اخترالایمان: آباد خرابے کا باسی، ایک ضدی لڑکا

Updated: March 15, 2020, 3:24 PM IST | Muzaffar Hussain Sayed

فراقؔ نے کیا کاٹ دار جملہ لکھا ہے، وہ بھی ۷۲؍برس پہلےکہا تھا کہ نئے شاعروں میں اگر سب سے گھائل کسی کی آواز ہے تو وہ اخترالایمان کی ہے۔

Akhtarul Iman - Pic : Rekhta
اخترالایمان ۔ تصویر : ریختا

فراقؔ نے کیا کاٹ دار جملہ لکھا ہے، وہ بھی ۷۲؍برس پہلےکہا تھا کہ نئے شاعروں میں اگر سب سے گھائل کسی کی آواز ہے تو وہ  اخترالایمان کی ہے۔
شاید یہ جملہ فراقؔ ہی لکھ سکتے تھے کہ اخترالایمان کے کلام کی داد دینا اتنا آسان نہ تھا۔ آج پون صدی بعد جب کہ اخترالایمان نام کا مضطرب و بے چین فطرت شاعر اپنا ادبی سفر تمام کرکے منظر نامے سے غائب ہوچکا، تب بھی اس ہر دم جواں، ہر دم رواں شعلہ رقم کی سخنوری پر رائے زنی سہل نہیں۔ خصوصاً راقم الحروف جیسے عامیوں کے لئے، جنھیں نہ شعر کی فہم ہے، نہ نظم سے کوئی اُنس و رغبت۔ شعر و شاعری سے گر ذرا بہت شغف ہے بھی تو غزل کی حد تک، البتہ پسند ناپسند کا حق ہر صاحبِ رائے کو ہے اور یہاں رائے کا صائب ہونا بھی شرط نہیں، کہ قلمروئے ادب کے ہر شہری کو نہ صرف اظہارِ رائے کا جمہوری حق حاصل ہے بلکہ فقرہ بازی کا بھی۔ اسی حق آزادی کے تحت اس حقیر نے یہ مضمونچہ تحریر کیا ہے جس میں  اخترالایمان کے شعری کمالات کا محاکمہ ہرگز مقصود نہیں، یہ بے وقعت تحریر اگر کچھ ہے تو محض ایک تاثراتی نگارش، جو کم و بیش موصوفِ ممدوح کی شخصیت کا احاطہ کرنے کی دعویدار ہوسکتی ہے، وہ بھی بساط بھر۔
اولاً یہ اعتراف کہ اخترالایمان جیسے عہد ساز نظم گو شاعر سے اس نارسا کی کوئی باقاعدہ راہ و رسم نہیں تھی، قابلِ ذکر شناسائی بھی نہیں، البتہ انھیں دیکھنے اور سننے کا شوق ضرور تھا۔ — طلبِ علم  و اشتہائے علم کے اس دور میں جب کہ آتش جواں بھی نہیں، نوجوان بھی نہیں بلکہ نوجوانی کی دہلیز پر تھا، اور ہر نمایاں ادبی شخصیت سے متعارف و مستفید ہونے کا شوق نہیں، جنون تھا اور اس (ذوق نہیں) شوق کی تکمیل دانش گاہِ سیّد کی پُربہار ادبی فضا میں کچھ بہت مشکل بھی نہیں تھی،  آئے دن ادبی مشاہیر وارد ہوتے رہتے تھے۔ ان کے دیدار کا ارمان پورا ہوتا اور شاذ و نادر ہی سہی گفتگو (بلکہ سوال و جواب) کا موقع بھی مل جاتا تھا۔ یادش بخیر، یہ قصّہ آج سے چار پانچ دہائی قبل کا ہے جب ٹیلی ویژن کی آمد نے کتابوں کو ناپید نہیں کیا تھا، نیز ادبی محفلیں ہنوز گرم تھیں۔ 
علی گڑھ میں ہمارا ایک ادبی طائفہ تھاجس کے اشغال کا محور صرف اور صرف تبادلۂ خیال تھاجو ہمیشہ ہی بحث و مباحثہ کا رُخ اختیار کر لیتا تھا۔ ان سرِ شام کی محفلوں میں اخترالایمان کا ذکر اکثر ہوتا تھا۔ پھر ایک دن احاطۂ دانش گاہ میں غلغلہ ہوا کہ اخترالایمان چند روزہ نجی دورے پر تشریف لانے والے ہیں۔ اُن کی آمد کی بنیادی وجہ تو یہ تھی کہ ان کی اولادیں علی گڑھ میں زیرِ تعلیم تھیں، نیز ان کے حبیبِ دیرینہ خورشید الاسلام شہرِ اردو کے امیر تھے۔ اصلاً تو وہ صدرِ شعبۂ اردو تھے، مگر عملاً تمام تر اردو معاملات کے سیہ و سپید پر قادر تھے۔ نیز ادبی سرگرمیوں کے تمام تر حقوق ان کے نام محفوظ تھے۔خیر صاحب! اخترالایمان تشریف لائے اور کئی محفلوں میں جلوہ گر ہوئے۔ ہمارا ادبی طائفہ شہ زوری و سرکشی کے بل پر ہی سہی ان محفلوں کا حصّہ بنا۔ یہ ہم سب کے لئے اخترالایمان نام کے نامور شاعر و کامیاب فلمی مکالمہ نگار کی اوّلین رونمائی تھی  (شناسائی یا ملاقات نہیں)۔کئی عدد محفلیں برپا ہوئیں، شعبۂ اردو میں، اسٹاف کلب میں اور یونیورسٹی لٹریری کلب میں جہاں اس نارسیدہ کو ان کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے کئی نظمیں (ہر محفل میں مختلف) عنایت فرمائیں جن میں سے فی لمحہ ’ایک لڑکا‘، ’یادیں‘ اور’ باز آمد‘ کی گونج ابھی تک ذہن میں برقرار ہے۔ اس کے علاوہ فکر انگیز اور عمیق فہم و وسیع فراست کی حامل  بامعنی اور کار گر گفتگو بھی کی۔ 
حق یہ ہے کہ ہم جیسے بد ذوق کو ان کی شاعری سے زیادہ لُطف اُن کی گفتگو سے حاصل ہوا اور ہمارے پورے طائفے نے تسلیم کر لیا کہ اخترالایمان شاعرہی نہیں دانشور بھی ہیں۔ انھوں نے کئی انکشافات بھی کئے ، مثلاً یہ کہ میراؔ جی ان کے کبائر میں نہیں اصاغر میں شامل تھے، نیز رسالہ ’خیال‘ اُن کی ملکیت نہیں تھا بلکہ اخترصاحب اس کے مالک و ناشر تھے اور میراؔ جی صرف اس کے مدیر تھے۔ یہ بات بھی یوں نکلی کہ ایک طالبِ علم نے ان سے یہ سوال کر ڈالاکہ آپ کی شاعری پر میراؔ جی کا اثر کس قدر ہے؟ انہوں نے کسی قسم کی اثر پزیری سے انکار کیا اور فرمایا کہ آپ غور کریں تو میری اور میرؔا جی کی شاعری کے رنگ ، آہنگ نیز متن میں نمایاں فرق ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس ٹیڑھے سوال کا جواب انہوں نے بڑی خندہ پیشانی اور سکون سے دیا، نہ برہم ہوئے نہ منغبض۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ انھیں میراؔ جی سے ایک خاص قسم کا اُنس تھا(بلکہ محبت تھی)جس کا ثبوت یہ کہ میراؔ جی کی رخصت کے برسوں بعد انہوں نے ان کا مجموعہ ’سہ آتشہ‘ اپنی جیب ِ خاص سے شائع کیا۔ کچھ سوالات فلموں سے متعلق بھی ہوئے کہ تب تک فلم  ’وقت‘ کے تذکرے برقرار تھے، ’آدمی اور انسان‘کا حوالہ تازہ تھا اور ’ضمیر‘ کا انتظار تھا۔ ان (دراصل مہمل) سوالات کے جوابات بھی انہوں نے بڑی سادگی سے  دیئے، اُن کی اس بُرد باری نے ہم سب کو متاثر کیا۔
 اس سے قبل ہم نے اخترالایمان کی صرف چند سیاہ، سفید (اور دھندلی) تصاویر دیکھی تھیں۔ (لیتھو کا دور تھا، عکسی طباعت ابھی عام نہیں ہوئی تھی اور اخبارات و رسائل سے رنگ ابھی دور تھے)، اس لئے، انہیں بالمشافہ ، مجسّم دیکھنے کا اشتیاق تو تھا ہی۔ پہلی نظر میں وہ کچھ بہت بھائے نہیں۔  ناک نقشہ موٹا بلکہ بھدا، آنکھیں بہت کشادہ نہیں بلکہ چھوٹی مگر تابناک، ذہانت سے روشن، نیز عینک سے محفوظ، مجروحؔ صاحب کی طرح ان کی شناخت ایک دھوئیں دار پائپ تھا جو کبھی منہ میں، کبھی ہاتھ میں اور کبھی دونوں میں مگر پتا نہیں کیا بات تھی کہ ان کی شخصیت میں دم تھا۔ کل ملا کر یاروں نے انہیں پسند کیا۔ اس کے بعد بھی ایسی اور اُس جیسی محفلیں چند برسوں میں بارہا برپاہوئیں۔ مشاعروں میں دور کا جلوہ بھی دِکھائی دیا اور ٹی وی کی آمد و حکمرانی کے بعد تو ان کے جلوے عام ہوگئے۔ ادبی منزلت میں گونا گوں اضافہ ہوا، انعامات و اکرامات سے بھی سر فراز کئے گئے اور شاید ان کی یہ شکایت بھی دور ہوگئی کہ شاعری کرتے چالیس برس گزر گئے اور کسی نے پوچھا بھی نہیں ۔ اب ہر طرف پوچھ ہی پوچھ تھی۔
اس ضمن میں ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ ان دنوں تک یہ چرچا عام تھا کہ مولاناآزاد نے اخترالایمان کے نام پر اعتراض کیا تھا کہ یہ نام ہی غلط ہے، بہ اعتبارِ قواعد۔قصّہ یہ تھا کہ آلِ احمد سرورؔ صاحب نے جب اُردو شاعری یا نظم کا ایک انتخاب ترتیب دیا تو قبل از اشاعت اس وقت کے وزیرِ تعلیم اور ساہتیہ اکادمی کے سرپرست مولانا ابوالکلام آزاد کی خدمت میں برائے ملاحظہ پیش کیا، تو مولانا نے یہ جملۂ معترضہ داغ دیا کہ اس شاعر کا تو نام ہی غلط ترکیب پر مبنی ہے، تاہم سرور صاحب نے حاضر دماغی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ دلیل پیش کی علامہ شبلی نعمانی پر جس جامع مضمون کے آپ مدّاح ہیں اس کے مصنّف کا نام خورشید الاسلام بھی تو غلط ہے۔ یہ وہی معرکۃ الآراء مضمون ہے جس میں خورشید الاسلام نے یہ زبردست جملہ لکھا تھا کہ ’’شبلی وہ پہلے یونانی تھے جو ہندوستان میں پیدا ہوئے۔‘‘ (تنقیدیں، خورشید الاسلام) اس دلیل کا اثر یہ ہوا کہ مولانا (بادلِ ناخواستہ ہی سہی) خاموش ہوگئے اور معاملہ رفت گزشت ہوگیا۔ (اس واقعے کی سند خود سرورؔ صاحب کے ایک مضمون سے ملتی ہے) یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ مولانا کے اعتراض کے بعد اخترالایمان نے سرِ تسلیم خم نہیں کیا بلکہ مولانا کی رائے کے استرداد، نیز اپنے نام کی صحت کے دفاع میں ایک باقاعدہ نظم بہ عنوان ’میرا نام‘ کہی جس میں انتہائی معرّب و مفرّس الفاظ میں اپنا موقف بیان کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل اختر صاحب کے اسکول میں داخلے کے وقت بھی اسکول کے پرنسپل نے ان کے نام پر اعتراض کیا تھا جس کا برجستہ جواب انہوں نے یہ دیا تھا کہ ’’نام غلط ہے مگر میں کام غلط نہیں کرتا‘‘ ۔ اس مردم شناس مدرّس نے صرف مُسکرا کر بات ختم کردی تھی اور ان کا داخلہ ہوگیا تھا۔ (مضمون کا دوسرا حصہ آئندہ ہفتے شائع ہوگا)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK