یا اللہ! ابوجہل اورعمرمیں سےجو تجھ کو زیادہ محبوب ہو اس سےاسلام کو تقویت عطا فرما

Updated: June 19, 2020, 4:08 AM IST | Maolana Nadeemul Wajidi

گزشتہ ہفتے ان کالموں میں حضرت جعفرؓ طیار کی بادشاہ نجاشی کے سامنے تقریر کی تفصیل پیش کی گئی تھی جس کے بعد بادشاہ نے مسلمانوں کوپناہ دے دی تھی۔ آج کی قسط میں پڑھئے: نجاشی کی مسلمانوں سے محبت اور ان کے تئیں فکرمندی ، اس کا اسلام قبول کرنا ، مسلمانوں کی حبشہ سے مدینہ منورہ واپسی ، نجاشی کے انتقال کی خبر اور نبی کریم ﷺ کا نجاشی کے لئے دعائے مغفرت کرنا۔ اس کے علاوہ حضرت عمر ؓ بن الخطاب کے قبول اسلام سے متعلق چند باتیں

Makkah Sharif - PIC : INN
مکہ شریف ۔ تصویر : آئی این این

حبشہ میں مسلمانوں کے قیام کے دوران ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس سے مسلمان بے چین ہوگئے، کسی شخص نے بادشاہ کے خلاف بغاوت کردی، حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ بغاوت کی خبر سن کر ہم پریشان ہوگئے، اور ہمیں اس قدر رنج ہوا کہ آج سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ مسلمانوں کا پریشان ہونا فطری تھا، وہ اپنا محبوب وطن چھوڑ کر دیار غیر میں آپڑے تھے۔ یہاں نجاشی ہی ان کا مددگار تھا۔ پوری مملکت میں عیسائی تھے جو مسلمانوں کی موجودگی کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے تھے، صرف بادشاہ کی وجہ سے خاموش تھے، مسلمانوں کے اضطراب کی اصل وجہ تو خود نجاشی کی شخصیت تھی، وہ نہایت اچھے انسان تھے، اپنی رعایا کا خیال رکھتے تھے، مسلمانوں کو انہوں نے زندگی کی تمام سہولتیں اور آسائشیں فراہم کر رکھی تھیں، مسلمان یہاں آکر مطمئن تھے، اور آرام کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ اس بغاوت کے نتیجے میں اگر نجاشی کو شکست ہوگئی تو مسلمانوں کیلئےیہاں رہنا مشکل ہوجائے گا، باغیوں سے لڑنے کے لئےنجاشی محاذ جنگ پر چلے گئے۔ ہمارے اور محاذ جنگ کے درمیان دریائے نیل حائل تھا، محاذ جنگ سے کوئی خبر نہیں آرہی تھی، تمام مسلمان بے چین تھے اور نجاشی کی فتح وکامرانی کے لئے دل سے دُعا کررہے تھے۔
 حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ بعض صحابہؓ نے کہا کہ کیا کوئی ایسا شخص بھی ہے جو محاذ جنگ پر جائے اور وہاں کی خبر لے کر آئے؟ حضرت  زبیر بن العوامؓ نے کہا میں وہاں جاؤں گا۔ لوگ حیرت سے کہنے لگے، تم جاؤگے؟ حیرت کی وجہ یہ تھی کہ زبیر بہت چھوٹے تھے، جب ہم نے ان کا ارادہ مستحکم دیکھا تو ان کے لئے ایک مشکیزہ تیار کیا گیا جس میں ہوا بھری گئی، اس مشکیزے کو زبیرؓ نے اپنے سینے سے باندھ لیا اور دریائے نیل میں اتر گئے۔ تیرتے ہوئے وہ محاذ جنگ تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہوگئے، ہم سب اللہ سے  دعا کرتے رہتے تھے کہ اے اللہ! نجاشی کو اپنے دشمنوں پر غالب کردے اور انہیں اپنے ملک کا بادشاہ بنائے رکھ۔ ایک روز ہم کسی خبر کے منتظر بیٹھے ہوئے تھے کہ دور سے زبیرؓ آتے ہوئے نظر آئے، انہوں نے کہا: تم سب لوگوں کے لئےخوش خبری ہے، اللہ نے نجاشی کو کامیابی عطا کردی ہے اور ان کے دشمن کو ہلاک کردیا۔ حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں ہم یہ خبر سن کر اس قدر خوش ہوئے کہ اس سے قبل ہم کبھی اس قدر خوش نہیں ہوئے تھے، ہم نجاشی کے پاس اچھی طرح رہتے رہے یہاں تک کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی توفیق ہوگئی۔ 
(سیرۃ ابن ہشام: ۱/۲۳۷)
lمسلمانوں کے تئیں نجاشی کی فکر مندی و ہمدردی:
اسی واقعے سے ایک واقعہ یہ بھی جڑا ہوا ہے کہ حبشہ کے لوگ اس بات سے سخت ناراض تھے کہ بادشاہ نجاشی نے ملک کے اندر مسلمانوں کو پناہ دی ہے، نہ صرف یہ کہ پناہ دی ہے بلکہ ان کی خاطر اپنا دین بھی بدل لیا ہے، یہ ناراضگی اس قدر بڑھی کہ نجاشی کے خلاف بغاوت کے آثار پیدا ہوگئے۔ ان حالات میں بھی نجاشی کو مسلمانوں کی فکر تھی۔ انہوں نے حضرت جعفر ؓبن ابی طالب کو دربار میں بلایا اور ان سے کہا کہ آپ لوگوں کے لئےہماری کشتیاں تیار ہیں، ان پر سوار ہوجاؤ اور وہیں ٹھہرے رہو، اگر آپ لوگوں کو ہماری شکست کی خبر ملے تو جہاں جاسکتے ہو وہاں چلے جانا، اور اگر یہ اطلاع ملے کہ ہم نے بغاوت فرو کردی ہے تو ہمارے ملک میں ہی رہتے رہنا۔
 انہوں نے ایک پرچہ لکھا جس میںیہ الفاظ تھے کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور گواہی دیتا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اس کے بندے، اس کے رسول اور اس کی روح ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جس نے اسے مریم کے اندر ڈالا تھا، پھر اس تحریر کو اپنی قبا کے اندر دائیں کاندھے کے نیچے رکھ لیا۔ اس کے بعد میدان جنگ کی طرف نکلے، وہاں باغی ان کے خلاف مورچہ سنبھالے کھڑے ہوئے تھے، انہوں نے پوچھا: اے حبشہ کے لوگو! میرے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اور تم نے مجھے اپنے درمیان کیسا پایا ہے؟ انہوں نے ایک زبان ہوکر کہا آپ بہت اچھے بادشاہ ثابت ہوئے، آپ کا کردار، ہمارے ساتھ آپ کا سلوک اور معاملات سب بہت اچھے ہیں، انہوں نے پوچھا: پھر مجھ سے کیا غلطی ہوئی، آپ لوگوں میں یہ تبدیلی کیسے آئی، آپ میرے خلاف کیوں ہوگئے، کہنے لگے: آپ نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے اور آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بندہ سمجھتے ہیں، انہوں نے سوال کیا: آپ لوگ حضرت عیسیٰ کو کیا سمجھتے ہیں، لوگوں نے جواب دیا عیسیٰ علیہ السلام مریم کے بیٹے ہیں، نجاشی نے کہا کہ وہ گواہی دیتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم، بس یہیں تک کہا اور اپنے سینے پر اس جگہ ہاتھ رکھا جہاں وہ تحریر رکھی تھی، عوام سمجھے کہ نجاشی سینے پر ہاتھ رکھ کر ہماری تائید کررہے ہیں، جب کہ وہ تحریر کی طرف اشارہ کررہے تھے، اس طرح مسئلہ حل ہوگیا۔ لوگ خوش ہوکر واپس چلے گئے، اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی، جب ان کی وفات کی اطلاع پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے دعائے مغفرت فرمائی اور ان پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔ (صحیح البخاری: ۲/۸۸رقم الحدیث: ۱۳۲۷، صحیح مسلم: ۲/۶۵۷، رقم الحدیث:۹۵۲) دعائے مغفرت اور نماز جنازہ کی ادائیگی سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نجاشی کو مسلمان سمجھتے تھے اور عوام کے سامنے انہوں نے جو کچھ کیا اور کہا وہ محض بغاوت کو ختم کرنے کی ایک تدبیر تھی جس میں وہ کامیاب رہے۔
حضرت جعفرؓ بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ جب ہم حبشہ سے رخصت ہونے لگے تو بادشاہ نجاشی نے ہمیں سفر خرچ اورز اد راہ دیا، اور اپنے قاصد ہمارے ساتھ روانہ کئے اور کہا کہ جو سلوک میں نے تم لوگوں کے ساتھ کیا ہے اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور دینا اور یہ بھی بتلانا کہ میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، اور آپ سے یہ درخواست کرنا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت فرمائیں۔ حضرت جعفرؓ کہتے ہیں کہ ہم حبشہ سے نکل کر مدینہ منورہ پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گلے سے لگایا اور فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ آج مجھے فتح خیبر کی زیادہ خوشی ہے یا جعفرؓ کے آنے کی۔ پھر آپؐ اپنی جگہ تشریف فرما ہوئے، نجاشی کے قاصد نے کھڑے ہوکر عرض کیا: یارسولؐ اللہ! جعفرؓ یہاں موجود ہیں، آپؐ ان سے پوچھ سکتے ہیں ہمارے بادشاہ نے ان کے ساتھ کیسا معاملہ کیا۔ حضرت جعفرؓ نے کہا: بلاشبہ نجاشی نے ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا، چلتے وقت ہمیں سواری دی، زاد راہ دیا، اور یہ بھی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور آپ اللہ کے رسول ہیں، نجاشی نے یہ درخواست بھی کی ہے کہ آپ ان کے لئے مغفرت کی دعا کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ دعائیہ کلمات کہے: اللّٰہم اغفر للنجاشی،اس پر تمام حاضرین نے آمین کہا، حضرت جعفرؓ کہتے ہیں کہ میں نے قاصد سے کہا کہ تم واپس جاکر اپنے بادشاہ سے بتلا دینا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں کیا دعا کی ہے۔ (مسند البزار:۴/۱۵۹، رقم الحدیث: ۱۳۲۸، مجمع الزاوائد: ۹/۴۱۹، رقم الحدیث: ۱۶۱۸۵) نجاشی ایتھوپیا کے شمال میں واقع اپنے آبائی گاؤں میں دفن ہیں، اللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ان کی قبر کو نور سے معمور رکھے۔ 
lحضرت عمر بن الخطابؓ کا قبول اسلام:
یہ ذکر گزر چکا ہے کہ بہت سے مسلمانوں کے حبشہ چلے جانے کے بعد مکہ مکرمہ میں مسلمان عددی اعتبار سے زیادہ نہیں رہے، اِدھر قریش کا ظلم اور بڑھ گیا، اب انہیں اس بات پر غصہ تھا کہ بہت سے لوگ ان کے چنگل سے نکل کر حبشہ چلے گئے ہیں، وہ لوگ ان تارکین وطن کی واپسی کیلئےکوشاں تھے، اس سلسلے میں  بطور خاص دو ذمہ دار آدمی حبشہ کے فرماں روا نجاشی سے بات چیت کیلئے گئے تھے اور ناکام واپس آگئے تھے، مکہ مکرمہ میں بچے کھچے مسلمان چھپ چھپ کر نمازیں پڑھ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آرزو یہ تھی کہ ابوجہل بن ہشام اور عمر بن الخطاب میں سے کوئی اسلام لے آئے، کیوں کہ یہ دونوں مکہ مکرمہ کی اہم شخصیات میں شمار ہوتے تھے، قوم میں ان کے اثرات تھے، ان میں سے کسی ایک کے مسلمان ہونے سے اسلام کو کافی فائدہ ہوسکتا تھا۔
 اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: ’’اے اللہ! ابوجہل اور عمر بن الخطاب میں سے جو تجھ کو زیادہ محبوب ہو اس سے اسلام کو تقویت عطا فرما۔‘‘ (سنن الترمذی: ۵/۶۱۷، رقم الحدیث:  ۳۶۸۱، مسند احمد بن حنبل: ۹/۵۰۶، رقم الحدیث: ۵۶۹۵) 
دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح حضرت عمر بن الخطابؓ بھی اسلام دشمنی میں پیش پیش رہا کرتے تھے، ایک مرتبہ فرمایا: میں ابتداء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت مخالف تھا اور دین اسلام سے انتہائی متنفر رہتا تھا۔
جو کمزور لوگ اسلام قبول کرلیتے تھے، وہ حضرت عمرؓ کی سختیوں کا نشانہ بنتے تھے، ایک صحابیہ حضرت ام عبد اللہ بنت ابی حثمہؓ فرماتی ہیں کہ ہم لوگ ہجرت کرکے حبشہ جانے کی تیاری کررہے تھے، میرے شوہر عامرؓ کسی ضروری کام کے لئےگھر سے باہر نکلے ہوئے تھے، اتنے میں عمر بن الخطاب ہمارے گھر آگئے، مجھے تیاریوں میں مشغول دیکھ کر کہنے لگے: ام عبداللہ! کیا تم لوگ یہاں سے کہیں جارہے ہو۔ عمر بن الخطاب ان لوگوں میں سے تھے جو اسلام لانے کی بنا پر ہم لوگوں پر ظلم ڈھایا کرتے تھے اور تشدد کرتے رہتے تھے، میں نے جواب دیا: ہاں! خدا کی قسم! ہم اللہ کی زمین میں کسی جگہ چلے جائیں گے، تم لوگوں نے ہمیں بڑا ستایا ہے، بڑی تکلیفیں پہنچائی ہیں، امید ہے اللہ تعالیٰ ہمیں سکون و  راحت عطا کرے گا۔  عمر نے کہا: اللہ تمہارا مددگار ہو۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے، میں نے ان کے چہرے پر کرب اور غم کے اثرات دیکھے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے، کچھ دیر بعد عامر آگئے، میں نے ان سے کہا: ابو عبد اللہ! ابھی عمر آئے تھے، ان کے اوپر رقت طاری تھی جو میں نے اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی، ہجرت کی خبر سے وہ غمگین نظر آرہے تھے۔ 
وہ کہنے لگے کہ کیا تم ان کے اسلام کی امید رکھتی ہو، میں نے کہا ہاں، مجھے اس کی امید ہے، انہوں نے کہا خطاب کا گدھا ایمان لے آئے گا وہ نہیں لائیں گے۔ در اصل اسلام اور مسلمانوں کے لئےجو شدت اور نفرت ان کے دل میں تھی اور جس کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً کرتے رہتے تھے، اسے دیکھتے ہوئے حضرت عامرؓ نے مایوس ہوکر یہ بات کہی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK