اختر جمال: اے ستم ایجاد دُنیا دیکھ مَیں رویا نہیں

Updated: June 30, 2020, 8:31 AM IST | Hamid Iqbal Siddiqui

کورونا کی دہشت اور لاک ڈاؤن کی ہولناکیوں کے بیچ لگاتار دور اور قریب کے واقف کاروں کی اموات کی خبریں وحشت زدہ کئے ہوئے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ صدمات کا یہ سلسلہ کب اور کیسے تھمے گا

Akhtar Jamal
اخترجمال جو ناکامی کے احساس کو شعر میں ٹھونس کر پھر بے ترتیبی سے جینے لگتا

کورونا کی دہشت اور لاک ڈاؤن کی ہولناکیوں کے بیچ لگاتار دور اور قریب کے واقف کاروں کی اموات کی خبریں وحشت زدہ کئے ہوئے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ صدمات کا یہ سلسلہ کب اور کیسے تھمے گا۔ ۲۶؍ جون کی صبح اطلاع ملی کہ پیارے دوست اور بہت اچھے شاعر اختر جمال کا انتقال ہوگیا۔ کسی اپنے کی موت کی خبر عموماً بے یقینی کی سی کیفیت میں مبتلا کردیتی ہے، اختر کی موت کا بھی تو یقین نہیں آرہا۔ چالیس بیالیس برس کا ساتھ چھوڑ کر یوں اچانک کوئی کیسے چلا جاتا ہے۔ دس دنوں پہلے اس نے وہاٹس ایپ پر کورونا سے دفاع کے لئے کاڑھے کا نسخہ لکھ بھیجا، جواب میں میں نے لکھا تھا ’’شاعر صاحب، نسخہ نہیں تازہ غزل بھیجو‘‘۔ میں مذاقاً اسے شاعر صاحب کہا کرتا تھا، میں نے مزید چھیڑا کہ چلو تمہاری صدارت میں آن لائن مشاعرہ کرلیتے ہیں۔ وہ خاموش رہا، مجھے انداز ہ نہیں تھا کہ وہ خاموشی دائمی ہوجائے گی۔ اسی دن اس نے اپنی ننھی سی نواسی کا ایک ویڈیو بھی فارورڈ کیا تھا جس میں اس بچی نے کہا تھا: ’’ایک تھا اختر جمال۔۔۔۔۔ وہ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔۔‘‘ اور پھر بچی نے لاک ڈاؤن کی اہمیت اور سوشیل ڈسٹینسنگ کی تلقین پر ویڈیو ختم کیا تھا۔ شاید اختر ہی نے اسے ریکارڈ کیا تھا۔ تو کیا یہ پیش گوئی تھی؟ کیا اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ خود کورونا کا شکار ہوکر دنیا سے رخصت ہونے والا ہے؟
 چار دہائیوں پر محیط ان گنت واقعات، خوشگوار اور تلخ باتیں، قہقہے، غصہ، اپنائیت، محفلیں، تفریحات سب کچھ چھوڑ کر چلا گیا اختر جمال۔ شاید میں اس کا سب سے پرانا دوست تھا، کالج کے زمانے میں مدنپورہ میں اس سے اتفاقیہ ملاقات ہوگئی تھی۔ ان دنوں وہ ہر جمعہ کو بھیونڈی سے ممبئی آجاتا تھا اور ہم گھنٹوں سڑکوں پر بھٹکتے پھرتے تھے، میلوں پیدل چلتے اور اس دوران نہ جانے کن کن موضوعات پر باتیں ہوتیں۔ کبھی فی البدیہہ شعر کہتے، کبھی کسی نشست کا منصوبہ بناتے۔ مجھے اس نے بتایا تھا کہ وہ اپنے کلام پر والی آسی صاحب سے اصلاح لیتا ہے پھر کچھ عرصے بعد قیصر الجعفری صاحب کو اپنا کلام دکھانے لگا تھا۔ یہ وہ دن تھے جب ممبئی کے نئے شاعروں ادیبوںکا خاصا بڑا حلقہ بن گیا تھا جس میں میرے اور اختر کے علاوہ عرفان جعفری، قاسم امام، شاہد لطیف، احمد منظور، محبوب عالم غازی، اقبال نیازی، اسلم پرویز، اسلم خان، جاوید ندیم، مظہر سلیم، وقار قادری، م ناگ، اور بھی کئی نوجوان تھے۔ ہم سب اکثر کرلا میں بیٹھا کرتے تھے اور اختر اتنی طویل مسافت طے کرکے احباب سے ملنے پابندی کے ساتھ آتا تھا۔
 بھیونڈی کے پاور لوم کی صنعت کے کسی شعبے سے وابستگی کے سبب اس کے مالی حالات ہمیشہ بہت اچھے رہے تھے، بلکہ کچھ عرصہ تو نہایت آسودگی سے بھی گزرا تھا، وہ بہت لحیم شحیم ہوا کرتا تھا، تب وہ اچھے خاصے مشاعرے خود اپنے اخراجات سے منعقد کرنے لگا تھا۔ ان مشاعروں میں ممبئی کے کئی اہم شعراء شریک ہوتے رہے جن میں ندا فاضلی، قیصر الجعفری، ظفر گورکھپوری، رفیعہ شبنم عابدی، ارتضیٰ نشاط، عبداللہ کمال، سعید راہی، ممتاز راشد، حسن کمال، ندیم صدیقی، جاوید ناصر، عبدالاحد ساز وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اس نے کئی احباب کے لئے اعزازی نشستیں برپا کیں اور ان پر بھرپور خرچ کیا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب اس نے توقع کی کہ احباب اس کے اعزاز میں بھی کوئی محفل برپا کریں گے۔ کچھ ساتھیوں سے شاید اس نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا اور ان میں سے چند نے مالی منفعت کی غرض سے جشن ِاختر جمال کا اعلان کر دیا اور مینا تائی ٹھاکرے ہال بھی بُک کر دیا، اس کے بعد وہ لوگ طرح طرح کے بہانے تراشنے لگے۔ اختر بہت پریشان تھا کہ اعلان ہوچکا ہے، اگر جشن نہیں ہوا تو بڑی سُبکی ہوگی، بہر حال چند لوگوں کو جوڑ کر ہم نے اس کا جشن منایا۔ اختر بہت خوش تھا، جشن کی تصاویر اور ویڈیو ہی نہیں بلکہ اس میں پہنے ہوئے جیکٹ اور کرتے پاجامے کو بھی وہ بہت سنبھال کر رکھے ہوئے تھا۔
 اختر جمال اپنی تمام بے ترتیبیوں کے ساتھ انتہائی خوش وخرم زندگی گزار رہا تھا۔ سنجیدگی تو صرف غزل کی حد تک تھی ورنہ بے فکرا، ہنستا مسکراتا، جملے کستا اور فیض احمد فیض کی طرح مٹھی میں بھر کر سگریٹ کے سُٹّے لگاتا۔ وہ عمدہ اور مرغن کھانوں اور میٹھی چائے کا شوقین تھا۔ عام شاعروں کی طرح تصوراتی عشق کا شکار بھی رہتا تھا، کبھی کسی سے اپنا غم شیئر نہیں کرتا تھا، ہر دکھ اپنے اندر گھونٹ لیتا تھا، خود کو ترتیب دینے میں ناکامی کے احساس کو شعر میں ٹھونس کر پھر بے ترتیبی سے جینے لگتا۔ ظاہر ہے کہ ان تمام باتوں سے عارضۂ قلب اور ذیابیطس جیسے امراض تو ہونے ہی تھے سو ہوئے۔ مشاعرے پڑھنے کا بہت شوق تھا اسے اور اکثر اس بات سے شاکی بھی رہتا تھا کہ مقامی مشاعروں میں اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اسے میں بہت سمجھاتا تھا کہ تم اچھے اور معیاری شاعر ہو، مشاعروں کے چکر میں پڑ کر عامیانہ ہو جاؤ گے، مزے کی بات یہ ہے کہ جب کسی مشاعرے میں بلایا جاتا تو وہ ایسے کلام کا انتخاب کرتا تھا جو وہاں بیٹھے عام لوگوں کے پلّے ہی نہ پڑتا۔ وہ یاروں کا یار تھا، دوستوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیتا، ان کے ساتھ گھومتا پھرتا، ممبئی سے کوئی لکھنے پڑھنے والا بھیونڈی جاتا تو وہ ’’بائے ڈیفالٹ‘‘ اختر جمال ہی کا مہمان ہوتا۔ کاروبار پر برائے نام توجہ دیتا تھا اور اپنے ملازموں پر پورا اعتماد رکھتا تھا۔ اس نے ادیبوں اور شاعروں کے رویوں سے بے زار ہوکر کئی دوسرے دوست پال لئے تھے جن کے ساتھ وقت گزاری سے اس کے بے ترتیبانہ مزاج کو کچھ سکون سا ملتا تھا۔
 پھر اچانک چند برس قبل اس کی زندگی میں ایک بھیانک طوفان آگیا۔ ازدواجی زندگی انتشار کا شکار ہوگئی۔ کاروبار کو اسکے ہی ایک ملازم نے ہتھیا لیا اور پھر ایک دن ا س کے جوان العمر بیٹے کی حادثاتی موت اور مقدمات نے اسے توڑ کر رکھ دیا۔ بڑا سخت جان تھا وہ کہ اس بھیانک طوفان کو جھیل گیا۔ خود اس نے ہی ایک شعر میں یہ بات کہی:
اپنا سب کچھ کھودیا، پر حوصلہ کھویا نہیں
اے ستم ایجاد دنیا، دیکھ میں رویا نہیں
 وہ چاہتا تھاکہ اس کا شعری مجموعہ شائع ہوجائے۔ بیرونِ ہند مشاعرہ پڑھنے کا بھی بڑا ارمان تھا اُسے۔ میں نے کئی بار کہا ’’شاعر صاحب پاسپورٹ تو بنوالو‘‘ لیکن اس کی اُلجھنوں نے ممکن ہی نہیں ہونے دیا۔ گزشتہ سال وہ لال قلعے کے مشاعرے میں بلوایا گیا تھا۔ اس بات سے وہ اتنا خوش تھا کہ دعوت نامہ ملنے والے دن سے دلی ّ جانے تک، روز مجھے فون کرکے چند شعر سناتا اور پوچھتا ’’یہ سناؤں کیا؟‘‘ مجھے نہیں معلوم وہاں اس نے کیا سنایا۔
  اختر جمال نے ایک بڑا کام یہ کیا تھا کہ بیٹی کی شادی کروادی تھی ورنہ گھریلو ذمے داریوں کا سلیقہ کب تھا اسے۔ ممتاز اس کے بچپن کا ایک ساتھی ہے، وہ صرف ممتاز سے یا مجھ سے اپنے متعلق کھل کر بتادیا کرتا تھا۔ اس کے باوجود بہت سے بھید وہ اپنے ساتھ لے گیا۔ میں اس کی بعض حرکتوں کے سبب اس پر ناراض ہوا کرتا تھا لیکن وہ صرف مسکرا دیتا۔ اس نے کبھی برا نہیں مانا، شاید وہ چاہتا تھا کہ ایک ہی بار بُرا مانے اور اس طرح کہ ہمیشہ کے لئے منہ موڑ لے، صرف مجھ سے نہیں بلکہ اس پوری دنیا سے جو ’’شاعر صاحب‘‘ کے جینے کے ڈھب کی شاکی رہتی تھی۔ کورونا کی میت کی تدفین اور نعش کے’’ کفنائے جانے‘‘ کا عمل بھی بھیانک ہی ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ اس کی نعش شاکی دنیا سے یہی کہہ رہی ہوگی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK