آپ ہی آپ

Updated: February 12, 2020, 9:17 AM IST | Editorial

دہلی اسمبلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی ( آپ) کی زبردست کامیابی ( ۶۲؍ سیٹیں)، اروند کیجریوال کی پارٹی کی کارکردگی کا انعام تو ہے ہی، دہلی کی ترقی اور عوام کی فلاح کو چھوڑ کر شاہین باغ کو فرقہ وارانہ جذبے کے ساتھ انتخابی موضوع بنانے والوں کی شرمناک شکست بھی ہے۔ ’’آپ‘‘ کی ۶؍ سیٹیں کم ہوئی ہیں مگر یہ کوئی نقصان نہیں ہے۔

آپ ہی آپ
عام آدمی پارٹی ۔ تصویر : پی ٹی آئی

 دہلی اسمبلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی ( آپ) کی زبردست کامیابی ( ۶۲؍ سیٹیں)، اروند کیجریوال کی پارٹی کی کارکردگی کا انعام تو ہے ہی، دہلی کی ترقی اور عوام کی فلاح کو چھوڑ کر شاہین باغ کو فرقہ وارانہ جذبے کے ساتھ انتخابی موضوع بنانے والوں کی شرمناک شکست بھی ہے۔ ’’آپ‘‘ کی ۶؍ سیٹیں کم ہوئی ہیں مگر یہ کوئی نقصان نہیں ہے۔ ہم اسے ۲۰۱۵ء سے بڑی فتح سمجھتے ہیں کیونکہ حالات مختلف ہیں اور انتخابی رسہ کشی کی نوعیت بھی مختلف۔ بی جے پی اس خام خیالی میں تھی کہ ہندوتوا کی مجرب اور تیر بہدف سیاست اسے فائدہ پہنچائے گی اور وہ ’’آپ‘‘ کے ہاتھوں سے جھاڑو چھین کر ’’آپ‘‘ کی تمام تر مقبولیت اور کارکردگی پر جھاڑو پھیر دے گی مگر دہلی کے دانشمند رائےدہندگان نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اہل دہلی نے بڑی دانشمندی اور خوبصورتی سے سمجھا دیا کہ یہ فیصلہ کوئی سیاسی پارٹی نہیں کرتی، رائے دہندگان کرتے ہیں کہ مسند اقتدار کا حقدار کون ہوگا۔یہ وہی دہلی ہے جس نے ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا انتخاب میں شہر کی تمام ۷؍ سیٹیں بی جے پی کو سونپ دی تھیں۔  
  ’’آپ‘‘ کی کامیابی فطری بھی ہے اور لازمی بھی، کیونکہ: (۱) کیجریوال حکومت کی کارکردگی دوبارہ موقع دیئے جانے کے قابل تھی (۲) بی جے پی ہر الیکشن کی طرح (سوائے ۲۰۱۴ء کے پارلیمانی انتخاب کے) یہاں بھی ترقیاتی موضوع کو چھوڑ کر ’’ہندومسلم سیاست‘‘ پر اُتر آئی تھی اور دہلی کے سب سے اہم احتجاجی مرکز شاہین باغ کو بدنام کرنے کے درپے تھی(۳) سی اے اے کے خلاف زبردست مزاحمت کے اس دور میں اگر بی جے پی کامیاب ہوتی تو وہ اپنی کامیابی کو سی اے اے، این آر سی اور این پی آر پر اپنے حق بجانب ہونے کی عوامی سند قرار دیتی (۴) اس لئے کہ دہلی کی آواز پورے ملک کی آواز ہے۔ جو پیغام یہاں سے جاری ہوتا ہے، پورے ملک میں سنا جاتا ہے۔ اس کی گونج بیرونی ملکوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ یہی نہیں، یہاں کم و بیش ہر ریاست کے لوگ بڑی تعداد میں رہتے بستے ہیں بالخصوص یوپی، بہار اور مغربی بنگال کے لوگ۔ ان سب کی جانب سے’’آپ‘‘ کی تائید و حمایت دراصل بی جے پی اور اس کے مخصوص ایجنڈے کی شکست نیز سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کیخلاف مزاحمت کو ملنے والی کامیابی ہے (۵) فرقہ پرستی کی سیاست کو معتوب تو ہونا ہی چاہئے (۶) ایسے وقت میں جب جمہوری ادارے بُری طرح متاثر ہیں اور عوام میں خوف و تشویش پائی جارہی ہے، یہ کامیابی آئین کی بالادستی اور جمہوری اداروں کی مسلمہ حیثیت کو برقرار رکھنے کی سعی ہے، اور (۷) گزشتہ چھ سال کے دوران بی جے پی نے اپنی ہر انتخابی کامیابی کو اپنی پالیسی، اقدامات اور کارکردگی کی عوامی توثیق کے طور پر پیش کیا ہے، دہلی میں ’’آپٖ‘‘ کو سبقت نہ ملتی تو ایک بار پھر وہی ہوتا اور بی جے پی اسے اپنے تمام اقدامات کے تعلق سے ریفرینڈم قرار دیتی۔ 
 ہم نے چند روز قبل بھی ان کالموں میں لکھا تھا کہ ’’آپٖ‘‘  نے کام کیا ہے۔ ممکن ہے کچھ لوگ کہیں کہ جتنے دعوے اور وعدے کئے تھے اُتنے پورے نہیں کئے گئے ہیں، اس کے باوجود  کیجریوال کے مخالفین کو بھی یہ اعتراف ضرور ہوگا کہ اگر تمام نہیں تو اکثر، اور ۱۰۰؍ فیصد نہیں تو بڑی حد تک، وعدے پورے کئے گئے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں نئے کلاس رومس کی تعمیر، محلہ واری شفاخانوں کا جاری کیا جانا، سستی بجلی، پانی کی بہتر فراہمی، دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دلانے کیلئے جدوجہد، غیر قانونی بستیوں کی حالت بہتر بنانے کی سعی اور فضائی آلودگی سے نمٹنے کے اقدام، یہ ہے کیجریوال کا رپورٹ کارڈ۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ’’آپٖ‘‘ کی حکومت نے اپنے لئے جو راستہ منتخب کیا تھا، وہ اُس راستے سے ہٹی نہیں، بھٹکی نہیں، اس نے من مانی نہیں کی، عوام فراموشی کا ارتکاب نہیں کیا اور ابتدائی دور میں بی جے پی کی شدید یورشوں کا دانشمندانہ مقابلہ کیا۔اسی لئے دہلی میں ہر جگہ ہے ’’آپ‘‘  ہی ’’آپ‘‘  ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK