...اور زبان مرگئی

Updated: November 15, 2020, 11:25 AM IST | Prof Syed Iqbal

ماہرین کے مطابق اس صدی کے آخر تک دنیاکی۹۰؍فیصد زبانیں کرہ ارض سے ختم ہوچکی ہوں گی۔ ویسے بھی دنیا کی ۹۶؍ فیصد آبادی اب صرف چار بڑی زبانیں ہی بولتی ہیں۔ نتیجتاً دنیا کی کل ۹۶۰۰۰؍ زبانوں میںسے ایک چوتھائی زبانوں کے بولنے والے صرف ایک ہزار افراد رہ گئے ہیں۔ یہ بیچارے کب مرکھپ جائیں اوران کے ساتھ ان کی زبانیں کب تاریخ کا حصہ بن جائیں، کچھ کہا نہیں جا سکتا

languages
دنیا کی مختلف زبانیں

 ایک ۸۸؍ سالہ بوڑھے ’توفیق ازنیک‘کی موت ہوگئی ۔ وہ ’ازبیخ‘ زبان بولنے والے آخری شخص تھے لہٰذا ان کی موت کے ساتھ ازبیخ بھی اس دنیا سے ختم ہوگئی۔ توفیق  سفید بال ، خشخشی داڑھی ، چمکتی آنکھیں اور تانبے ایسی جلد  کے حامل کسی  یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر لگتے تھے۔ ان کے بزرگوں نے عثمانی سلطنت کی جنگوں سے عاجز آکر چیچنیا کے جنوب کے ایک گاؤں میں پناہ لی تھی۔ یہ علاقہ استنبول سے زیادہ دوربھی نہیں تھا مگر شہری ترقیات نے رفتہ رفتہ ان کی نسل کو اپنے کلچر اور زبان سے دور کردیا۔ اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کی زبان کے معدودے چند امین رہ گئے۔۱۸۶۴ء تک ازبیخ ان کے علاقے کی معروف زبان تھی۔ خود انہوںنے اپنے دادا دادی سے یہ زبان سیکھی تھی۔ انہیں اس زبان کی کہاوتیں اور لوک گیت وغیرہ سب ازبر تھے جو آخری وقت میں انہوںنے ماہر لسانیات کو ریکارڈ کروائے تھے لیکن زبانوں کی بدقسمتی  یہ ہے کہ انہیں استعمال کرنے والوں کی تعداد گھٹنے لگے تویہ اپنے آپ مرنے لگتی ہیں۔اس لئے ازبیخ کی موت  پر دنیا کو اتنا افسوس بھی نہیں ہوا۔
  ماہرین کے مطابق اس صدی کے آخر تک دنیاکی نّوےفیصد زبانیں کرہ ارض سے ختم ہوچکی ہوں گی۔ ویسے بھی دنیا کی ۹۶؍ فیصد آبادی اب صرف چار بڑی زبانیں ہی بولتی ہیں۔ نتیجتاً دنیا کی کل ۹۶۰۰۰؍ زبانوں میںسے ایک چوتھائی زبانوں کے بولنے والے صرف ایک ہزار افراد رہ گئے ہیں۔ یہ بیچارے کب مرکھپ جائیں اوران کے ساتھ ان کی زبانیں کب تاریخ کا حصہ بن جائیں، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اکثر  ایسا  ہوتا ہے کہ جب کسی زبان کا سامنا دوسری مقبول  زبان سے ہوتا ہے تو پہلی زبان اپنی مقبولیت کھونے لگتی ہے۔ عموماً قدرتی آفات، مہلک بیماریاںاورخون آشام جنگیں بھی زبانوں کے خاتمے کا سبب بن جاتی ہیں لیکن بنیادی طور پر کسی زبان کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا کام رک  جائے تو زبانوں کی موت یقینی ہو جاتی ہے۔
  ا س باب میں یونیسکو نے اپنی رپورٹ میں اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ مثلاً یہ کہ مذکورہ زبان کو کتنے لوگ استعمال کرتے ہیں؟ کیا یہ گھروںاور کام  کاج کی جگہوں میں بولی جاتی  ہے؟ کیا اس زبان میں کتابیں اور رسالے شائع ہورہے ہیں ؟ کیا اس نے نئے زمانے کے چیلنجوں (میڈیا،  انٹرنیٹ ) کو قبول کیا ہے؟ کیا زبان کے فروغ کیلئے اس کے بولنے والے کوششیں کر  رہے ہیں اور آخر  میں ، کیا اسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے؟ اس رپورٹ کی روشنی میں ہم  اپنی زبانوں کو دیکھیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ کچھ  زبانوں کا حال کیوں دگرگوں ہے اور کچھ  زبانیں کیوں پھل پھول رہی ہیں؟
  ویسے  ماہرین سماجیات  عالم کاری اور شہروں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کو بھی زبانوںکی غیر مقبولیت کیلئے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ چونکہ بہتر زندگی کی تلاش میں ایک بڑی آبادی اپنے اپنے علاقوں سے ہجرت کرکے بڑے شہروں میں بسنے لگتی ہے اور اپنی  تہذیبی جڑوں سے کٹ کر صرف ایک مادی زندگی گزارنے ہی کو سب کچھ سمجھ لیتی ہے، اسلئے اس کا رشتہ زبان وادب سے ٹوٹنے لگتا ہے۔ اب اس کیلئے نہ صحت زبان اہمیت رکھتی ہے، نہ الفاظ کا صحیح تلفظ بلکہ وہ وقت کے ساتھ اپنے لسانی ورثے کو بھی بھولنے لگتی ہے ۔ اب ان کی دلچسپی صرف اس زبان سے ہوتی  ہے جس سے ترقی  کے دروازے کھل سکیں ۔ بالفاظ دیگر ، ایک ایسی زبان جو بازار میں ابھی اچھے دام دے سکے۔ اگر غریب بستیوں میں رہنے والے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر آج اپنے بچوں کو انگریزی  میڈیم اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں تو اس کے پیچھے ان کی سوچ یہی ہے کہ جس زندگی کو انہوںنے جھیلا ہے، ان کے بچے اس سے بہتر زندگی گزاریں۔ اسی چکر میں ان کی مادری زبان قربان بھی ہوجائے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
 Michael Krauss نامی ماہر لسانیات نے کچھ ایسے ہی مشاہدات (۱۹۹۷ء ) بیان کئے ہیں۔ ان کے مطابق کسی زبان کے استحکام اوراس کی  قبولیت جاننے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ اسے کتنے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ یعنی صرف بالغ افراد ہی بولتے ہیں یا کم عمر بچوں کی زبان بھی وہی ہے۔کیونکہ کثر ہوتا یہی ہے کہ نوجوان والدین کامیابی کے نشے میں اپنی مادری زبان بھول کر صرف  وہی زبان بولنے لگتے ہیں جو اس  عہد کی ’طاقت ور‘ زبان ہوتی ہے۔ ایسے ہی گھرانوں میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب مادری زبان صرف گھر کے بوڑھوں کی زبان بن کر رہ جاتی ہے۔ جب ۷۰؍ اور۸۰؍ سال کے بوڑھے اپنے پرکھوں کی زبان کو سینے سے لگائے بولتے رہیں، اسی زبان کا اخبار پڑھیں، اسی زبان میں خط وکتابت کریں تو سمجھ لیجئے کہ ان بوڑھوں کے رخصت ہونے پر ان کی زبان بھی رخصت ہوجائے گی۔ زبانوں کی موت کا یہ عمل اتنا سست رفتار ہوتا ہے کہ کم عمر بچوں کو تواس کی خبر ہی نہیں ہوتی اور والدین بھی اس کی سنگینی نہیں جان پاتے۔ مغربی ممالک میں ہندوستانیوں کا شاید ہی کوئی گھر  ایساہوگا جہاں والدین نے اپنی مادری زبان کو زندہ رکھنے اورایسے اگلی نسل تک منتقل کرنے کا کوئی انتظام کیا ہو۔ انگریزی کی یلغار نے تو اچھے خاصے گھرانوں کو اپنی مادری زبان سے دور کردیا ہے۔ انگریزی ذریعہ تعلیم کے معمولی اسکول جہاں معیاری تعلیم ہوتی ہے ، نہ معیاری انگریزی پڑھائی جاتی ہے، وہاں بھی انگریزی سے مرعوب والدین اپنے بچوں کو داخلہ دلواکر خوش ہوتے ہیں۔ یہ بچے اچھی انگریزی تو بول نہیں پاتے ، ہاں! اپنی زبان اور تہذیب ضرور گنوا  دیتے ہیں۔ 
 تاریخ میںایسی ہزارہا مثالیں ملتی ہیں جب فاتح قوموں نے مفتوح قوموں کی بستیوں کو تاراج کیا اور لوگوں کو غلام بناکر ان کی شناخت چھین لی ۔ ان جنگوں میں زبانیں بھی قتل ہوئیں اور محکوم عوام اپنے سلاطین اور امراء کی زبانیں بولنے لگے۔ حکومتوں نے رعایا کو اپنے سے جوڑنے کیلئے اپنی زبانوں کو سرکاری حیثیت عطا کی۔ پھر وہی زبان انتظامیہ کی زبان بنی، بازار میں استعمال ہوئی اور شعروادب بھی اسی زبان میں تخلیق ہونے لگے۔ سکندر کے عہد میں یونانی کو فروغ ملا تو رومیوں نے لاطینی کو سرکاری زبان قراردیا۔ آرامیک اور پہلوی ، فارس کے حکمرانوں کی زبان ٹھہری تو موریہ اور گپت راجاؤں نے پراکرت کو سرکاری زبان کا درجہ دیا ۔ مغلوں کے دور میں فارسی سرکاری زبان تھی اور حکومت بدلتے ہی عوام نے اپنے انگریزفرمانراؤں کی زبان کو اپنالیا۔ کبھی کبھار مذاہب بھی زبانوں کے فروغ کا وسیلہ بن جاتے ہیں۔ عربی ، اسپینی ، پرتگیزی  ، روسی ،انگریزی اور فرانسیسی زبانوں نے مذاہب کی ترویج واشاعت میں جو رول ادا کیا ہے ، اسے بھلایا نہیں جاسکتا۔ اگر ان کی وجہ سے کئی زبانیں ختم ہوئیں تو ان زبانوں نے نئے علاقے بھی فتح کئے۔ آج دعوت وتبلیغ دین کا کام تراجم کے مدد سے ہونے لگا ہے۔ مبلغین اپنے مدعوئین کی زبانیں سیکھ کر ان کی اپنی زبانوں میں تبلیغ کرتے ہیں۔ اس طرح کچھ زبانیں ختم ہونے سے بچ جاتی ہیں۔
  اس کے باوجود فوت ہونے والی زبانوں کی تعداد زندہ زبانوں سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرہویں صدی میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سمیری زبان ختم ہوجائے گی، نہ چودھویں صدی میں دریائے نیل کے آس پاس فروغ پانے والی مصری  (Coptic) زبان کی موت کا تصور ممکن تھا۔ اسی طرح انیسویں صدی میں کسی کو نیوانگلینڈ کا لونی (امریکہ ) کی زبان  Massachusetts کے ختم ہونے کا خیال آیا تھا، نہ بیسویں صدی میں تائیوان کی ’سرایا‘ زبان کی موت کا اندیشہ تھا۔ سنسکرت استعمال کرنے والوں نے بھی پہلے فارسی اور پھر انگریزی کے ہاتھوں اپنی زبان کے زوال کا منظر نہیں دیکھا تھا لیکن آج وہی زبان سرکاری سرپرستی میں پھر سے سانسیں لینے لگی ہے۔ کل تک جو سنسکرت صرف مذہبی رسومات تک محدود تھی، آج ایک نظریاتی جماعت کی سرپرستی میں اسے دوبارہ زندہ کیاجارہا ہے۔ لیکن حکومتیں اور سلطنتیں کچھ بھی کرلیں ، زبانیں اسی وقت تک زندہ رہتی ہیں جب تک اس کے بولنے والے زندہ رہتے ہیں۔ آج بھی امریکہ اور آسٹریلیا میں صرف چند بوڑھے اپنی اپنی زبانوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے جاتے ہی یہ زبانیں بھی معدوم ہو جائیں گی۔ اگرآج منڈارین (۱۰۵۵؍ملین) انگریزی  (۷۶۰؍ ملین )، ہندی (۴۹۰؍ ملین )،  اسپینی (۴۱۷؍ ملین )، روسی (۲۷۷؍ ملین)، بنگالی  (۲۳۰؍ملین)، عربی (۲۰۵؍ ملین)، پرتگیزی (۱۹۱؍ ملین)،   فرانسیسی (۱۲۸؍ ملین ) ، جرمنی (۲۰۸؍ملین ) اور جاپانی   (۱۲۲؍ملین) دنیا بھر میں بولی جاتی ہیں تو صرف اسلئے کہ دنیا میں ان زبانوں کو استعمال کرنے والے کروڑوں کی تعداد میں آباد ہیں۔
  ایک زمانہ تھا کہ انگریزی بولنے والے برطانیہ سے باہر نہیں  پائے جاتے تھے۔ پھر برطانوی حکومت پھیلتی گئی اور انگریزی  نے مارکیٹ کے ساتھ سائنس اورٹکنالوجی پربھی حکمرانی شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں آج یہ دنیا کی دوسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان بن چکی ہے۔ کچھ یہی حال بنگال کا بھی ہے۔ بنگالیوں کو اپنی زبان سے بڑا لگاؤ ہوتا ہے۔ انہوںنے ماضی میں اپنی زبان کیلئے جنگ کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا۔ وہ چاہے جہاں بس جائیں، اپنے تہذیبی ورثہ کو نہیں بھلاتے۔ اس لئے عربی کے مقابلے میں بنگالی بولنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ سچ تویہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر نے اپنی زبان کواپنی  شناخت ہی نہیں  جانا، نہ اسے اپنی تہذیب گردانا۔ دنیا وی کامیابی کیلئے اس زبان کے سامنے سرنگوں ہوگئے جو ہمارے لئے طاقت کی زبان تھی۔ جبکہ  Multilinguism کے زمانے میں ہم اپنی زبان کو سینے سے لگائے رکھتے اورکاروبار  کی زبان پر محنت کرتے تو دنیاوی کامیابی کچھ اتنی مشکل بھی نہیں تھی مگر ۸۸؍ سالہ توفیق ازنیک کی بات پہلے کسی نے سنی تھی، نہ مستقبل میں کوئی سنے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK