ذہنی پریشانی سے نجات کا اسلامی حل

Updated: September 25, 2020, 12:14 PM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

ایک مثالی اور پُر امن زندگی گزار نے کے لئے ذہنی طور پر صحت مند ہونا ضروری ہے؛کیونکہ اگر ہم ذہنی طور پر صحت مند ہیں تو ہماری جسمانی، معاشرتی، سماجی، مذہبی اور دیگرحالاتِ زندگی پر اُس کا مثبت اثر مرتب ہوتا ہے

Mental Stress - Pic : INN
ذہنی پریشانی ۔ تصویر : آئی این این

ایک مثالی اور پُر امن زندگی گزار نے کے لئے ذہنی طور پر صحت مند ہونا ضروری ہے؛کیونکہ اگر ہم ذہنی طور پر صحت مند ہیں تو ہماری جسمانی، معاشرتی، سماجی، مذہبی اور دیگرحالاتِ زندگی پر اُس کا مثبت اثر مرتب ہوتا ہے اور ہم ترقی و کامیابی کے منازل طے کرتے ہیں؛ اس کے بر خلاف اگر ذہنی طور پر پریشان یا بیمار ہیں تو ہماری زندگی پر اس کا منفی اثر صاف نظر آتا ہے اور اس سے ہماری ترقی و کامیابی  یا تو رک جاتی ہے یا اس میں رفتہ رفتہ کمی آتی جاتی ہے۔ اس تعلق سے جب ہم انسانی زندگی کامطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ذہنی طور پر غیر صحتمندہونے یا پریشان ہونے کی مختلف وجوہات نظر آتی ہیں؛ کبھی یہ پریشانی جہاں جسمانی طور پر بیمار ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے وہیںکبھی میاں بیوی میں نااتفاقی کی وجہ سے ،کبھی اولاداور والدین کے درمیان غلط فہمی کی دیوار حائل ہونے کی وجہ سے اورکبھی کاموں کے بوجھ یا کاروبارمیںنقصان کی  وجہ سے بھی ہوتی ہے۔ بہر حال، ذہنی پریشانی کی وجہ جو بھی ہو،اہم بات یہ ہے کہ ہر صورت میں اُس کا علاج موجود ہے اور یہ علاج کبھی دوائی سے ممکن ہے تو کبھی ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کرکے اور کبھی افہام و تفہیم کے ذریعے تو کبھی مذہبی رہنمائی سے۔
زیرِ بحث موضوع کو جب ہم اسلا می نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ صاف نظر آتا ہے کہ ہر طرح کی ذہنی پریشانی کا حل اللہ تبارک و تعالیٰ سے مضبوط ربط میںہے، جسے ہم رو حانی طاقت کا نام دے سکتے ہیں۔درحقیقت یہی و ہ طاقت ہے جس سے ہمیں ذہنی سکون، روشن شعور اور مثبت فکر ملتی ہے۔ بلاشبہ بطورانسان ہمیںوقتاً فوقتاًمختلف ذہنی پریشانیوںکا سامنا ہوتا ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ہمیں ا پنی پریشانیوں کا بنیادی حل بھی ایک صالح اسلامی فکر سے مل جا تا ہے اور وہ فکر یہ ہے کہ ہم پریشانیوں کو اپنے اوپر حا وی نہ کرکے اِس بات پرغورکریںکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں کیوں بھیجا ہے اور ہماری اصل منزل کیا ہے۔یقینااِس فکرکو اگرہم نے اپنا اوڑھنابچھونا بنا لیا توہمیںتمام پریشانیاں اور الجھنیں چھوٹی معلوم ہوں گی اور ہماری زندگی میں استحکام اور حقیقی سکون کی ابتدا ء یہیں سے ہوجائے گی۔
اس کو ہم ایک آسان مثال سے اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کسی کو دوہزار کلو میٹر کا سفر کرکے اپنی منزل پر پہنچنا ہے اور وہاں پہنچ کر اپنی مطلوبہ اور پسندیدہ چیز اسے حاصل کرنی ہے تو وہ اِس سفر کے دوران پیش آنے والی تمام دشواریوں کو بآسانی جھیل لے گا کیونکہ راستے کی  رکاوٹوں میں الجھ کر نہ ہی وہ اپنی منزل کھونا چاہے گا اورنہ ہی مقصد۔ بعینہ چونکہ ہمارا ہدف رضائے الٰہی اور ہماری منزل جنت الفردوس ہے ، اس لئے ہمیں بھی اس سفر میں پیش آنے والی کسی بھی پریشانی میں الجھنے کے بجائے صرف ہدف اور منزل پر نظر رکھنی چاہئے؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ہدف اور منزل دونوںہی  سے دور ہوجائیں۔
  چونکہ کسی بھی ذہنی پریشانی کا حل رب سے مضبوط ربط میں ہے ، اسی وجہ سے ایسے لوگ جن کا ربط اپنے رب سے کمزورہے جب وہ کسی ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیںتو وہ اپنے آپ کوتنہا محسوس کرتے ہیںاوربے یارو مددگارپاتے ہیں اور اس کے نتیجے میںان کی پریشانی میںروز بروز اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کے برخلاف جس کا ربط اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہوتا ہے،وہ کسی بھی ذہنی پریشانی کا مقابلہ بہادری سے کرتاہے؛کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ہر پریشانی کودورکرنے والے کی مدد اسے حاصل ہے۔ اس طرح کی سوچ رکھنے والوںکی زندگی جلد ہی دشوارکن مراحل سے گزرکرپٹری پرلوٹ جاتی ہے۔اللہ رب العزت اپنے سے مضبوط ربط رکھنے والوں کے تعلق سے فرماتے ہیں: ’’جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا ۔اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو، جو اللہ پر بھروسا کرے اس کے لئے وہ کافی ہے ، اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے ۔‘‘ (سورہ الطلاق:۲۔۳) اس آیت کریمہ سے صاف واضح ہے کہ پریشانی سے باہر نکالنے والے اللہ ہی ہیں اور اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو کسی بھی چیز سے خوف کھانے کے ضرورت نہیں ہے۔
ذہنی پریشانی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم نکتہ جو ہمیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہمیں کسی پریشانی کا سامنا ہو تو ہم صبر کو اپنا ہتھیار بنا لیں، کیونکہ یہ وہ ہتھیار ہے جس سے نہ صرف یہ کہ پریشانی کی شدت میں کمی محسوس ہوتی ہے بلکہ اس کو ا پنانے سے اللہ کی مدد کا پروانہ بھی ملتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بلا شبہ اللہ صبر کر نے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘(سورہ بقرہ:۱۵۳)
 یہ بات ذہن میں رہے کہ کسی بھی ذہنی پریشانی میں اللہ سے لو لگانے کے ساتھ  پریشانی کو دور کرنے والے ظاہری اسباب بھی ضرور اپنائی، مثال کے طور پر ہم تجربہ کار اور مخلص لوگوں کے سامنے اپنی پریشانی رکھیں اور ان کے مشورے پر عمل کریں، اسی طرح اگر ہماری ذہنی پریشانی نے بیماری کی شکل اختیار کر لی ہے تو ماہر ڈاکٹروں سے بھی ملیں۔خلاصہ یہ ہے کہ پریشانی میں الجھ کر ہمیں اپنے مقصد کو فوت نہیں کرنا ہے بلکہ ہمہ جہت اسلامی رہنمائی سے روشنی حاصل کر کے فاتح بن کر ابھرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK