افغانستان:’دہلی ڈائیلاگ‘، امکانات اَور خدشات

Updated: November 19, 2021, 9:22 AM IST | Shamim Tariq | Mumbai

یہ گفتگو اچانک منعقد نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے ۲۰۱۸ء اور ۲۰۱۹ء میں بھی ایران اس کا انعقاد کروا چکا ہے۔ تیسرا ڈائیلاگ ہندوستان میں ہونا طے تھا مگر کورونا کے سبب اس میں تاخیر ہوئی اور بالآخر یہ منعقد ہوا۔

Delhi Dialogue.
دہلی ڈائیلاگ

دہلی ڈائیلاگ (قومی سلامتی کے مشیروں کے مذاکرات) میں، جس کی میزبانی ہندوستان نے کی اور جس میں روس اور ایران کے علاوہ قزاخستان، کرغیستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہوئے، یہ طے پایا ہے کہ: 
(۱) افغانستان سے نہ تو دہشت گردی کی فنڈنگ ہو نہ اس کی سرزمین دہشت گردی کیلئے کسی طرح استعمال کی جائے۔ (۲) علاحدگی پسند جنگجوئوں کو قابو میں رکھنے اور ڈرگ یعنی منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام میں تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ (۳) افغانستان میں ایک ایسی نمائندہ حکومت تشکیل دی جائے جس میں تمام طبقوں اور فرقوں کی نمائندگی ہو اور وہ حکومت سب کے تحفظ کی ضامن ہو۔ بچوں، عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی بھی ضمانت دی جائے۔ (۴) افغانستان میں قیامِ امن کو یقینی بنانے میں تمام ممالک معاون ہوں گے مگر افغانستان کے داخلی معاملات میں کوئی ملک مداخلت نہیں کرے گا۔
 چین اور پاکستان کو بھی اس ڈائیلاگ میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی تھی مگر پاکستان نے پہلے ہی انکار کردیا کہ وہ اس میں شریک نہیں ہوگا اور چین نے عین وقت پر یہ کہہ دیا کہ اس کی پہلے کی مصروفیات اس کی شرکت میں مانع ہیں۔ پاکستان ان مذاکرات سے کیوں دور رہا؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مزید جواب ان مذاکرات میں پاکستان کو دبے لفظوں میں دی گئی یہ تنبیہ ہے کہ وہ افغانستان میں کسی طرح کی کوئی شرارت نہ کرے۔ یہ مذاکرات اچانک منعقد نہیں ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے ۲۰۱۸ء اور ۲۰۱۹ء میں بھی ایران ایسے مذاکرات منعقد کروا چکا ہے۔ تیسرا ڈائیلاگ ہندوستان میں ہونا طے تھا مگر کورونا کے سبب اس کے انعقاد میں تاخیر ہوتی گئی اور بالآخر یہ منعقد ہوا۔ ہندوستان نے اس کے انعقاد میں کیوں دلچسپی لی؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہندوستان کی یہ کوشش برحق ہے کہ افغانستان کی سر زمین دہشت گردی یا دہشت گردانہ سرگرمیوں کا اڈہ نہ بنے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جب تک افغانستان میںطالبان برسر اقتدار نہیں آئے تھے ان کے ساتھ جو بات بھی ہوتی تھی اس میں ہندوستان کو شامل نہیں کیا جاتا تھا مگر اب جبکہ افغانستان میں ایک حکومت قائم ہے اور اس کے پاکستان کے ساتھ روابط بڑھ رہے ہیں تو ہندوستان کا زیادہ سرگرم ہونا فطری ہے۔ ہندوستان یوں بھی اس فکر میں رہا ہے کہ طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد ارد گرد کے ملکوں اور علاقوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس طالبان حکومت کا کیا مستقبل ہوسکتا ہے جس کو بعض طاقتوں کے بقول افغانستان کے تمام طبقوں اور فرقوں کا اعتماد حاصل نہیں ہے؟ پاکستان تو اسی بات کو دہرا رہا ہے کہ افغانستان میں ہندوستان کا کردار ٹھیک نہیں رہا ہے۔ یہ ایک طرح سے طالبان کو ہندوستان کے خلاف بھڑکانے کی کوشش ہے۔ پاکستان نے ’’دہلی ڈائیلاگ‘‘ کے نہج پر بات چیت کے ایک اور اہتمام کا اعلان کرکے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ وہ صف آرائی کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اس موقع پر اگر پاکستان اپنے افسروں کو دہلی بھیجتا تو ۲۰۱۶ء کے بعد ہندوستان پاکستان میں ایک اور اعلیٰ سطحی بات چیت ہوتی اور غلط فہمی کے ازالہ کی نئی راہ استوار ہوتی مگر پاکستان نے اپنے افسروں کو بھیجا نہ دونوں ملکوں کی اعلیٰ سطحی گفتگو ہوئی۔
  دہلی مذاکرات کے ختم ہوتے ہی افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی پاکستان کے دورہ پر گئے جہاں انہوں نے ایک انسٹی ٹیوٹ کے پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے اور کچھ دوسرے موقعوں پر سوالات کے جواب دیتے ہوئے جو باتیں کہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی معاشرہ کابل سے کیا چاہتا ہے اور افغانستان کی طالبان حکومت اس کی توقعات کو پورا کرنے سے کیوں انکار کررہی ہے۔
 ایک معاملہ خواتین کی ملازمت کا ہے۔ طالبان وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جب سے ان کی حکومت تشکیل پائی ہے نہ تو کسی خاتون کو ملازمت سے روکا گیا ہے نہ ہی کسی خاتون کو ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے۔ لڑکیوں کے اسکولوں میں تعلیم جاری نہ ہونے کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کا جامع منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ لڑکیوں کے اسکول کے بند ہونے کے سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ ۲؍ لاکھ اساتذہ پیشۂ تدریس سے وابستہ ہیں اور ان سب کو تنخواہیں دینی ہیں۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ ان کی تنخواہ ہم ادا کریں گے۔ ان دونوں باتوں سے ان الزامات کی تردید ہوتی ہے کہ طالبان خواتین کی ملازمت اور لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے کے مخالف ہیں۔
 ایک دوسرا معاملہ حکومت میں تمام طبقوں کو نمائندگی دینے کا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ’’ان کی حکومت میں تمام طبقوں کی نمائندگی ہے۔‘‘ رہی بات سیاسی مخالفین کو نمائندگی دینے کی تو ان کا موقف ہے کہ جو لوگ بیس برس تک ہمارے خلاف لڑتے رہے ہیں ان کو نئی حکومت میں کیسے شریک کیا جاسکتا ہے؟ طالبان وزیر خارجہ نے اس سلسلے میں ایک سوال بھی کیا کہ کیا جو بائیڈن اپنی حکومت میں ڈونالڈ ٹرمپ کو شامل کرسکتے ہیں؟ اسی طرح ان فوجیوں کی طالبان فوج میں شمولیت کا معاملہ بھی ہے جو اشرف غنی کی فوج میں شامل تھے مگر جنہوں نے آخری لمحے میں ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ کابل حکومت کا موقف ہے کہ اس کو ایک بہت مختصر فوج کی ضرورت ہے جس میں صرف مخلص، پر عزم اور محب وطن شامل ہوں گے۔ یہ نقطہ نظر معقول ہے مگر ایک تویہ کہ سابق حکومت کے فوجیوں کو بھی روزی روٹی کی ضرورت ہے اور دوسرے یہ کہ وہ طالبان حکومت اور فوج میں جگہ نہ پانے کے سبب ’داعش‘ میں شامل ہورہے ہیں، ان کی بازآباد کاری کی ضرورت ہے۔ طالبان حکومت نے اس سوال پر توجہ نہیں دی ہے۔
 ہندوستان کے جو خدشات ہیں وہ غلط نہیں ہیں مگر اس کو ان حقائق کی طرف بھی توجہ کرنا چاہئے جو متعدد رپورٹوں یا طالبانی وزیر خارجہ کے بیانات سے منکشف ہوئے ہیں۔ طالبان اور پاکستان کی قربت سے تمام پڑوسی اور جنوبی ایشیائی طاقتوں کا چوکنا ہونا ضروری ہے مگر ان حقائق پر بھی توجہ کرنا ضروری ہے جن سے طالبان ہی نہیں دوسرے ممالک بھی دوچار ہیں۔ اگر ’’داعش‘‘ مضبوط و سرگرم ہوتا ہے اور اس میں اشرف غنی کے سابق فوجیوں کے اختیارات میں اضافہ ہوتا ہے تو کیا اس سے دوسرے ممالک چشم پوشی کرسکتے ہیں؟n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK