کیا واقعی مظاہرے اُردو کے فروغ کا ذریعہ بن رہے ہیں؟ ایک مکالمہ

Updated: February 17, 2020, 3:03 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

شہریت ترمیمی ایکٹ ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پورے ملک میں احتجاج جاری ہے۔ ملک بھر کی خواتین خاص طور پر سڑکوں پر اتری ہوئی ہیں تاکہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل اس ملک میں محفوظ کرسکیں اور حکومت کو اس کےمنقسمانہ اقدامات کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کیخلاف احتجاج
شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کیخلاف احتجاج

  شہریت ترمیمی ایکٹ ،  این آر سی اور این پی آر کے خلاف پورے ملک میں احتجاج جاری ہے۔ ملک بھر کی خواتین  خاص طور پر سڑکوں پر اتری ہوئی ہیں تاکہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل اس ملک میں محفوظ کرسکیں اور حکومت کو اس کےمنقسمانہ اقدامات کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔اس کوشش میں ان کا ساتھ ملک کا انصاف پسند طبقہ، طلباء و طالبات اور نوجوان تو دے ہی رہے ہیںلیکن ان سبھی کیلئے ذریعہ اظہار جو زبان بنی ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ اردو ہے  جس نے جنگ آزادی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا اور موجودہ حکومت کے اقدامات کیخلا ف بھی  اسی زبان میں غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔ کہیں فیض کی مشہور نظم’ ہم دیکھیں گے ‘ گائی جارہی ہے تو کہیں پر حبیب جالب کی ’دستور ‘ پڑھی جارہی ہے۔بہت سے مقاما ت پر اردو کے انقلابی اشعار تو کہیں پر اردو کے نعرے لگ رہے ہیں۔ غرض ، اس احتجاج کا فائدہ اردو کو بھی ہوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے کیوں کہ غیر اردو مظاہرین جن کی تعداد خاصی ہے، غیر محسوس طریقے سے ہی سہی  اردو کے قریب آرہے ہیں، اس کے الفاظ کا لمس محسوس کررہے ہیں اور اردو کے اشعار یا نعرے  زبان سے ادا کرتے ہوئے انہیں اردو کی شیرینی بھی محسوس ہو رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کہیں نہ کہیں یہ خیال آرہا ہے کہ یہ مظاہرے اور  احتجاج اپنی نو عیت کے لحاظ سے ثمر آورتو ثابت ہوں گے ہی لیکن ساتھ ہی اردو کے فروغ کیلئے بھی زرخیز زمین تیار کرجائیں گے۔ اسی سوال کا جواب ہم نے اپنے کچھ  اساتذہ ، ڈراما نگاروں ، اداکار وںاورطلبہ سے جاننا  چاہا کہ کیا  وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان مظاہروں سے واقعی  اردو کو بھی فروغ مل رہا ہے؟
  صف اول کے ڈراما نگارمجیب خان نے مذکورہ بالا سوال کے جواب میں کہا کہ اردو صرف آ ج نہیں بلکہ جنگ آزادی کے وقت بھی سرگرم کردار میں تھی بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ آزادی کے تمام متوالوں کے درمیان رابطہ کا ذریعہ اردو ہی تھی۔ اردو کو دیگر زبانوں کے مقابلے یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس زبان نے ہمیشہ حق و انصاف کے نعروں کو بلند کیا ہے  اور حالیہ جاری مظاہروں میں بھی مظاہرین اپنی آواز بلند کرنے کیلئے اردو کا ہی سہارا لے رہے ہیں۔ مجیب خان کے مطابق چاہے وہ فیض کی نظم ہو یا حبیب جالب کی تخلیق یا پھرانقلاب زندہ باد کا نعرہ ہو ۔ یہ سب اردو ہی ہے جس کے سہارے ہمیں اپنے جذبات کے اظہار کا موقع مل رہا ہے۔ مجیب خان نے حالانکہ اس بات پر حیرت کا اظہار بھی کیا کہ مظاہرین کی نظر کیفی  صاحب کے گیت ’اتنے بازو  اتنے سر ‘ پر اب تک کیوں نہیں پڑی جبکہ یہ گیت نما نظم موجودہ حالات کے لئے بالکل موزوں ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ  اردو شاعری میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ کسی غیر اردو داں کو بھی  ایک شعر  یا کسی ایک مصرعہ سے اپنا گرویدہ بنالے اور پھر مظاہروں میں تو اردو کا اچھا خاصا استعمال ہو رہا ہے۔ اسی لئے مجھے محسوس ہو تا ہے کہ غیر محسوس طریقے سے ہی سہی اردو کو فائدہ ضرور پہنچے گا اور ملک میں اس کے چاہنے والوں کا حلقہ اور بھی وسیع ہو جائے گا۔
 ادارہ انجمن اسلام میں درس و تدریس سے وابستہ عبد الرحیم ریاض احمد نے اس بارے میں کہا کہ کسی حد تک یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حالیہ احتجاج میں اردو زبان کو کم ہی سہی لیکن  فروغ مل رہا ہے وہ یوں کہ مظاہرہ گاہ پر مختلف زبانوں کے بولنے والے افراد پہنچ رہے ہیں اور وہ سبھی  اردو  کے نعرے لگارہے ہیں یا اردو کے کسی شعر کے ذریعے اپنی بات کا اظہار کررہے ہیں۔ ایسے میں اردو کو سمجھنے اور جاننے کی کوشش تو ہو گی اور اُمید افزا  بات یہ ہے  اردو کے فروغ کے  لئے فیض اور حبیب جالب کی نظمیں ،فریحہ نقوی کی نظم’ میں ہرشہر کا شاہین باغ ہوں ‘ اور دیگر اشعار  زبان کی  ترسیل میں  ایک اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ عبد الرحیم سر کے مطابق یہ عام کلیہ ہے کہ کسی بھی زبان سے آشنائی کا پہلا زینہ سماعت ہے اور اس احتجاج کے دوران مختلف اردو کو برتا جارہا ہےجس سے احتجاجی اعمال میں اردو زبان کی ترویج صاف طور پر نظر آتی ہے۔میں پرامید ہوں کہ یہ حلقہ اور وسیع ہوگا اور محبان اردو کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ عبد الرحیم سر کے مطابق ہم نے دیکھا کہ  دہلی  میں کتاب میلے میں فیض احمد فیض کی کلیات سب سے زیادہ فروخت ہونے کی خبر آئی۔ کولکاتا میں بھی تقریباً یہی صورتحال رہی۔ کچھ جگہوں پر احتجاج پر باقاعدہ لکھی گئی کتابیں فروخت ہونے کی بھی بات سامنے آئی۔ اس صورتحال پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اردو میں احتجاج پر جتنا وسیع  اور وقیع ذخیرہ  موجود ہے وہ شاید اور کسی زبان میں نہیں ہو گا ۔ اسی لئے ہمیں وہ ادب مظاہرین تک پہنچانا چاہئے  اور انہیں بتانا چاہئے کہ اردو کے پاس صرف فیض یا جالب نہیں بلکہ کیفی ،مجروح، ساحر اور سردار جعفری جیسے بہترین تخلیق کار بھی موجود ہیں جن کے قلم سے نکلا ایک ایک لفظ اپنے اندر ایک جہان معنی پوشیدہ  رکھتا ہے۔ 
 معروف فلم ،سیرئیل اور ڈراما اداکار عمران خان نے کہا کہ اردو ہر دور اور ہر محفل میں اپنے آپ کو منوانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ان مظاہروں کو  دیکھ کر یہی محسوس ہو تا ہےکہ جتنی مربوط و منظم اردو زباں ہے اتنے ہی منظم  یہ مظاہرے ہو رہے ہیں۔ عمران خان نے لیکن یہ واضح کیا کہ یہاں مظاہروں کا مقصد دوسرا ہے ، اردو کی تشہیر نہیں ہے اس لئے مجھے نہیں لگتا کہ کوئی  بہت  بڑا  فائدہ ہو گا ۔  ویسے بھی ہمیں فائدہ کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہئے کیوں کہ یہ مظاہرہ بہت بڑے مقصد کے تحت کئے جارہے ہیں اور کامیاب بھی ہیں جبکہ  زبان کی تشہیر ایک ضمنی چیز  ہے۔ اس کے باوجود میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر اردو کی مدد سے ہمیں اپنا مقصد حاصل ہو تا ہے اور اس کی وجہ سے اگر ہم زبان کو فروغ دینے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
 معروف بیوٹی کمپنی ’بیوٹی کانسیپٹ‘ کے برانڈ منیجر شہباز ٹیمکر کے مطابق  اردو کے پاس احتجاج اور مظاہروں کے لحاظ سے جو ذخیرہ الفاظ ہیں وہ دیگر کسی بھی ہندوستانی زبان میں نہیں  ہیں۔ یہ الفاظ اتنے عام فہم اور آسان ہیں کہ انہیں غیر اردو داں بھی بہت آسانی سےسمجھ اور بول لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مظاہروں میں اردو کے بغیر وہ اثر پذیری نہیں آتی جس کی ضرورت ہو تی ہے۔ شہباز ٹیمکر کے مطابق اردو نے ماضی میں بھی حق و انصاف کا ساتھ دیا ہے اور آج بھی یہ زبان حق  کے لئے آواز بلند کرنے والوں کے ساتھ ہے۔جہاں تک بات ہے کہ ان مظاہروں سے سے اردو کو واقعی کوئی فائدہ ہو گا تو مجھے لگتا ہے کہ ایسا ہو گاکیوں کہ ان مظاہروں میں صرف اردو داں نہیں بلکہ دیگر قوموں اور زبانوں کے افراد بھی شریک ہو رہے ہیں اورمیرا یہ تجربہ رہا ہے کہ اردو بولنے والوں کے رابطے میں آنے کے بعدکوئی بھی  اردو سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ اسی لئے فائدہ تو ہو گا لیکن وہ کتنا ہو گا اور کس سطح کا ہو گا اس پر البتہ بحث کی جاسکتی ہے۔
  درس تدریس سے وابستہ آسیہ انعام  اللہ نے بتایا کہ اردو کا حلقہ ویسے بھی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور اگر گزشتہ ۲؍ ماہ سے جاری مظاہروں کی وجہ سے اس زبان کو فروغ ملتا  ہے تو  یہ نہایت خوش آئند بات ہو گی ۔ آسیہ انعام اللہ کے مطابق اردو کے فروغ کیلئے ویسے تو منظم کوششیں ہو رہی ہیں لیکن غیر محسوس طریقے سے  اگر کہیں زبان کو فروغ مل رہا ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ میری نظر میں مظاہروں سے زبان کا فروغ بہت دور کی کوڑی ہے لیکن اگر ایسا ہو تاہے تب بھی یہ زبان کیلئے اچھا ہی ہے۔بہر حال ہمیں اردو کے فروغ کیلئے اپنی سی کوششوں میں مصروف رہنا چاہئے اور اپنی طرف سے یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ان مظاہروں میں شامل ہو کر اس کاز کو بھی تقویت پہنچائیں اور زبان کی خدمت کا کام بھی انجام دیں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK