اور اب ٹی آر پی تنازع، الیکٹرانک میڈیا کا یہ زوال کہاں جاکر ٹھہریگا؟

Updated: October 11, 2020, 11:33 AM IST | Aasim Jalal

ہندوستان میں جمہوریت کو اگرخطرات لاحق ہیں تو اس کا ذمہ دار جتنا برسراقتدار طبقہ ہے اس سے زیادہ ملک کا الیکٹرانک میڈیا ہے جس نے صحافت کے اصول ہی بدل کر رکھ ڈالےہیں۔اس کی بنیادی ذمہ داری حکومت کے کاموں پر نظررکھنا اوراس کی جوابدہی طے کرنا تھی مگر اس نے حکومت کا حامی بننے اور اپوزیشن کو کٹہرے میںکھڑا کرنے کی عجیب وغریب روایت قائم کی۔ ٹی آر پی کیلئے سما ج میںاس قدر منافرت پھیلائی کہ سپریم کورٹ کو بھی کہنا پڑا کہ آزادی ٔ اظہار رائےکےحق کا استحصال ہورہاہے۔اس پر بھی بس نہ ہوا تو اب ٹی آر پی کی چوری؟آخر صحافت کو اور کتنا رسوا کرنا ہے

Mumbai Police - Pic : PTI
ممبئی پولیس ۔ تصویر : پی ٹی آئی

ٹی آر پی تنازع نے پہلے ہی بے اعتباری کے شکار الیکٹرانک میڈیا کی قلعی  مزید کھول کر رکھ دی ہے۔ وہ لوگ جو نیوز روم میں چیخ چیخ کر دوسروں کو کٹہرے میں کھڑا کررہے تھے، اب خود کٹہرے میں ہیں۔ جنہوں نے سشانت سنگھ راجپوت کی  خود کشی کو محض شبہ کی بنیادپر نہ صرف قتل قراردے دیا بلکہ ریا چکرورتی کو نشانہ بناتےہوئے اپنے پروگراموں کے ذریعہ یہ تاثر بھی دےڈالاکہ و ہی قاتل ہے، اب انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ٹی آر پی چور نہیں ہیں۔ ملک میں  ہندو مسلم منافرت کو عروج  پر پہنچانے میںاہم رول ادا کرنے والے ان نیوز چینلوں کیلئے  نہ صحافت اہم ہے نہ اخلاقیات۔ اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ ہے کاروبار اور منافع۔ ٹی آر پی  کی بنیاد پر چونکہ اشتہارات ملتے ہیں  اوران کی قیمت طے ہوتی ہے، اس لئے ٹی آرپی حاصل کرنے کیلئے غیر قانونی اور غیر اخلاقی حربے استعمال کئے گئے۔ 
 ٹی آر پی کی چوری  نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ  ہندوستانی ذرائع ابلاغ کےبڑے طبقے کا بنیادی مقصد عوام کو باخبر رکھنا نہیں   بلکہ  اپنے مفادات حاصل کرنا ہے۔  اس سب میں اگر کسی کا سب سےزیادہ نقصان ہورہاہے تو  وہ ہندوستانی جمہوریت ،  یہاں کی اخلاقی قدروں اور صحافت کا ہورہاہے۔ جس  الیکٹرانک میڈیا کے تعلق سے یہ امید کی گئی تھی کہ  وہ اخبارات سے زیادہ بااثر ثابت ہوگا او ر حکومتوں کو جوابدہ بنانے اور سماج کے کمزور طبقات کو انصاف دلانےمیں اہم رول ادا کرے گا، اس نے گزشتہ چند برسوں میں زرد صحافت کی شرمناک  مثال پیش کی اور حکومت کے بجائے  اپوزیشن  سے جوابدہی کا مطالبہ کرکےیہ ثابت کردیا کہ اسے صحافتی قدروں سےزیادہ عزیز وہ سرکاری اشتہارات ہیں جو حکومت کی ہمنوائی کرنے پر اسے بھاری مقدار میں  مل سکتےہیں۔
  یہ کہا جارہاہے تو بجا ہےکہ ہندوستان میں اگر جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے تواس کا ذمہ دار جتنا برسراقتدار طبقہ ہے، اس سے کہیں زیادہ  ملک کا میڈیا ہے جس نے گزشتہ چند برسوں  میں  صحافت کے اصول ہی بدل کررکھ ڈالے۔ اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ برسراقتدار طبقےکے کاموں پر نظر رکھے، اس کے غلط فیصلوں سے عوام کو آگاہ کرے، عوام کے حقوق کی نمائندگی کرے اور ان لوگوں کی طاقت بنے جو ستائے جارہےہیں مگر افسوس کہ میڈیا کا ایک بڑا طبقہ خود ہی سماج کے کمزور طبقات کو ستانے پر اُتر آیا۔ تبلیغی جماعت  کے نام پر ملک کی اقلیتوں کو جس طرح نشانہ بنایا  گیا وہ اظہر من  الشمسہے۔   عین اس وقت جب ملک میں کورونا کی وبا  نے اپنے پر پرزے نکالنے شروع کئے تھے، ذمہ داری اس بات کی تھی کہ میڈیا اس سےنمٹنے کے حکومت کی تیاریوں کا جائزہ لیتا، جہاں کمی ہے اسے اجاگر کرتا اور حکومت کو اس بات پر مجبور کرتا کہ وہ صحت عامہ  کے تعلق سے  پوری ذمہ داری کا مظاہرہ  کرے مگر   میڈیا کے  ۹۰؍ فیصد حصے نے حکومت کی جوابدہی طے کرنےکے بجائے تبلیغی جماعت کی جوابدہی طے کرنا شروع کردی۔  ایک چھوٹے سے واقعہ کو اس طرح پیش کیاگیا جیسے ملک میں تبلیغی جماعت  ہی کورونا پھیلانے کی ذمہ دار ہے۔
  تبلیغی جماعت کی آڑ میں    پورےمسلم سماج کو اس قدر ستایا گیا کہ اسے  میڈیا سے اپنے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نےبھی جمعیۃ علمائے ہند کی پٹیشن پر شنوائی کے دوران   یہ اعتراف کیا کہ ملک میں اس وقت آزادی اظہار رائے کا  استحصال ہورہاہے۔ تبلیغی جماعت  کے ساتھ جو برتاؤ کیاگیا اس کا مقصد لوگوں میں نفرت پھیلا کر ٹی آر پی بٹورنا تھا۔ اسی لئے چند ایک چینلوں کو چھوڑ کر تمام چینل اس معاملے میں   ایک دوسرے کو  مات دینے پر جٹے ہوئے تھے۔ حالیہ دنوں  میں سشانت سنگھ راجپوت کی موت  پر میڈیا کا رویہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ وہ قتل جو کبھی ہوا ہی نہیں،اس کیلئے میڈیا نے نہ صرف قاتل ڈھونڈ لیا بلکہ چیخ چیخ کر دفعہ ۳۰۲؍ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا جاتارہا۔ ہر وہ شخص جس نے  نیوز چینلوں کے اس بیانیہ پر نکیل کسی وہ انصاف کا دشمن ٹھہرایا گیا۔ معاملے کی جانچ ہونے یا  عدالت میںاس پر کوئی فیصلہ ہونے سےقبل ہی یہ نتیجہ اخذ کرلیاگیا سشانت سنگھ راجپوت نے خود کشی نہیں کی ہے بلکہ اسے قتل کیاگیا اور قاتل ریا چکرورتی ہے۔ ۲۸؍ سال کی ایک لڑکی کو اس قدر نشانہ بنایاگیا  اور جانچ ایجنسیوں پر ایسا دباؤ بنایاگیا کہ ریاچکرورتی کو گرفتار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ قتل کا معاملہ نہیں بن پایا تو منشیات کا الزام لگا کر ہی سہی، مگر ریا چکرورتی کو گرفتار کرلیاگیا۔  بامبے ہائی کورٹ نے بھی  اسے ضمانت  پر رہا کرتے ہوئے   ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ میڈیا  ٹرائل کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں ہوسکتی۔ بامبے ہائی کورٹ کا یہ چبھتا ہوا سوال میڈیا کو اس کی ذمہ داریاں یاددلانے اور تفتیشی ایجنسیوں کو میڈیا کے دباؤ میں نہ آنے کی صلاح دینے کیلئے کافی ہے کہ ’’کیا یہ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ تفتیشی ایجنسیوں کو مشورے دے؟(نہیں بلکہ) یہ تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دماغ کا استعمال کرے۔‘‘ 
 اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہےکہ تبلیغی جماعت کا معاملہ ہو یا سشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی پر روٹیاں سینکنے کی  شرمناک کوشش،  سب کچھ ٹی آر پی کیلئے ہوا۔ سشانت سنگھ راجپوت کیس کے سہارےتو ایک چینل نے تو خود کو نمبر ون پوزیشن  پر بھی پہنچالیا مگر اب  یہ انکشاف ہورہاہےکہ صحافت کی  پامالی ہی کافی نہیں تھی کہ ٹی آر پی کی چوری بھی کی جانے لگی۔ عالم یہ ہےکہ خبر پروسنے والےاب خود خبر بننے لگےہیں۔ اپنی ٹی آر پی بڑھانےکیلئے  جن گھروں میں ٹی آر پی میٹر نصب ہیں وہاں  پیسے دے کر اپنے چینل کو چلوانے کا یہ معاملہ سامنے آنےکے بعد اب اس معاملےمیں ملوث پائے گئے صحافی کسی اور سے جواب طلب کرنےکےحق سےاخلاقی طور پر محروم ہوچکےہیں۔  زد پر آنےوالے یہ صحافی  اور میڈیا ہاؤس اگر بے قصور ہیں، جیسا کہ وہ چیخ چیخ کر دعویٰ کررہے ہیں تو  انہیں چاہئےتھا کہ وہ  پوری شائستگی سے اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتےہوئے  اس وقت تک کیلئے  پیچھے ہٹ جاتے جب تک کہ جانچ میں  بے قصور ثابت نہیں ہوجاتے۔ یہ بالکل ویسا ہی  ہے جیسے کسی سیاسی لیڈر پربدعنوانی میں ملوث ہونےکا الزام عائد ہوتےہی میڈیا ان سے اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ کا مطالبہ کرتا ہے۔ مگرسیاسی لیڈروں  کی طرح ہی یہاں بھی قانونی داؤ پیچ کھیلے جانےلگےہیں۔ اپنے اوپر  عائد الزامات کو مدمخالف چینلوں کی سازش قرار دیتےہوئے  جانچ پر روک لگانےکیلئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاگیاہے۔    بعید نہیں کہ قانونی داؤ پیچ کےذریعہ وہ ایک بار پھر بچ نکلنے میں  کامیاب ہوجائیں مگر  یہ امید کی جاسکتی ہےکہ  ان کی صحافت اور ان کی ٹی آر پی نے جو اعتبار کھویا ہے وہ جلد بحال نہیں  ہو پائے گا۔ ہم نہیں جانتےکہ  نیوز چینلوں کی وجہ سےہندوستانی صحافت کو ابھی اور کتنا رسوا ہونا ہے مگر اتنا ضرور جانتےہیں کہ اس سلسلے کو اب روکنے کی ضرورت ہےا ور یہ امر اطمینان بخش ہے کہ  میڈیا کے اس رویے  کے خلاف آوازیں بلند ہونےلگی ہیں اور عوام بھی اب اسےمحسوس کرنےلگےہیں۔ امید ہےکہ  یہ آوازیں   میڈیا میں اصلاحات کا پیش خیمہ ثابت ہوںگی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK