ہند امریکہ تجارتی معاہدے میں زرعی مصنوعات اور درآمدی وعدوں سے متعلق الفاظ کی تبدیلی نے ہندوستانی کسانوں اور ماہرین اقتصادیات کو پریشان کردیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 11:56 AM IST | Agency | New Delhi
ہند امریکہ تجارتی معاہدے میں زرعی مصنوعات اور درآمدی وعدوں سے متعلق الفاظ کی تبدیلی نے ہندوستانی کسانوں اور ماہرین اقتصادیات کو پریشان کردیا ہے۔
امریکہ اور ہندوستان کے درمیان حالیہ عبوری تجارتی معاہدے نے جہاں معاشی تعاون کی نئی راہیں کھولی ہیں، وہیں وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ترمیمی دستاویزات نے کئی نئے سوالات اور ابہام پیدا کر دیئے ہیں۔ خاص طور پر زرعی مصنوعات اور درآمدی وعدوں سے متعلق الفاظ کی تبدیلی نے ہندوستانی کسانوں اور ماہرینِ اقتصادیات میں الجھن پیداکردی ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی تجارتی مفادات اور ملک کی حساس سیاسی نوعیت کے درمیان توازن برقرار رکھنا دونوں ممالک کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے امریکہ،ہندوستان کے درمیان ہونے والے عبوری تجارتی معاہدے سےمتعلق اپنی فیکٹ شیٹ پر نظرثانی کرتے ہوئے زرعی مصنوعات اور ہندوستان کی جانب سے امریکی اشیا خریدنے کے عزم سے متعلق زبان میں تبدیلی کی ہے۔ ان تبدیلیوں نے پہلے سے موجود الجھنوں اور خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، بالخصوص ہندوستان کے کسانوں میں، جنہوں نے پہلے ہی اس معاہدے کے دائرہ کار اور اثرات پر سوالات اٹھائے تھے۔
ترمیم شدہ بیان میں، امریکہ نے زرعی مصنوعات کی اس فہرست سے ’دالوں‘ کا حوالہ حذف کر دیا ہے۔ اس سے قبل۹؍ فروری کو جاری کردہ ورژن میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان ’کچھ مخصوص دالوں‘ سمیت کئی امریکی غذائی اور زرعی مصنوعات پر ٹیرف ختم یا کم کر دے گا۔ ایک دن بعد جاری اپ ڈیٹ ورژن سے یہ بات حذف کر دی گئی۔
اس تبدیلی کے بعد امریکی سامان کی خریداری سے متعلق مؤقف کو نرم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ پہلے کہا گیا تھا کہ ہندوستان۵۰۰؍ بلین ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی مصنوعات خریدنے کا’عہد‘کرتا ہے۔ اب نئے ورژن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان۵۰۰؍ بلین ڈالر مالیت کی امریکی توانائی، آئی ٹی، کوئلہ اور دیگر سامان خریدنے کا ’ارادہ‘ رکھتا ہے۔ ماہرین نے اس تبدیلی کو لفظوں کا ہیر پھیر قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق، ہندوستان دنیا میں دالوں کا سب سے بڑا صارف ہے جو عالمی مانگ کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ استعمال کرتا ہے۔ چونکہ دالیں سیاسی طور پرایک حساس زرعی مصنوعات ہیں، اسلئے ہندوستانی کسان تنظیموں نے معاہدے میں وضاحت کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔کسان تنظیموں کے مشترکہ ادارے ’سمیُکت کسان مورچہ‘ نے اس تجارتی معاہدے کیخلاف ملک گیر احتجاج کی اپیل کی ہےکیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے مقامی زراعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
وزیراعظم مودی کی قیادت میں ہندوستانی حکومت نے زرعی شعبے کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیر تجارت پیوش گوئل کے مطابق ڈیری اور پولٹری جیسی حساس زرعی مصنوعات کو تجارتی مذاکرات سے باہر رکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کی ضرورت اور مقامی سیاسی حساسیت کے درمیان توازن رکھنے کی کوشش کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رُدر فورڈ اور موتی کی شاندار کارکردگی، ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو شکست دے دی
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے ہندوستان پر ملے جلے اثرات مرتب ہوں گے۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ ٹیرف میں کمی سے ملبوسات اور فرنیچر کے شعبوں میں، ہندوستانی مینوفیکچررز کو برآمدات میں فائدہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، امریکی درآمدات سے بڑھتا ہوا مقابلہ مقامی شعبوں کی صنعت کو متاثر کر سکتا ہے۔۵۰۰؍ بلین ڈالر کی خریداری کی تجویز نے طویل مدتی مالی ذمہ داریوں سے متعلق خدشات بھی پیدا کئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:پران نے طویل عرصے تک بطور ویلن فلموں پر راج کیا
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان مہینوں کے تناؤ بھرے مذاکرات کے بعد ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیراعظم مودی سے گفتگو کے بعد اس معاہدہ کا اعلان کیا، جس میں ہندوستانی مصنوعات پر ٹیرف کو۲۵؍ فیصد سے کم کر کے۱۸؍ فیصد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ امریکہ نے روسی تیل خریدنے پر ہندوستان پر جرمانے کے طورپر عائد۲۵؍ فیصد ڈیوٹی بھی اس یقین دہانی کے بعد ختم کرنے کی بات کہی ہے کہ ہندوستان ایسی درآمدات میں کمی لائے گا۔ اس معاہدے کے بعدسیاسی سطح پر بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ ایک جانب ٹرمپ نے وزیر اعظم مودی کو اپنا دوست قرار دیا، تو دوسری جانب انہوں نے ہندوستان کے تجارتی تحفظاتی اقدامات اور روس کے ساتھ اس کے تعلقات پر تنقید بھی کی ہے۔