• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

آیت الکرسی کامطالعہ اُن قرآنی آیات کی روشنی میں جن کا آغاز ’اللہ‘ سے ہوتا ہے

Updated: May 26, 2023, 10:59 AM IST | Osama Murad | Mumbai

توحید آدمی کی سمجھ میں آجانے کا مطلب یہ ہے کہ دین کی بنیاد قائم ہوگئی۔ اس بنا پر قرآن مجید کی سب سے بڑی آیت وہ ہے جس میں توحید کے مضمون کو بہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے

photo;INN
تصویر :آئی این این

حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابومنذرؓ! جانتے ہو تمہارے پاس جو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اس کی کون سی آیت سب سے بڑی (عظیم) ہے؟ میںنے عرض کیا اللہ اور اس کے رسولؐ کو زیادہ معلوم ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ارشاد فرمایا: اے ابومنذرؓ !کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارےپاس اللہ تعالیٰ کی جو کتاب ہے اس کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ میں نے عرض کیا: اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ الِاَّ ھُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ  (یعنی آیت الکرسی)۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ  رکھا  اور فرمایا: اے ابومنذرؓ! یہ علم تمہیںمبارک ہو۔(مسلم)
حضرت اُبی بن کعبؓ کی کنیت ابومنذر ہے۔ آپ، حضورؐ کے ان صحابیوں میں سے تھے جو قرآن کے سب سے زیادہ جاننے والے اور قرآن مجید کے فاضل تھے اور صحابہ کرامؓ میں سے بہترین فہم ِ قرآن کے حامل سمجھے جاتے تھے۔ (تفہیم الاحادیث ،سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ، جلدہشتم)
اسی بڑی اور عظیم آیت، آیت الکرسی کے سلسلے میں  ایک مضمون کے مطالعے کے دوران خیال آیا کہ کلامِ پاک کی وہ آیات جمع کی جائیں جن کا آیت الکرسی کی طرح اسمِ ذات ’اللہ‘ سے آغاز   ہوتا ہو۔ ایسی ۲۷؍آیات کی نشان دہی مذکورہ مضمون میں کی گئی تھی مگر باربار  تلاوت کے نتیجے میں یہ ۳۴؍ نظر آئیں (اللہ تعالیٰ بھول چوک معاف فرمائے)۔ آیات کی ترتیب قرآن پاک کی ترتیب کے مطابق ہے۔ بہت معمولی رد و بدل کے ساتھ ترجمہ تفہیم القرآن سے لیا گیا ہے۔ بعض آیات میں ان سے قبل یا بعد کی آیات مل کر ہی مضمون مکمل ہو رہا تھا وہاں قوسین میں اسے بھی درج کر دیا ہے۔ عربی متن کسی بھی نسخے سے دیکھا جاسکتا ہے۔
    [جب یہ (منافقین) اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، اور جب علاحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ اصل میں ہم تمہارےساتھ ہیںاور ان لوگوں (مومنوں) سے محض مذاق کر رہے ہیں۔ البقرہ :۱۴]
 (۱) اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔ (البقرہ : ۱۵)
 (۲)  اللہ  وہ زندۂ جاوید ہستی ، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہ نہ سوتا ہے، نہ اسے اونگھ آتی ہے۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اُسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز ان کی گرفتِ ادراک میں نہیں آسکتی۔ الا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور ان کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے۔ بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے۔ (البقرہ : ۲۵۵)
(۳)  اللہ حامی و مددگار ہے ان کا، جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے، اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، ان کے حامی و مددگار طاغوت ہیں، وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرہ : ۲۵۷)
      (۴)  اللہ وہ زندۂ جاوید ہستی، جو نظامِ کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ حقیقت میں اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ (آل عمران:۲)
(۵)اللہ   وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہ تم سب کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے۔ (النساء: ۸۷)
(۶)  اللہ وہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہوں، پھر وہ اپنے تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہوا، اور اُس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کا پابند بنایا۔ اس سارے نظام کی ہرچیز ایک وقتِ مقرر تک کے لیے چل رہی ہے اور اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے۔ وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو۔ (الرعد : ۲)
  (۷) اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے، جو کچھ اس میں بنتا ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہرچیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے۔ (الرعد: ۸)
     [وہ پوشیدہ اور ظاہر، ہرچیز کا عالم ہے۔ وہ بزرگ ہے اور ہر حال میں بالاتر رہنے والا ہے۔ الرعد: ۹]
(۸) اللہ  جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تُلا رزق دیتا ہے۔ یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں، حالاں کہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاعِ قلیل کے سوا کچھ بھی نہیں۔ (الرعد: ۲۶)
(۹) اللہ وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کی ساری موجودات کا مالک ہے۔ اور سخت تباہ کُن سزا ہے قبولِ حق سے انکار کرنے والوں کےلئے۔ (ابراہیم: ۲)
    [جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق)ٹیڑھا ہوجائے۔ یہ لوگ گمراہی میں بہت دُور نکل گئے ہیں۔ابراہیم : ۳]
(۱۰) اللہ وہی تو ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیااور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے سے تمہاری رزق رسانی کے لئے طرح طرح کے پھل پیدا کئے۔ جس نے کشتی کو تمہارےلئے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور دریائوں کو تمہارےلئے مسخر کیا۔ (ابراہیم : ۳۲)
     [جس نے سورج اور چاند کو تمہارےلئے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارےلئے مسخر کیا، جس نے وہ سب کچھ تمہیںدیا جو تم نے مانگا۔ اگر تم   اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیںکرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔
 ابراہیم: ۳۳-۳۴]
(۱۱) اللہ وہ ہے، جس کے سوا کوئی خدا نہیں، اس کے لئے بہترین نام ہیں ۔ (طٰہٰ :۸)
(۱۲) اللہ قیامت کے روز تمہارےدرمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔(الحج:۶۹)
      [کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے؟ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ اللہ کے لیے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔الحج:۷۰]
      (۱۳)اللہ  (اپنے فرامین کی ترسیل کے لئے) ملائکہ میں سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سمیع اور بصیر ہے۔ (الحج: ۷۵)
     [جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ واقف ہے اور سارے معاملات اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔الحج: ۷۶]
(   ۱۴)  اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (کائنات میں) اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو، چراغ ایک فانوس میں ہو، فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی، جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے، (اس طرح) روشنی پر روشنی (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہوگئے ہوں)، اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے، وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے، وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔ (النور: ۳۵)
(۱۵) اللہ کہ جس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں، جو عرشِ عظیم کا مالک ہے۔ (النمل: ۲۶)
(۱۶) اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے، یقینا اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ (العنکبوت: ۶۲)
(    ۱۷)  اللہ ہی خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا، پھر اُسی کی طرف تم پلٹائے جائو گے۔  (الروم:۱۱)
     (۱۸) اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیںرزق دیا، پھر وہ تمہیںموت دیتا ہے، پھر وہ تمہیںزندہ کرے گا۔ کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو اِن میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو؟ پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ (الروم: ۴۰)
(۱۹) اللہ ہی ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے اوروہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر وہ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے، پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادلوں میں سے ٹپکے چلے آتے ہیں۔ یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے برساتا ہے تو یکایک وہ خوش و خرم ہوجاتے ہیں۔ (الروم: ۴۸)
      [حالاں کہ اس کے نزول (برسنے) سے پہلے وہ مایوس ہورہے تھے۔ ۳۰: ۴۹]
(۲۰) اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی، پھر اس ضعف کے بعد تمہیںقوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمہیںضعیف اور بوڑھا کر دیا۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اور وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ (الروم: ۵۴)
(مضمون کا دوسرا حصہ آئندہ ہفتے ملاحظہ کیجئے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK