقریر فرمائی اور اس میں ان خوشگوار تبدیلیوں کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبرؐ اسلام کی بعثت سے عرب کے جاہلی معاشرہ میں آئی، جس نے کانٹوں کو پھول اور ذروں کو آفتاب بنادیا تھا۔ نجاشی بہت متاثر ہوئے، مسلمانوں کو قیام کی اجازت دی اور مخالفین کے لائے ہوئے تحائف بھی واپس کردیئے۔ اہل مکہ نے دوبارہ آپس میں مشورہ کیا کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں ، اور محمدؐ اللہ کا بندہ، تو کل ہم بادشاہ کے سامنے رکھیں گے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ایسی بات کہتے ہیں، جو آپ کے لئے بہت ہی ناگوار خاطر ہوگی؛ چنانچہ وہ اس شکایت کو لے کر پہنچے، مسلمانوں کے وفد کی دوبارہ طلبی ہوئی ۔ صحابہؓ نے آپس میں مشورہ کیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ سے متعلق سوال کا ہمیں کیا جواب دینا چاہئے، حضرت جعفرؓنے فرمایا : خدا کی قسم ہم وہی کہیں گے ، جو ہمارے رسولؐ نے ہمیں بتایا ہے، چاہے اس کی وجہ سے جوبھی صورت حال پیش آئے۔ انہوںنے پوری قوت کے ساتھ نجاشی کے سامنے یہ بات کہی کہ حضرت عیسیٰ ؑ خدا کے بیٹے نہیں، خدا کے بندے اورپیغمبر ہیں۔ نجاشی خود صاحب علم تھے، حضرت جعفرؓ کی صاف گوئی اور صدق کلامی نے ان کو بے حد متاثر کیا ۔
(مسند احمد : ۱؍ ۲۰۲، حدیث نمبر : ۱۷۴۰ )
غرض کہ ایسے نازک حالات میں بھی صحابہ نے نہ صرف توحید پر استقامت اختیار کی؛ بلکہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں سکوت اختیار کرنے یا اَنجان بن جانے کا راستہ بھی اختیار نہیں کیا۔ مسلمان فکری پستی کی اِس سطح پر آجائے کہ شرکِ صریح میں مبتلا ہوجائے، یہ ایک ناقابل تصور بات ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ مکہ کے بڑے بڑے سردار ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن عبد المطلب اوراُمیہ بن خلف وغیرہ حضور ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کے سامنے دو تجویزیں رکھیں؛ تاکہ آپسی جھگڑا ختم ہوجائے، ایک یہ کہ ہم بھی آپؐ کے خدا کی عبادت کریں اور آپؐ بھی ہمارے بتوں کی پوجا کرلیجئے، یا مدت متعین کرلیں کہ ایک سال آپؐ کے خدا کی عبادت ہو، ہم اور آپؐ سب مل کر آپؐ کے خدا کی عبادت کریں اور ایک سال ہماری مورتیوں کی پوجا ہو۔
اسی موقع پر سورۂ کافرون نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ نہ ہم تمہارے معبودوں کی عبادت کرسکتے ہیں اور نہ تم اس بات کیلئے تیار ہو کہ تنہا ہمارے خدا کی عبادت کرو، تواس طرح عبادت میں تو اشتراک ممکن نہیں کہ ہم اللہ کو ایک بھی مانیں اور اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہرائیں؛ لیکن قابل عمل صورت یہ ہے کہ آپ اپنے مذہب پر عمل کریں ، ہماری طرف سے کوئی چھیڑ خانی نہیں ہوگی، اور ہمیں ہمارے مذہب پر عمل کرنے دیں۔ (تفسیر قرطبی : ۲۰؍۲۲۵- ۲۲۷۲)
فقہاء نے جن صورتوں کا ذکر کیا ہے، مورتی بٹھانا اور اس کی تعظیم میں وہاں بیٹھنا ، یااس پر پھول چڑھانا اس سے کہیں بڑھا ہوا عمل ہے ، اور اسلامی شخصیتوں اور مقدس ہستیوںکی خیالی مورتی بنا کر مشرکانہ عمل کرنا تو اور بھی بڑا گناہ ہے۔ جو لوگ اپنی نادانی ، ناسمجھی اور غلط رہنمائی کی وجہ سے اس کے مرتکب ہوتے ہیں، ان کو توبہ و استغفار کرنا چاہئے اور عزم مصمم کرنا چاہئے کہ آئندہ ہر قیمت پر ایسے عمل سے بچیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے۔ دنیا کی متاع حقیر کیلئے آخرت کا سودا کرلینا فائدہ نہیں، نقصان عظیم ہے۔