• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

’کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سےوہی نسبت ہو جو ہارون کوموسیٰؑ کےساتھ تھی‘

Updated: November 03, 2023, 1:27 PM IST | Molana Nadimul Wajidi | Mumbai

سیرتِ رسول پاکؐ کی اس خصوصی سیریز میں غزوۂ تبوک کا تذکرہ جاری ہے۔ آپؐ نے غزوہ کی تیاری کے لئے صحابہ کرامؓ کو صدقہ کا حکم فرمایا تھا۔ اس حکم کے بعد منافقین جس طرح سامنے آئے اس کا تفصیلی ذکر زیر نظر قسط میں پڑھئے اور یہ بھی ملاحظہ کیجئے کہ حضرت علیؓ بحکم نبیؐ غزوہ میں شریک نہیں ہوئے تو منافقین نے انہیں نشانہ بنایا اور تب آپؐ نے ان کے ساتھ اپنی اس نسبت کااظہار کیا جو ہارون و موسیٰؑ کے درمیان تھی۔

Pilgrims were sitting in the sanctuary of the Prophet`s Mosque. Every corner of this land is paradise for the lovers of the Prophet. Photo: INN
مسجد نبویؐ کے حرم میں زائرین بیٹھے ہوئے۔ اس سرزمین کا ہر گوشہ عاشقانِ رسولؐ کے لئے جنت ہوتا ہے۔ تصویر:آئی این این

نادار صحابہؓ کی حالت
غزوۂ تبوک پر بعض صحابہ ؓ کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ نہ سواری تھی نہ زاد راہ، مگر ان کے دل میں جہاد کا شوق تھا۔ یہ حضرات اس درخواست کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہمیں سواری عطا فرمادیجئے، ہم بھی جہاد کے لئے جانا چاہتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کوئی سواری نہیں ہے، یہ سن کر وہ حضرات روتے ہوئے واپس ہوئے، قرآن کریم کی یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی:
 ’’اور نہ ان لوگوں پر کوئی گناہ ہے جو آپ کے پاس آئے کہ آپ ان کو (جہاد میں ) جانے کے لئے کوئی سواری عطا فرمائیں ، آپ نے ان سے کہا کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں جس پر تم کو سوار کرسکوں ، (یہ سن کر) وہ لوگ اس حال میں واپس گئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اس غم کی وجہ سے کہ ان کے پاس خرچ کے لئے کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘(التوبۃ: ۹۲)
ان نادار صحابہؓ میں حضرت عبد اللہ بن مغفلؓ اور حضرت ابو یعلی عبد الرحمٰن بن کعبؓ بھی تھے۔ یہ دونوں حضرات بھی روتے ہوئے واپس ہوئے، راستے میں یامین بن عمرو نضریؓ مل گئے، انہوں نے رونے کی وجہ پوچھی، ان دونوں حضرات نے جواب دیا کہ ہم جہاد میں جانا چاہتے ہیں ، مگر نہ ہمارے پاس کوئی سواری ہے اور نہ رسول اللہ کے پاس ہے، غم اس بات کا ہے کہ ہم اس غزوے میں شرکت سے محروم رہ جائیں گے، یہ سن کر حضرت یامینؓ بھی افسردہ ہوگئے، انہوں نے ایک اونٹ خرید کر ان دونوں کو دیا اور زاد راہ بھی مہیا کیا۔ (تفسیر کبیر: ۲/۳۸۱، ۳۸۲، شرح المواہب اللدنیہ: ۳/۶۳) 
ایک اور صحابی ہیں حضرت علبہ بن زیدؓ، یہ صحابی گھر پہنچے، غم سے نڈھال تھے، رات ہوئی، تہجد کی نماز پڑھی، اور روتے ہوئے یہ دُعا کی، اے اللہ! تو نے جہاد کا حکم دیا ہے، میں جانا چاہتا ہوں لیکن تو نے مجھے اتنا مال عطا نہیں کیا کہ میں تیرے رسول کے ساتھ وہاں جاسکوں ، اور تیرے نبی کے پاس بھی اتنا نہیں ہے کہ وہ میرے لئے سواری کا انتظام کرسکیں ، جو مال مجھے ملے گا وہ میں مسلمانوں پر صدقہ کردوں گا، فی الحال تو میری یہ جان ہے میں اسی کو صدقہ کرتا ہوں ۔ صبح کو وہ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر تھے، آپؐ نے فرمایا، آج رات جس شخص نے صدقہ کیا ہے وہ کھڑا ہوجائے، کوئی بھی کھڑا نہیں ہوا۔ آپؐ نے دوبارہ یہی بات ارشاد فرمائی، علبہ بن زیدؓ کھڑے ہوئے، آپؐ نے فرمایا خوش ہوجاؤ، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے تمہارا صدقہ مقبول صدقات کی فہرست میں لکھا گیا ہے۔ (زاد المعاد: ۳/۳۸۶، ۳۸۷) 
ایک طرف تو غربت اور ناداری کا یہ حال، دوسری طرف شوق کا یہ عالم، چند منافقین کو چھوڑ کر، یا چند ایسے لوگوں کو چھوڑ کر جن کو کوئی مجبوری تھی سب ہی لوگ جہاد میں شرکت کی تمنا رکھتے تھے، حالاں کہ موسم سخت تھا، سفر لمبا تھا، پھر مقابلہ قیصر روم کی فوج سے تھا۔ منافقین ان کو سفر کی طوالت، موسم کی شدت اور دشمن کی طاقت سے ڈرا رہے تھے اور کہہ رہے تھے لا تنفروا فی الحر (گرمی میں مت نکلو) اس کے باوجود صحابۂ کرامؓ کے دلوں سے جہاد کا جذبہ کم نہ ہوتاتھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی جذبے نے اسلام کی آبیاری کی، اسی جذبے نے اس نئے دین کو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچایا، کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو کسی عذر کے بغیر جہاد میں نہیں گئے، قرآن کریم نے ان کو متخلفین کہا ہے، ان کا انجام کیا ہوا؟ اس سوال کا جواب ان شاء اللہ آگے آئے گا۔ 
منافقین کا حال
غزوۂ تبوک اس لحاظ سے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اس موقع پر منافقین کا گروہ پوری طرح بے نقاب ہوکر سامنے آگیا۔ قرآن کریم کی سورۂ توبہ میں متعدد آیات ایسے ہی منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو خود بھی غزوۂ تبوک میں نہیں گئے اور دوسرے سادہ لوح مسلمانوں کو بھی روکتے رہے۔ پہلے تو انہوں نے ان غریب مسلمانوں کو برا بھلا کہا جو محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال رہے تھے، اس غربت اور افلاس کے باوجود وہ یہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی آمدنی میں سے کچھ پیش کردیں ، خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو، منافقین ایسے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے کہ تمہارے پاس خود تو کھانے کیلئے کچھ نہیں ہے اور صدقہ دینا چاہتے ہو۔ سورۂ توبہ کی آیت ۷۹؍ اور ۸۲؍ میں کہا گیا ہے کہ ایسے منافقین کے لئے سخت ترین عذاب ہے جو غریب مسلمانوں کا محض اس لئے مذاق بنا رہے ہیں کہ وہ اپنی کمائی کا کچھ حصہ اس غزوے کی مد میں پیش کرنا چاہتے ہیں ، یہاں اللہ رب العزت کی ناراضگی کا عالم یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا جارہا ہے کہ منافقین کو قیامت کے دن درد ناک عذاب دیا جائے گا، آپ ان کے لئے مغفرت کی دُعا کریں یا نہ کریں ، اگر آپ ستر مرتبہ بھی دعائے مغفرت کریں گے اللہ قبول نہیں کرے گا۔ 
صحیح مسلم میں حضرت ابو مسعودؓ کی روایت ہے کہ اللہ کی طرف سے ہمیں صدقے کا حکم دیا گیا اور ہمارا حال یہ تھا کہ ہم محنت مزدوری کرتے تھے، ہمارے پاس کچھ جمع نہ تھا اور نہ ہماری کچھ زیادہ آمدنی تھی، بس جو کچھ تھوڑا بہت کماتے تھے اسی میں سے نکالتے تھے، چنانچہ ابو عقیلؓ نے آدھا صاع (تقریباً پونے دو سیر) صدقہ پیش کیا، ایک اور شخص آیا اس نے کچھ زیادہ دیا، منافقین ان کا مذاق اڑانے لگے کہ کتنی حقیر اور معمولی سی چیز صدقہ میں لے کر آئے ہو، اللہ کو ایسی معمولی چیزوں کی ضرورت نہیں ہے، اگر کوئی شخص کچھ زیادہ پیش کرتا تھا تو اس پر ریاکاری، شہرت اور نام ونمود کی طلب کا الزام لگاتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
’’جو لوگ برضا و رغبت خیرات دینے والے مومنوں پر (ان کے) صدقات میں (ریاکاری و مجبوری کا) الزام لگاتے ہیں اور ان (نادار مسلمانوں ) پر بھی (عیب لگاتے ہیں ) جو اپنی محنت و مشقت کے سوا نہیں پاتے سو یہ (ان کے جذبۂ اِنفاق کا بھی) مذاق اڑاتے ہیں ، اللہ انہیں ان کے تمسخر کی سزا دے گا اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔ (التوبہ:۸۹)
منافین کا حال یہ تھا کہ وہ خود بھی مختلف حیلے بہانے بناکر غزوے میں جانے سے بچ رہے تھے اور دوسروں کو بھی روک رہے تھے، اور ان سے کہہ رہے تھے کہ تم اتنی شدید گرمی میں ہر گز جانے کا ارادہ نہ کرو، اللہ رب العزت نے اس بات کا جواب دیا: ’’آپ کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے۔‘‘ (التوبۃ: ۸۱) 
بہرحال، رسولؐ اللہ مخلص اور جاں نثار صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ غزوہ میں تشریف لے گئے۔ آپؐ کے جانے کے بعد یہ منافقین خوشی سے اچھلنے کودنے لگے کہ دیکھو ہم نے حیلے بہانے کرکے کس طرح اپنی جان بچائی ہے، اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تمہاری خوشی چند روزہ ہے بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ تمہاری ہنسی رخصت ہوجائے گی اور تم دھاڑیں مار مار کر روؤگے۔ حضرت ابن عباسؓ اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دنیا چند روزہ ہے، اس میں تم جتنا چاہو ہنس لو، اور خوش ہو لو، پھر جب یہ دنیا ختم ہوگی اور تم اللہ کے پاس جاؤگے تب تمہارا رونا شروع ہوگا جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ (تفسیر مظہری: ۴/۲۷۴) 
منافقین کے بہانے بھی کتنے گھٹیا تھے، اس کا اندازہ جد بن قیس منافق کے ایک بہانے سے بہ خوبی لگایا جاسکتا ہے۔ جس وقت غزوۂ تبوک کے لئے جانے کی تیاری چل رہی تھی، رسولؐ اللہ نے جد بن قیس سے فرمایا: کیا تو اس سال بنو اصفر کے ساتھ مقابلے کے لئے نہیں جائے گا؟ اس نے کہا: یارسولؐ اللہ! کیا آپ مجھے فتنے میں پڑنے سے بچالیں گے، میری قوم یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ مجھ سے زیادہ عورتوں کو پسند کرنے والا کوئی دوسرا نہیں ہے، مجھے ڈر ہے کہ میں بنی اصفر کی عورتوں کو دیکھ کر ان پر لٹو نہ ہوجاؤں ۔ آپؐنے یہ کہہ کر اس سے اعراض فرمایا: ٹھیک ہے تو نہ جا، اس پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ’’ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ مجھے نہ جانے کی اجازت دے دیں ، اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیں ، آگاہ رہئے کہ یہ تو فتنے میں پڑ ہی چکے ہیں ، بلاشبہ دوزخ کافروں کو گھیرنے والی ہے۔‘‘ (سورۂ توبہ: ۴۹) 
حضرت علیؓ مدینہ میں رہے
حضور اکرم ؐ نے حضرت علیؓ بن أبی طالب کو جانے والوں کی فہرست میں شامل نہیں فرمایا بلکہ انہیں حکم دیا کہ وہ مدینے ہی میں رہیں ، اور یہاں رہ کر اپنے گھر والوں کا، اور تمام ازواج مطہرات کا خیال رکھیں ، ان کی خبر گیری کرتے رہیں ۔ سفر طویل تھا، ضرورت تھی کہ گھروں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی معتبر شخص مدینے میں رہے، حضرت علی ؓسے زیادہ معتبر اور بھروسے کے لائق کوئی دوسرا شخص نہیں ہوسکتا تھا، وہ آپؐ کے چچا زاد بھائی تھے، پھر آپ کے داماد بھی تھے اور داماد ہونے کی حیثیت سے تمام ازواج مطہرات کے لئے اولاد کے درجے میں تھے، اِس لئے ان کو مدینے میں رہنے کا حکم دیا گیا۔ منافقین نے حضرت علیؓ کو نشانے پر رکھ لیا اور کہنا شروع کردیا کہ رسولؐ اللہ علیؓ کو اس لئے ساتھ نہیں لے گئے کہ اب وہ جسمانی طور پر بھاری پڑ گئے ہیں ، لڑنا ان کے بس کا نہیں رہا، بعض منافقوں نے یہ بھی کہا کہ اب رسولؐ اللہ کے دل میں علیؓ کی وہ قدر و منزلت نہیں ہے جو پہلے تھی۔ یہ سن کر حضرت علیؓ نے ہتھیار اٹھائے اور تبوک کی طرف چل دیئے، آپؐ اس وقت جَرَفْ میں ٹھہرے ہوئے تھے، حضرت علیؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! منافقین کا خیال ہے کہ آپ نے مجھے اس لئے اپنے ہمراہ نہیں لیا کہ میں جسمانی طور پر بھاری ہوگیا ہوں اور اب آپؐ کے دل میں میرے لئے وہ جگہ نہیں رہی جو پہلے تھی۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا: وہ جھوٹے ہیں ، میں نے تمہیں اپنے گھر والوں کے پاس ان کا خیال رکھنے کیلئے چھوڑا ہے، تم واپس جاؤ اور اپنے اور میرے گھر والوں کا خیال رکھو، کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون کو موسیٰؑ کے ساتھ تھی، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، حضرت علیؓ یہ سن کر مدینے واپس چلے گئے۔ (صحیح البخاری:۶/۳، رقم الحدیث: ۴۴۱۶، کتاب المغازی، زاد المعاد: ۳/۳۸۳) 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK