ادبی و مجلسی تمدن و شائستگی کا دوسرا نام : گلزار دہلوی

Updated: June 14, 2020, 12:16 PM IST | Q Haidar

زمانے کی قندیل میں یونان و روما، قرطاجز و ایران ، دولت عباسیہ ، صفویہ و عثمانیہ کے ساتھ ساتھ سلاطین دہلی اور سلطنت مغلیہ کے ادوار کی بھی نہایت روشن اور خوبصورت تصاویر شامل تھیں۔

Gulzar Dehlavi - Pic : INN
گلزار دہلوی ۔ تصویر : آئی این این

زمانے کی قندیل میں  یونان و روما، قرطاجز و ایران ، دولت عباسیہ ، صفویہ و عثمانیہ کے ساتھ ساتھ سلاطین دہلی اور سلطنت مغلیہ کے ادوار کی بھی نہایت روشن اور خوبصورت تصاویر شامل تھیں۔
  ’یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے‘ لیکن ہندوستان میں گپتا سامراجیہ سے لے کر عہد مغلیہ تک سارے ادوار محض ایک زبان اور ایک کلچر میں ابھی تک موجود ہیں اور اس زبان و تہذیب کا نام ہے اردوؔ۔ ایک ادبی مؤرخ کے لئے یہ بات قابل ذکر اور اہم ہے کہ اس تہذیب کے وارث اور نام لیوا دور حاضر میں بھی شامل ہیں اور وہ اپنے ورثہ کی اہمیت کا شدید احساس رکھتے ہیں۔ انہیں وارثوں میں ایک اہم نام آنند موہن زتشی گلزارؔ دہلوی کا ہے جو شاعر بن شاعر ، عالم اور اہل دانش ہی نہیں بلکہ ادبی اور مجلسی تمدن و شائستگی کا دوسرا نام ہے۔
 راقم الحروف کو فخر ہے کہ موصوف کے سورگیہ والد بزرگوار پنڈت زار زتشی دہلوی نے بی اے میں مجھے اردو فارسی پڑھائی۔ اس وقت ہمیں اس حقیقت کا احساس نہ تھا کہ پنڈت زار دہلوی (جنہیں مولوی صاحب کہتے تھے) ان کی وساطت سے ہم داغؔ دہلوی کے زمانے تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان کے لائق فخر فرزند ڈاکٹر پنڈت آنند موہن زتشی گلزار، نظامی دہلوی، گلزارؔ ابن زارؔ یادگار داغؔ، تلمیذ دتا تریہ کیفی دہلوی ، یادگار حالیؔ وہم تلمیذ بابائے اردو مولوی عبدالحق، یادگار حالیؔ و تلمیذ نواب سراج الدین احمد خاں سائل ؔ دہلوی جانشیں و داماد داغ ؔ، ان کے صحیح وارث و جانشیں ہیں اور اسی علم و تہذیب اور زبان کا پیکر ہیں۔
 گلزار دہلوی کے اس تعارف میں اردو شاعری کی نصف صدی سے زائد تاریخ مضمر ہے۔ اس کے بعد مزید کسی تعارف کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ اردو کی کلاسیکل شاعری میں عہد حاضر کے احوال، صوفیائے کرام کی انسان پرستی اور مغلیہ دربار کی خلافت کی آئینہ دار ہے گلزار دہلوی کی ذات گرامی۔ گلزار دہلوی اس دبستان سے متعلق ہیں۔ وہ ایک قادر الکلام شاعر، جوشیلے خطیب، اردو کے محسن، وکیل اوربے  مثال ہیومنسٹ ہیں۔ ان کو دیکھ کر بعض دفعہ حیریت ہوتی ہے کہ یا اللہ ایسی مشفق  شخصیت آج کے دور میں بھی موجود ہے!
 ہندوستان ، پاکستان اورساری اردو بولنے والی سمندر پار کی دنیا میں بھی ملکوں ملکوں گلزارؔ صاحب کو بطور شاعر و خطیب بے پناہ مقبولیت حاصل ہے۔ ان کے والد علامہ پنڈت زارؔ زتشی دہلوی موصوف  و ممدوح، یادگار داغؔ ، اردو، فارسی، ہندوی، سنسکرت اور انگریزی کے جید عالم تھے۔ اردو میں پنڈت رتن ناتھ سرشارؔ اور علامہ اقبالؔ جیسی دیوزاد شخصیتیں دوبارہ پیدا نہ ہوئیں لیکن اپنی پنڈتان کشمیر میں جو قدیم سنسکرت و فارسی تہذیب کے وارث تھے، انہوں نے اپنے ہم وطن رمز آشنائے رومؔ و تبریزؔ، علامہ اقبال کے مانند اردو، فارسی شعر و ادب کی جیسی آبیاری کی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ گزشتہ صدیوں میں اپنے مرغزاروں سے اتر کر پنجاب اور وادیٔ گنگ و جمن میں آن بسے تھے اور یہاں بھی وہ اپنی روایات کی نگہبانی کرتے رہے۔ اردو کو انہوں نے اپنی  نگارشات نظم و نثر سے مالامال کیا۔ گلزارؔ دہلوی کے اجداد قلعہ معلی دہلی میں مغل شہزادوں اور منصب داروں کے اتالیق اور استاد رہے۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ پنڈت زارؔ دہلوی کی بیگم اور گلزارؔ دہلوی کی ماں محترمہ برج رانی زتشی کا تخلص بیزارؔ دہلوی تھا اور وہ بھی نواب سائل دہلوی کی شاگرد تھیں۔ گلزار صاحب کے بڑے بھائی ریڈیو، ٹی وی اوراسٹیج کے مشہور اداکار و صداکار پنڈت دینا ناتھ زتشی اور حضرت خارؔ دہلوی، دوسرے بھائی ہیں جو صاحب دیوان ہیں۔ پنڈت گلزارؔ دہلوی اس زمانے کی تہذیب کے ایک اہم نمائندے ہیں جب فن شعرگوئی میں کمال حاصل کرنے کی وہی اہمیت تھی جو جاپان میں پھولوں کی آرائش اور رسم چائے نوشی کے فنونِ لطیفہ کو حاصل ہے۔
 گلزارؔ دہلوی کا ایک اہم کارنامہ یہ ہے کہ تقسیم ہند کے فوراً بعد کے پرآشوب زمانے میں انہوں نے نہایت بے خوفی سے اردو کا پرچم بلند کیا اور درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء ہی ادارۂ نظامیہ اور دہلی میں انجمن تعمیر اُردو قائم کی جو اب تک فعال و متحرک اور سرگرم عمل ہیں اور تین نسلوں کی ذہنی تربیت کرتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ برسوں کی جدوجہد کے بعد حکومت ہند کاؤنسل آف سائنس و انڈسٹریل ریسرچ کے ماتحت برصغیر ہند پاک میں پہلا مقبول اور ہردلعزیز عوامی اور مفید اردو سائنسی مجلہ ’’سائنس کی دنیا‘‘ جاری کیا جس  کے وہ بانی، مدیر اعلیٰ، ناشر و طابع اور معتمد مقرر ہوئے، جس کی اشاعت چالیس ہزار تک پہنچی اور اس میں اصطلاحات کا ترجمہ بھی جاری کیا ۔ بے شمار انعامات  حاصل کئے اور نوبل لاریٹ ولکنسن (امریکہ) اور نوبل لاریٹ پروفیسر عبدالسلام سے خراج تحسین حاصل کیا۔
 قومی شاعروں میں گلزار صاحب، عہد چکبست و جوش کی یاددلاتے ہیں۔ گلزار صاحب کی وسیع المشربی اور قومی معاملات میں ان کے شدید خلوص کی ایک مثال یہ ہے کہ وہ جمعیۃ العلمائے ہند کے اجلاس میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا حفظ الرحمٰن کی دعوت پر ہمیشہ شریک ہوتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ انہیں بعض لوگوں نے ’’شاعر جمعیت‘‘کہنا شروع کردیا تھا۔ گلزارؔ دہلوی اپنے خطبات کے لئے بھی مشہور ہیں اور انہیں بڑی  سے بڑی محفل پر اپنی سحر آفرین شاعری سے چھا جانے کا فن آتا ہے۔
 حمد باری تعالیٰ  اور نعت رسولؐ، مناقب اہل بیت اور صوفیاء اور اولیائے کرام کی تخلیق گلزار دہلوی کے اسی پاکیزہ جذبہ اور اس مزاج کی نمائندگی کرتے ہیں جو تصوف اور بھگتی رس کی دین ہے۔ وہ گلزارؔ اردو بھی ہیں اور ’’گلزار غزل‘‘ بھی، بائیس خواجہ کی چوکھٹ والی دہلی اس فرزند پر جتنا ناز کرے کم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آئندہ لوگ ان کی تحریروں سے اپنے اخلاف کی تربیت کریں گے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK