چھ بندوں پر مشتمل وندے ماترم گانے کے سلسلے کی چند باتیں تشنہ ہیں مثلاً یہ قومی گیت کیسی محفلوں اور جلسوں میں گایا جائیگا اور حاضرین سے جو توقع کی گئی ہے کہ وہ اس کے گائن کے وقت احترام کو ملحوظ رکھیں تو یہ نہیں بتایا گیا کہ ملحوظ رکھنے کا طریقہ کیا ہوگا۔
ہمارے ملک میں قوم پرستی کی ہمیشہ قلت رہتی ہے۔ قلت اس لئے رہتی ہے کہ اس کی طلب (ڈیمانڈ) کافی زیادہ ہے۔ (مگر) میرے کئی دہائیوں پر مشتمل کریئر کے دوران مَیں نے کبھی نہیں دیکھا کہ وندے ماترم کی ڈیمانڈ کی گئی ہو، اور یہ ڈیمانڈ تو بالکل نہیں ہوئی کہ اسے قومی ترانے کے ساتھ جوڑ دیا جائے لیکن اب ہمیں کہا گیا ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔
وندے ماترم کے چھ بند ہیں۔ جن لوگوں کو یہ چھ بند یاد نہیں ہیں اُن پر لازم ہوگا کہ انہیں یاد کرلیں۔ اس کا گانا (گائن) ۳؍ منٹ اور ۱۰؍ سیکنڈ کا ہونا چاہئے۔ وزارت اُمور داخلہ نے یہ حکم تو جاری کیا مگر حکمنامے سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیااس کا گانا اختیاری ہوگا (جیسا کہ آدھار ہے) یا لازمی ہوگا (جیسا کہ آدھار ہے)۔
مشکل کہاں پیش آتی ہے؟ وزارت کے حکم کے الفاظ پر۔ وزارت داخلہ کا مطمح نظر یہ ہے کہ یہ گیت کن موقعوں پر گایا جائے (نہ کہ ریکارڈ پر پلے کیا جائے) اس کی تفصیل جاری نہیں کی جاسکتی۔ یہ جب بھی گایا جائے تب اس کے احترام کو ملحوظ رکھا جائے۔ یہ وضاحت بھی نہیں ہے کہ احترام کو کس طرح ملحوظ رکھا جائے البتہ ہمیں جلد ہی معلوم ہوجائیگا کہ احترام کی خلاف ورزی کس کو کہتے ہیں۔ ہم میں جو زیادہ قوم پرست ہیں وہ اُن کو اچھی طرح سمجھا دیں گے جو کم قوم پرست ہیں۔
مَیں نے یہ بات کیوں کہی کہ اس کا گانا لازمی ہے یا اختیاری، اس کی وجہ یہ ہے کہ وزارت کے حکمنامے کے مطابق یہ گیت ہر اُس موقع پر گایا جائے گا جو کہ لازمی طور پر پُرتکلف نہ ہو مگر اس میں وزراء وغیرہ موجود ہوں اور اس موقع (جلسے) کو اہمیت حاصل ہو۔ مزید کہا گیا ہے کہ سب گائیں تو بہتر (Desirable) ہوگا۔ اس سے قبل کے جملے میں ’’وزراء وغیرہ‘‘ کا تذکرہ آیا ہے جو حکمنامے سے مستعار ہے۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ’’وغیرہ‘‘ میں کون شامل ہے اور کون نہیں ہے۔ اسی طرح ’’ڈیزائریبل‘‘ کی درست تشریح کیا ہوگی اس کا بھی علم نہیں ہوتا۔
اگر کسی نے ڈیزائریبل کا معنی نہیں سمجھا تو جان لیجئے کہ وہ بھی عنقریب سمجھا دیا جائیگا کہ اس کا معنی کیا ہے کیونکہ، جیسا کہ مَیں نے کہا، ہمارے ملک میں قوم پرستی کی ہمیشہ قلت رہتی ہے اور یہ ایک طریقہ ہے (وندے ماترم گانا) جس سے یہ قلت دور کی جاسکتی ہے۔ یہ پڑھتے ہوئے یہ بھی دھیان رکھنا چاہئے کہ جب بھی ایسے معاملات اُٹھائے جاتے ہیں اُن کا فائدہ ہی ہوتا ہے یہ ہمیں تاریخ سے معلوم ہوتا ہے۔ اب سے ٹھیک پچاس سال پہلے (۱۹۷۶ء میں) اُس وقت کی حکومت نے آئین میں ’’بنیادی فرائض‘‘ کا اضافہ کیا تھا۔ فرائض کیا ہیں؟ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ’’ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے نیز مذہبی، لسانی، علاقائی اور طبقہ جاتی تنوع کے ساتھ ملک کے تمام لوگوں میں بھائی چارہ ہو۔اس سے کون انکار کرسکتا ہے کہ اس مقصد کو پا لیا گیا ہے؟ اگر یہ باتیں ہمیں نہ سکھائی گئی ہوتیں تو یہ ملک بھائی چارہ اور خواتین کے تحفظ کی عالمی مثال کیسے بنتا؟
فرائض میں یہ بات بھی شامل کی گئی تھی کہ جنگلات، تالاب، ندیوں اور حیوانات سمیت پورے قدرتی ماحول کی حفاظت کی جائے۔ اسی طرح سائنسی رجحان، انسان دوستی اور تجسس (یا کچھ پوچھنے، سوال کرنے) نیز اصلاحات کو فروغ دیا جائے۔ ان فرائض کو اس لئے شامل کیا گیا تھا کیونکہ اُس وقت بھی قوم پرستی کی ڈیمانڈ زیادہ اور رسد کم تھی۔ اب بھی کچھ ویسی ہی کیفیت ہے۔ جو لوگ موجودہ اقتدار سے مطمئن نہیں ہیں یا اس کے مخالف ہیں، یہ کہنا چاہیں گے کہ ملک سے محبت کے اظہار کے اور بھی طریقے ہیں۔ قومی گیت اور نعرے قومی ترقی کیلئے کتنے اہم ہیں؟ بہتر ہوگا کہ ہم عوام کو یہ تلقین کریں کہ ٹریفک کے اُصولوں کی پاسداری کریں اور یہاں وہاں کوڑا کرکٹ نہ پھینکیں۔
قومی گیت میں ندیوں کا ذکر ہے اور ہمارا حال یہ ہے کہ کوئی دوسرا ملک نہیں ہوگا جہاں کی ندیوں کا پانی اتنا آلودہ ہو۔ کہنے والے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم رشوت قبول نہ کرکے اور ٹیکس کی ادائیگی میں بخل (چوری) نہ کرکے بھی ملک سے محبت کا ثبوت پیش کرسکتے ہیں۔ حیرت ہے کہ ٹیکس چوری سے باز رہنے کو فرائض میں شامل نہیں کیا گیا ہے جبکہ ہم میں سے اکثر لوگ اسی فراق میں رہتے ہیں کہ ٹیکس بچ جائے اور جب وہ ضابطوں سے بچ نہیں پاتے تو ٹیکس چوری کے طریقے اختیار کرتے ہیں۔
سچ پوچھئے تو فرائض میں مزید کئی باتیں شامل کی جاسکتی ہیں مگر جو لوگ موجودہ اقتدار کے ہمنوا ہیں وہ کہیں گے کہ ایسی تمام باتیں (فرائض) تو کئی ملکوں میں ہیں، ان میں کچھ خاص نہیں ہے، کچھ ایسا جسے ہم لازماً اپنا کہہ سکیں، اس لئے کچھ ایسا ہونا چاہئے جس کے ذریعہ ہم ملک کے تئیں اپنی محبت کا اظہار کرسکیں۔ یہ ’’کچھ ایسا‘‘ جو ہے اُسی کی فراہمی زیر بحث حکمنامے نے کی ہے کہ ’’جب بھی قومی گیت کا آفیشیل ورژن گایا جائے گا یا اس کو پلے کیا جائے گا، تمام حاضرین کھڑے رہیں گے اور ہر ایک اٹینشن میں رہے گا۔ شاید اس کا معنی یہ ہے کہ جب یہ طے ہوجائے کہ جلسہ گاہ میں قومی گیت گایا جائے تب حاضرین موجود رہیں، اس کا معنی یہ ہوا کہ اب موجودگی اور شرکت اختیاری نہیں رہ گئی۔ اگر ایسا کرنا ہے تو قومی گیت اور قومی ترانے میں کیا فرق ہوگا؟ ہمیں اس کا جواب نہیں ملتا لیکن ہماری حکومت کے پاس جواب یقیناً ہوگا۔
اس ضمن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکولوں میں جب تدریس سے پہلے سب کو یہ قومی گیت مل کر گانا چاہئے۔ میرے خیال میں یہ ضروری ہے تاکہ آئندہ نسل میں اُسی معیار کی حب الوطنی پیدا کی جائے جو ہماری نسل میں تھی اور جو ہم سے پہلے کے لوگوں میں تھی۔ اس کے علاوہ بھی کئی فائدے ہوں گے۔
بہرحال اب یہ ہوگا کہ جو بے روزگار ہیں وہ گھر بیٹھے اس گیت کے چھ بند یاد کریں گے۔ بعدازیں وہ اُس بھیڑ کا حصہ بنیں گے جو اس بات پر نگاہ رکھے گی کہ کون ضروری احترام کو ملحوظ رکھ رہا ہے اور کون نہیں۔ جو نہیں کرے گا اُس کے خلاف وہ خود ہی کارروائی کریں گے اور اب جلد ہی اس قسم کی خبریں آسکتی ہیں۔ اس کے سبب جو کاہل ہیں وہ بھی تین منٹ ۱۰؍ سیکنڈ کھڑے رہنے پر مجبور ہوں گے جس کے نتیجے میں اُن کی فٹ نیس بہتر ہوگی۔ اس طرح ملک ترقی کرے گا ۔ n