کیا ملک میں انتخابات اپنی معنویت کھو ر ہے ہیں

Updated: July 19, 2020, 11:36 AM IST | Aasim Jalal

کبھی بہار میںمسترد کئے جانے کے بعد بھی بی جےپی نتیش کمار کے ساتھ اقتدار کا حصہ بن جاتی ہے تو کبھی گوا میں  سب سے بڑی پارٹی نہ بن کر بھی اقتدار پر جھپٹ پڑتی ۔کرناٹک، منی پور اور ناگالینڈ اس کی مزید مثالیں ہیں،اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کھیل میں جسے کانگریس نے شروع کیاتھا، بی جےپی   چمپئن بن چکی ہے اور کئی ریاستوں میں کانگریس کو چاروں شانے چت بھی کرچکی ہے، مگر یہ پٹخنی کانگریس کو کم عوام کو زیادہ ہے، جوڑ توڑ اور خریدوفروخت کے ذریعہ بننے والی ہر حکومت ملک کے رائے دہندگان کے ساتھ دھوکہ ہے اور ہر ایسی کارروائی کے بعد ووٹر بجا طو رپر خود کو ٹھگا ہوا محسوس کرتے ہیں

Ashok Gehlot - Pic :PTI
اشوک گہلوت ۔ تصویر : آئی این این

 ملک میں دل بدلی قانون نافذ ہے مگر  اس طرح  کہ کسی کا بال بھی بیکا نہ ہوسکے۔ فرق یہ ہے کہ پہلے  دو ایک   ایم ایل اے دل بدلی کرسکتے  تھے ، اب اگر کسی کو دل بدلی کرنی ہے تو اسے اپنے ساتھ  اپنے کم از کم ایک تہائی ساتھیوں کو بھی  راضی کرنا پڑتا ہے۔ ’’راضی ‘‘ کرنے کا یہ عمل کیسا ہوتا ہے عوام بخوبی سمجھتے ہیں۔    نتیجہ  یہ ہے کہ اب بڑے پیمانے پر دل بدلی ہوتی ہے، اس طرح کہ اسے   میڈیا  نے انہیں کسی فوجی آپریشن کی طرز پر نام دینا شروع کردیاہے۔ان دنوں ’’آپریشن لوٹس‘‘ کافی مقبول ہے۔ اراکین اسمبلی کی دل بدلی کیلئے ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنی پارٹی سے ناراض ہی ہوں بلکہ  انہیں دل بدلی کیلئے  ’’راضی ‘‘ کر نے کے   ایسے ایسے طریقے  اِدھر کچھ دنوں  میں رائج ہوئے ہیں کہ  دماغ کام نہیں کرتا۔ ہم اس تعلق سے بہت زیادہ گفتگو اس لئے نہیں کریںگے کہ عوام ان  طور طریقوں اور ایسے آپریشنز سے بخوبی واقف ہیں۔ بلکہ وہ یہ بھی جانتے ہیںکہ اگلا نشانہ کون ہوگا۔
   مدھیہ پردیش میں جب جیوترادتیہ سندھیا نے کمل ناتھ سرکار اور کانگریس کی اعلیٰ قیادت سے ’’ناراض‘‘ ہوکر بی جےپی کا ہاتھ تھام لیاتھا تب ہی سیاسی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ اگلا نشانہ راجستھان ہوگا۔  یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں۔ راجستھان ان دنوں دل بدلی کا اکھاڑہ بنا ہوا ہے۔ یہاں آپریشن لوٹس فی الحال  اُسی طرح  ناکام ہوتا نظرآرہا ہے جس طرح کرناٹک میں دو ایک مرتبہ ناکام ہواتھا مگر اس کا مطلب یہ قطعی نہیں نکالا جاسکتا کہ راجستھان کی گہلوت حکومت موجودہ بحران سے اگر نکل بھی گئی تو اپنے ۵؍ سال مکمل کرلےگی۔  سیاسی تجزیہ نگاروں کو تو چھوڑیں اب عوام  بھی یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اگلا نشانہ مہاراشٹر ہوسکتاہے۔  اس کو  خود  یہاں کا برسراقتدار طبقہ بھی سمجھ رہا ہے۔ کانگریس لیڈر اور ریاستی وزیر یشومتی ٹھاکر کا یہ بیان یوں  ہی نہیں ہے کہ بی جےپی کے کئی ایم ایل اے کانگریس   کے رابطے میں ہیں۔ یہ اصل میں  اپنے مدمخالف کو ڈرا کر اسے اس آپریشن کمل سے باز رکھنے کی کوشش ہے  مگر اس کوشش میں موجود اندیشے کو بھی محسوس کیا جا سکتاہے۔
  کہا  جاتا ہے کہ جمہوریت میں عوام مالک ہوتےہیں،وہ فیصلہ کرتےہیں کہ کون اقتدار میں رہ کرملک یا ریاست کی باگ ڈور سنبھالے گا اور کون اپوزیشن میں بیٹھ کر ان پر نظررکھے گا، مگر  زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔ بہار میں عوام نے فیصلہ کیا کہ بی جے پی اپوزیشن میں بیٹھے گی اور نتیش اور لالو کا اتحاد ریاست کی باگ ڈور سنبھالے گی مگر آج بی جے پی نتیش کمار کے ساتھ اقتدار  میں شاملے اور لالو کی آر جےڈی اپوزیشن میں بیٹھ کر چیخ رہی ہے۔ کرناٹک میں عوام نے کسی کو واضح اکثریت نہیں دی مگر ان کی اکثریت نے  ۲؍ سیکولر پارٹیوں کانگریس اور جنتادل سیکولر کے حق میں  ووٹنگ کی تھی، نتیجہ یہ ہوا کہ  دونوں پارٹیوں نے اتحاد کیا اور کرناٹک میں کانگریس جے ڈی ایس حکومت بن گئی۔ مگر آج کی صورتحال یہ ہے کہ کرناٹک میں بی جےپی اقتدار میں ہے اور جنتادل سیکولر اور کانگریس اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ یہ اسی ’’آپریشن لوٹس‘‘ کا کمال ہے جسے میڈیا ماسٹر اسٹروک  کے طور پر دکھاتا ہے۔  طویل عرصے سے بی جےپی کے اقتدار  کے بعد گزشتہ اسمبلی الیکشن میں گوا  کے عوام  نے کانگریس کے حق میںفیصلہ سنایا۔ وہ  سب سے بڑی پارٹی بن کرابھری تھی مگر  بی جے پی نے اس سے اقتدار کو ایسے جھپٹا کہ کانگریس کے حق میں ووٹنگ کرنے والے منہ دیکھتے رہ گئے۔ 
 مدھیہ پردیش  اور راجستھان میں جب بی جے پی اقتدار سے بے دخل ہوئی تبھی  سے یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہاتھا کہ زعفرانی پارٹی ان دونوں بڑی ریاستوں سے یوں دستبردار نہیں ہوگی۔  ایسا ہی ہوا۔ پہلے مدھیہ پردیش میں  جیوترادتیہ سندھیا مہرا بنے  اور اب راجستھان میں سچن پائلٹ کی ناراضگی کو بھنانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دل بدلی کے اس کھیل میں  جسے کانگریس نے شروع کیاتھا، مودی  اور امیت شاہ کی قیادت میں  بی جے پی چمپئن بن چکی ہے۔ وہ کئی ریاستوں میں کانگریس کو چاروں شانے چت کرچکی ہے مگر یہ پٹخنی کانگریس کو کم عوام کو  زیادہ ہے۔  دل بدلی اور مبینہ خریدوفروخت کے بعد بننے والی ہر حکومت ووٹروں کے ساتھ دھوکہ ہے اور  وہ بجا طور پر خود کو ٹھگا ہوا محسوس کرتےہیں۔
  راجستھان میں سچن پائلٹ  کے بارے میں   واضح نہیں ہے کہ وہ کیا کرنے جارہے ہیں۔اس تعلق سے خبروں  کیلئے سب سے باوثوق  ذریعہ ان دنوں   ’’ذرائع‘‘ ہیں۔ وہ ذرائع جو کبھی حقیقت بتاتے ہیںتو  کبھی ماحول بنانے کیلئے میڈیا کے توسط سے جھوٹ بھی پھیلاتےہیں۔اس لئے ان ’’ذرائع‘‘ پر بہت زیادہ بھروسہ بھی نہیں کیا جاسکتا مگر جب سچن پائلٹ کھل کر اپنے پتے نہ کھولیں تو میڈیا کو خبریں چلاتے رہنے کیلئے ان ہی ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔  شروع میں یہ بات سامنے آئی کہ سچن پائلٹ بی جےپی صدر جے پی نڈا کی موجودگی میں زعفرانی پارٹی میں شامل ہونے جارہے ہیں، پائلٹ خاموش رہے۔ دوسرے دن معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ اتنے اراکین اسمبلی نہیں ہیں جتنے سمجھے جارہے تھے،پھر سچن پائلٹ کا بیان آیا کہ وہ بی جےپی میں نہیں جارہے ہیں۔   ایک وقت کیلئے ایسا لگا کہ انہیں منا لیاگیا ہے مگر پھر انہیں راجستھان کانگریس  کے صدر  اور نائب وزیر اعلیٰ  کے عہدے سے دستبردار کردیاگیا۔ سچن پائلٹ پھر بھی بی جےپی میں نہیں گئے۔ بتایا جارہاہے کہ  بی جےپی کے ساتھ ان کی ڈیل ناکام ہوگئی کیوں کہ   وہ وزارت اعلیٰ مانگ رہے تھے جس کیلئے زعفرانی پارٹی آمادہ نہیں ہو سکی۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ سچن پائلٹ اپنے نظریات کے سبب بی جےپی میں جانے کو ترجیح  نہیں دیںگے۔ کانگریس میں ایک بڑا طبقہ سچن پائلٹ کو منالینے  کے حق میں ہے۔ 
  راجستھان کے بحران کا یہ  اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ کسی کو نہیں معلوم مگر  جمعرات کو منظر عام پر آنے والے آڈیوٹیپ  نے (اگر وہ درست ہیں تو )یہ ثابت کردیا ہے کہ یہاں بھی پیسوں کا کھیل ہورہاہے۔ آئندہ ۱۰؍ دنوں میں حکومت کو گھٹنوں پر لانے کی باتیں ہورہی ہیں۔ اس کی ایک آواز کو مرکزی وزیر سے منسوب کیا جارہا ہے۔ آڈیو میں کہا جاتاہے کہ ’’دہلی میں ہمارے لوگوں کو پیسہ مل گیاہے ، انہیں پہلی قسط پہنچ چکی ہے۔‘‘ ایک طرف جہاں آڈیوٹیپ میں  جن کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں وہ اسے فرضی قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف اشوک گہلوت کا دعویٰ  ہے کہ اگر یہ آڈیوٹیپ جھوٹے نکلے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔  یقیناً کوئی ایک تو جھوٹ بول رہا ہے مگر  اس  تلخ حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ  ہمارے کچھ  ایم ایل اے بکتے  ہیں ۔ ان کی خریدوفروخت میں ادھر کچھ دنوں میں جو شدت آئی ہے اس نے  ملک کے انتخابات کو ہی بے معنی کرکے رکھ دیاہے۔  اگر عوام جس کے اپوزیشن میں  بیٹھنے کافیصلہ کریںوہ اراکین اسمبلی کو خرید کر یا انہیں ڈرا دھمکا کر اقتدار میں آجائے اور جنہیں  اقتدار سونپاتھا وہ   اپوزیشن میں بیٹھنے پر مجبور ہوں تو یہ پارلیمانی جمہوریت  کے ساتھ ہی  بھونڈا مذاق نہیں ہے بلکہ عوام کے ساتھ بھی فراڈ ہے۔  ایسا فراڈ جو  انتخابات کو  ہی بے معنی کرکے رکھ دیتاہے۔ حکومتیں  یوں  ہی بدلتی  رہیں تو ایک دن آئےگا کہ ملک میں  انتخابات  اپنی معنویت کھودیںگے۔ 
    یہ حقیقت ہے کہ سچن پائلٹ  نے راجستھان کے الیکشن میں کافی محنت کی تھی اور یہاں  کانگریس کو  ملنے والی فتح  بڑی حدتک ان کے مرہون منت ہے مگر یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ سچن پائلٹ کی  عوام نے  اس لئے  حمایت کی تھی کہ وہ کانگریس کے پلیٹ فارم سے ان  کے  درمیان  گئے تھے۔ کیا وہ اگر کسی اور پارٹی  کے پلیٹ فارم سے انتخابی مہم چلاتے تو وہ ووٹ حاصل کرپاتے جو انہیں یا ان کی پارٹی کو ملے۔ انہیں  کانگریس   کے لیڈر کے طورپر عوام نے  منتخب کیااوران کے کہنے پر دیگر امیدواروں کوکو ووٹ دیئے۔اگر انہیں وزارت اعلیٰ کی کرسی نہیں مل سکی تو اس سے انہیں  ان ووٹروں کے ساتھ فراڈ کا حق نہیں مل جاتا جنہوں  نے اقتدار کی تبدیلی کیلئے انہیں چنا تھا۔ ملک کی جمہوریت کو بچانے کیلئے انتخابات کو بے معنی ہونے سے روکناانتہائی ضروری ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK