ابراہم لنکن کا خط اپنے بیٹے کے استاد کے نام

Updated: September 05, 2022, 1:12 PM IST | Mumbai

’’میرے بیٹے کوبتائیےکہ محنت سے کمایا ہوا ایک ڈالر اُن پانچ ڈالروں سے زیادہ بیش قیمت ہے جو بغیر محنت کے ہاتھ آجائے‘‘

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

 میں جانتا ہوں کہ تعلیم کے دوران اسے ( میرے بیٹے کو) یہ جاننا پڑے گا کہ تمام انسان منصف  مزاج نہیں ہیں، تمام انسان سچے نہیں ہوتے، لیکن اسے یہ ضرور سکھانے کی کوشش کیجئے کہ ہر بدمعاش کے مقابلے میں ایک ہیرو بھی ہوتا ہے۔ ہرخودغرض سیاست پیشہ انسان کے بالمقابل ایک ایسا  راہبربھی ملے گا جس نے اپنے آپ کو خدمت خلق کیلئے وقف کردیا ہو۔  اسے سکھایئے کہ زندگی میں اگر دشمن ملے گا تو کسی نہ کسی موڑ پر ایک دوست بھی ہوگا۔ میں چاہتاہوں کہ یہ سکھانا دیر طلب ہوگا لیکن اگر آپ ایسا کر سکتے ہوں تو اسے سکھادیجئے کہ محنت سے کمایا ہوا ایک ڈالر ان پانچ ڈالروں سے کہیں زیادہ بیش قیمت ہے جو بغیر محنت کے ہاتھ آجائے۔ اسے سکھایئے کہ شکست کو کیسے لیاجائے اور فتح پر شادمانی کا کیا انداز ہو۔ اس کو حسد سے دور رہنا سکھایئے۔ اسے خاموش ہنسی کا طریقہ بتایئے ۔ اگر آپ ایسا کرسکتےہو تو اسے کتابوں کی ہوش ربا دنیا میں لے جایئے لیکن اسے اس کی مہلت بھی دیجئے کہ وہ خاموشی کے لمحات میں آسمان میں اڑنے والے طیور ، آفتاب کی روشنی میں چمکنے والی شہد کی مکھیوں اور سبزہ پوش پہاڑ کے ڈھلان پر کھلے ہوئے پھولوں کے سحر کو محسوس کرسکے۔ اسکول میں اسے سکھایئے کہ نقل کرنے سے توکہیں بہتر ہے امتحان میں فیل ہوجانا۔ اسے سکھایئے کہ جو کچھ اس نے سوچا ہے ، جس خیال نے اس کے دل میں جگہ بنائی ہے جو کچھ اس نے طے کیا ہے اس پر وہ پورا اعتقاد رکھے، اس وقت بھی جب ہر شخص اس کے خیال کو غلط بتائے۔ اس کو سکھایئے کہ شریف اور شائستہ لوگوں کے ساتھ شرافت کا برتاؤ کرے اور خدائی فوجداروں کو منہ توڑ جواب دے۔ اسے سکھایئے کہ سب لوگوں کی بات غور سے سنے لیکن جو کچھ وہ سنتا ہے اسے سچائی کی چھننی میں چھان کر  ہی قبول کرے۔  اگر آپ ایسا کرسکیں تو اسے سکھایئے کہ غم کو ہنسی سے کیسے لہلاتے ہیں؟ اسے یہ بھی سکھایئے کہ رونے میں شرم کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ اسے سکھایئے کہ اپنے امن اور زور بازو کی تو پوری قیمت وصول کرے لیکن اپنے دل اور اپنی روح کے دام کبھی نہ لگنے دے۔ اس کو نرمی کے ساتھ تعلیم دیجئے لیکن کبھی اس کا لاڈنہ کیجئے کیونکہ فولاد آگ میں تپ کرہی بنتا ہے۔ اسے سکھایئے کہ اپنے اوپر پورا اعتقاد ، اعتماداور بھروسہ رکھے کیونکہ اسی طرح و ہ انسانیت پر اعتماد کرنا اور اعتقاد رکھنا سیکھے گا۔  میں نے آپ سے بہت کچھ مطالبہ کیا ہے لیکن سوچئے کہ اس میں آپ کیا کچھ کرسکتے ہیں اور اس کی  تربیت میں کتنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ ننھا انسان ، یہ میرا بیٹا، امکانات بہت سے رکھتا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK