فنکار سماج کا ایک بیدار مغز اور باشعور فرد ہوتا ہے

Updated: May 03, 2020, 3:12 PM IST | Waris Alavi

بدلتے دور میں جبکہ مادی مفادات فن اور اس کے تقاضوں پر حاوی ہوتے جارہے ہیں، فنکار اور سمجھوتہ پسند فنکار کے درمیان کا فرق بھی دھندلا ہوتا جارہا ہے۔ اس مضمون میں یہی سمجھایا گیا ہے کہ فنکار کون ہے اور وہ سماج کے دیگر افراد سے کتنا مختلف اور ممتاز ہوتا ہے

Bookstore - PIC : INN
کتب خانہ ۔ تصویر : آئی این این

سوائے انسانوں اور انسانی معاشرے کے فنکار کی وابستگی اور وفاداری کسی کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔ انسانیت کی بنیادی قدریں، انسانوں کے بنیادی تقاضے اور عام زندگی کی سماجی اور سیاسی کشمکش سے لگاؤ پیدا کرکے ہی فنکار سیاسی اور آدرشی وابستگیوں کے اُن گڑھوں سے محفوظ رہ سکتا ہے جن کے دلدل میں پھنس کر اس کا فن تو فن، اس کی انسانیت تک غارت ہوجاتی ہے۔ بحیثیت فنکار کے اس کا سروکار عام انسانوں کی زندگی سے ہے۔ انسان، انسان کی فطرت، اس کی تمنائیں اور آرزوئیں، اس کی مایوسیاں اور محرومیاں، اس کے قہقہے اور اس کے آنسو، اس کے طربئے اور اس کے المئے، اس کی جبلتوں کے طوفان اور اس کی فطرت کی پُراسرار گپھائیں، اس کی نفسیاتی گتھیاں اور اس کے رومانی اور اخلاقی وسائل، اس کی تہذیبی اور معاشرتی روایتیں او راس کی سیاسی اور سماجی کشمکشیں۔ یہ ہے فنکار کی جولانگاہ۔ فنکار کو سماجی طور پر اتنا ہی باشعور اور سیاسی طور پر اتنا ہی ذمہ دار ہونا چااہئے جتنا کہ معاشرہ کے دوسرے افراد کو۔ اگر فنکار شاہ دولا کا چوہا نہیں اور اس کے منہ سے رال نہیں ٹپکتی تو پھر چاہے اس کی انگریزی ہمارے نقادوں جیسی پختہ نہ ہو تب بھی وہ اپنی مادری یا علاقائی زبانوں کے اخبار کو دیکھ ہی لیا کرتا ہوگا۔ وہ اتنا تو جانتا ہی ہوگا کہ ہمارے دیس میں اور دُنیا کے دوسرے دیسوں میں کیا ہورہا ہے۔ آخر فنکار سماج کا ایک بیدار مغز اور باشعور آدمی ہوتا ہے۔ بڑا فن جس ذہنی کلچر اور فکری نظم و ضبط کا مطالبہ کرتا ہے وہ اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب فنکار ایک شائستہ اور سلجھے ہوئے آدمی کی طرح زندگی اور سماج کے تمام مظاہر سے اپنا تعلق قائم رکھے۔ وہ اپنے تخیل کے دروازے ہر قسم کے انسانی تجربے کے لئے کھلے رکھتا ہے۔ انسانی معاملات میں فنکار کی دلچسپی حرکی اور زندہ ہوتی ہے۔ ایلیٹ ایک جگہ لکھتا ہے: 
 ’’فنکار کیلئے ہر چیز کام کی ہوتی ہے۔ لوگوں نے کیا سوچا ہے اور کیا کیا ہے، اس میں اسے زندہ تجسس ہونا چاہئے اور تمام چیزوں میں اس کی دلچسپی ان چیزوں کی خاطر ہونی چاہئے۔ فنکار مسلسل ان مسائل کو سلجھاتا رہتا ہے جو ہر آدمی کو اپنے طور پر سلجھانے پڑتے ہیں اور وہ ہر آدمی کے ہر عمل کو اپنے سے منسوب کرتا ہے۔ اس کیلئے یہ بتانا مشکل ہے کہ جن موضوعات میں وہ دلچسپی لیتا ہے ان میں سے کون سے کتنے پیمانے پر بحیثیت شاعر کے اسے کام لگیں گے۔ البتہ اس کی شاعری اس کے مطالعے اور اس کی دلچسپیوں سے ضرور متاثر ہوگی اور جتنا زیادہ وہ انہیں خود کی ذات میں جذب کرسکے گا اتنا ہی وہ اس کیلئے سود مند ثابت ہوں گی۔ بہرطور یہ بات شاعر کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگی کہ وہ شعر کہنے کے سوا کچھ نہ کرے اور نہ کسی چیز کی پروا کرے۔‘‘ 
 ہمارے معاشرتی نقادوں نے تو ایلیٹ کو ہیئت پرست سمجھ کر اس سے ہاتھ دھو ڈالے ہیں لیکن ایلیٹ کے یہاں فنکار کی سماجی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا جو تصور ملتا ہے وہ مارکسی نقادوں کے یہاں بھی نظر نہیں آتا کیونکہ مارکسی نقادوں کو نہ تو انسانی سماج سے اتنی دلچسپی ہے نہ اس کے تہذیبی ورثے سے۔ سماجی ذمہ داری کی بات اسی نقاد کو زیب دیتی ہے جو آرٹ کے حقوق کا گہرا شعور رکھتا ہو۔ زندگی کے مشاغل اور مظاہر سے ربط و ضبط کی بات ایلیٹ کے منہ سے اس لئے اچھی لگتی ہے کہ یہ ایلیٹ ہی ہے جو دوسرے موقع پر یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ تخلیق فن کے وقت فنکار کا سب سے بڑا اور واحد کنسرن (Concern) مناسب اور موزوں لفظ کی تلاش ہے بلکہ اس نے تو ایک موقع پر یہاں تک کہا ہے کہ تخلیق شعر کا مسئلہ شاعر کیلئے عروض کا مسئلہ ہے کیونکہ اپنی آخری شکل میں یہ تو بحر اور اوزان ہی ہیں جو شاعر کے تجربے کے اظہار کیلئے ایک فارمل اسٹرکچر کی تشکیل کرتے ہیں۔ 
 فن کے مسائل کی ایسی آگہی اور ان پر اصرار کے بغیر سماجی اور سیاسی ذمہ دار کی ہر بات یک طرفہ اور ادب کیلئے نقصان دہ بنتی ہے۔ غرض یہ کہ فنکار کی دلچسپیاں جتنی رنگا رنگ اور ہمہ گیر ہوں گی اتنا ہی اس کا فن جاندار اور متنوع صفات کا حامل ہوگا۔ آخر کوئی تو وجہ ہے کہ راہبوں اور تیاگیوں سے ادب پیدا نہیںہوتا۔ آخر کوئی تو وجہ ہے کہ سیاسی رہنما اپنی آپ بیتیاں لکھ سکتے ہیں، خطوط چھاپ سکتے ہیں لیکن ادب تخلیق نہیں کرسکتے۔ فنکار میں زندگی کے بے لوث تماشائی بننے کا جو عنصر ہوتا ہے وہ اسے اُن لوگوں سے مختلف اور ممتاز بناتا ہے جو مصلحتوں او رمجاہدوں کا جوش و خروش لے کر آتے ہیں۔ شخصیت کی نرمی اور گداز فنکار کو اس با ت کا اہل بناتا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں میں دلچسپی لے۔ سیاسی آدمی کی دلچسپی لوگوں میں بے لوث نہیں ہوتی۔ وہ انہیں حصول اقتدار کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اسی لئے وہ آدمیوں میں نہیں، آدمیوں کے سیاسی رویوں میں دلچسپی لیتا ہے۔ اسے فرد کی ذات اور شخصیت، اس کی نفسیاتی اور جذباتی زندگی میں نہیں بلکہ فرد کے سیاسی میلان میں دلچسپی ہوتی ہے۔ اسی لئے سیاستداں فرد کا مطالعہ فنکار کی طرح نہیں کرسکتا۔ 
 فنکار کی دلچسپی کا مرکز ہمیشہ فرد رہتا ہے۔ کسی کے چہرے کے نقوش، کسی کی آواز، کسی کی چال، کسی کے بات کرنے کا انداز، کسی چہرے کی افسردتی، کسی کی بشاشت، کہیں ہنستے ہوئے کہیں باتیں کرتے ہوئے کہیں جھگڑتے ہوئے لوگ، یہ ہیں فنکار کے مشاہدے کے نقطے، چہرے زندہ انسانوں کے چہرے، چہروں کے نقوش، چہروں کے سائے اور روشنیاں، اسی لئے فنکار کیلئے اپنے فن کو پیشہ بنانا خطرات سے خالی نہیں ہوتا چنانچہ چیخوف کی یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہئے جو اُس نے اپنے ڈاکٹری کے پیشے کے متعلق کہی تھی کہ اس پیشے کی وجہ سے وہ زیادہ سے زیادہ انسانوں کے قریب آیا۔ یہی وجہ ہے کہ چیخوف اپنے فن کی اساس اپنے مشاہدات اور انسانوں کے متعلق اپنے تجربات پر قائم کرسکا۔ فنکار کو تخلیق فن کی سہولتیں بہم پہنچانے کی غرض سے روس کی اشتراکی حکومت نے نہایت آرام دہ اور گراں بہا پہاڑی تفریح گاہیں بنائی تھیں جہاں جاکر مصنف ہر قسم کی جھنجھٹ سے دور سکون اور اطمینان سے تخلیق فن کا کام کرسکیں۔ جس قسم کا ادب انہوں نے تخلیق کیا اُسے آدمی سینی ٹوریم تو کیا پھانسی کے تختے پر بھی پڑھنا گوارا نہیں کرے گا۔ آرٹ کا موضوع آرٹ نہیں زندگی ہی ہے اور زندگی کی پیکار سے کٹ کر آدمی فنکار تو کیا آدمی نہیں رہتا۔ فنکار آدمی کے طور پر ایک ڈاکٹر، ایک حکیم، ایک عطار، ایک چشمہ ساز، ایک کلرک اور ایک فلم ڈائریکٹر کے طور پر زندہ نہ رہے گا تو وہ فن بھی تخلیق نہ کرسکے گا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK