آرین تو بہانہ ہے ، شاہ رُخ پر نشانہ ہے

Updated: October 28, 2021, 1:16 PM IST | Khalid Shaikh | Mumbai

الزامات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے این سی بی کی ٹیم نے انکوائری شروع کر دی ہے۔آرین کی ضمانت کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے ۔ معاملہ طول نہ کھینچتا اگر آرین ، شاہ رخ کا بیٹا نہ ہوتا ۔

Aryan Khan.Picture:INN
آرین خان۔ تصویر: آئی این این

یہ ایک کڑوی سچائی ہے جسے ہم آزادی کے بعد سے جھیلتے چلے آئے ہیں کہ ہم جنہیں ملک و قوم کی خدمت کیلئے ووٹ دیتے ہیں، منتخب ہونے کے بعد وہ اپنی خدمت میں لگ جاتے ہیں۔ برسراقتدار پارٹیوں کا رویہ بھی مختلف نہیں ۔ ان کی پہلی کوشش بیوروکریسی اور سرکاری و آئینی اداروں کو تابع کرنے کی ہوتی ہے۔ مودی حکومت اس معاملے میں طاق واقع ہوئی ہے۔ وہ ایسے تمام اداروں کو سیاسی مخالفین سمیت ان تمام لوگوں کے خلاف استعمال کرتی ہے جو اس کی پالیسیوں سے اتفاق  نہیں رکھتے یا ان پر تنقید کرتے ہیں۔ اس میں ’ہُما شُما کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ حد یہ ہے کہ مودی حکومت نے عدلیہ جیسے ادارے کو جو داد رسی کی آخری پناہ گاہ  ہے ، اُسے بھی نہیں بخشا۔ موجودہ چیف جسٹس رامنا کے پیشرؤوں کا ریکارڈ دیکھ لیجئے ، بیشتر نے سیاسی آقاؤں کی خوشنودی کے لئے حکومت نواز فیصلے دیئے ہیں۔ چیف جسٹس رامنا اوران کی  ٹیم کا رویہ اس سے مختلف ہے۔ جس نے حکومتوں ، پولیس محکموں اور تفتیشی ایجنسیوں کو پھٹکار لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ ایسے مواقع بھی آئے جب عدالت اور حکومت میں ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوگئی۔   انٹیلی جینس بیورو، سی بی آئی، این آئی اے ، ملک کے تین بڑے تفتیشی ادارے ہیں جن کی کارکردگی پر وقتاً فوقتاً انگلیاں اٹھتی رہتی ہیں۔سیاسی حلقوں میں انہیں حکومت کا ہرکارہ سمجھا جاتا ہے۔ انٹیلی جینس بیورو کے سابق ڈائریکٹر ایم کے  دھر جنہوں  نے بے حد قریب سے تفتیشی اداروں کی کارکردگی کا مطالعہ کیا ہے، اپنی کتاب  `Open Secrets` میں رقمطراز ہیں کہ تفتیشی ایجنسیاں سیاسی مہرے ہیں جن کی ریاستی یونٹوں اور پولیس کو سیاستداں اپنے حقیر مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے معاملات میں صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر وہ  ایجنسیوں اور حکومتوں کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے کہتے ہیں ’’ ہندوستان میں سیکولرزم کے تانے بانے بے حد کمزور ہیں اور تخریبی کارروائیوں کے لئے پوری مسلم قوم کو ذمہ دار ٹھہرانا زیادتی ہے۔ کچھ نوجوان ضرور گمراہ ہوئے ہیں ورنہ من حیث القوم مسلمان دہشت گرد نہیں اُن کی حب الوطنی اور خدمات  کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا  ۔ سیاسی پارٹیوں کو چاہئے کہ وہ ان اسباب کو دُور کریں جو گمرہی کا سبب ہیں۔‘‘ سابق آئی پی ایس افسر ایس ۔ ایم مشرف کہتے ہیں ’’ آر ایس ایس نے ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت اپنے مہرے ہر محکمے ، ادارے اور ایجنسی میں بٹھارکھے ہیں جبکہ قومی میڈیا اور اطلاعاتی سینٹر پربھی سنگھی ذہنیت کے حامل افراد فائز ہیں۔ جہاں تک پولیس کا تعلق ہے ، مسلمانوں میں اس کی شبیہ کبھی اچھی نہیں رہی۔ فرقہ وارانہ فسادات میں وہ ہندوتوا وادیوں کے ہراول دستے کا کام کرتی ہے تو دہشت گردی کے معاملات میں مسلمانوں کو پھانسنے کیلئے گنہگاروں اور بے گناہوں میں کوئی تمیز نہیں کرتی ۔ این سی بی بھی ایسا ہی ایک ادارہ ہے جو منشیات سے جڑے معاملات کی جانچ کرتا ہے۔ ان تمام اداروں کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ ان میں مبینہ طورپر کرپشن عام ہے اور ملزم کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے سودے بازی کی جاتی ہے۔ این سی بی کو شہرت فلم ایکٹر سشانت سنگھ راجپوت خودکشی کیس میں منشیات کا پہلو سامنے آنے سے ملی۔ اس کے افسروں نے جس طرح اس کی دوست اور فلم ایکٹرس رِیاچکرورتی اوراس کے بھائی سمیت دیگر فلم اسٹاروں سے پوچھ تاچھ کی ، اس سے بالی ووڈ اور منشیات کا کنکشن تو سامنے آیا لیکن تین مہینے کی تفتیش کے بعد جب عدالت نے رِیا کو ضمانت پر رہائی دی تو معاملہ آپ ہی ٹھنڈا پڑ گیا تعجب اس پر ہےکہ سال بھر بعد بھی خودکشی کیس میں سی بی آئی اپنی تفتیشی  رپورٹ  نہیں پیش کرپائی۔ مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد جس طرح سماج ہندومسلم خانوں میں تقسیم ہوا اُسی طرح بالی وو ڈ بھی دوخانوں میں بٹ گیا ہے۔ ایک بڑا طبقہ مودی بھکتی پر اترآیا ہے لیکن ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں جو ذمہ دار شہری ہونے  کے ناتے ملک کے حالات پر اپنی رائے کے اظہار سے نہیں چُوکتے۔ اُن پر حکومت اور مودی بھکت نظر رکھتے ہیں ۔ اگراس جرأت کے مکلّف مسلمان ہوں تو بھکتوں کا سوشل میڈیا اور وہاٹس ایپ اوورٹائم کرنے لگتا ہے ۔ ۲۰۱۵ء  میں شاہ رُخ خان اور عامر خان نے اور ۲۰۱۷ء میں نصیرالدین شاہ نے ملک میں بڑھتی عدم روا داری اور خون خرابے کو تشویشناک بتایا تو ان پر ملک دشمن اور پاکستانی ایجنٹ کا لیبل لگتے دیر نہیں لگی۔ یہ صورت حال  آج بھی قائم ہے۔۲؍اکتوبر کو ممبئی میں ایک کروز میں ڈرگ پارٹی کے بہانے ، جس طرح این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے کی قیادت میں  آٹھ لوگوں کی گرفتاری عمل میں آئی اُس میں کئی بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں۔ جن کا ذکر میڈیا میں ہوچکا ہے۔ یہ چھا پہ قومی توجہ  اور بحث کا موضوع اس وقت بنا جب گرفتار شدگان میں ایک ،شاہ رخ کا بیٹا آرین خان نکلا۔ معاملہ نے اُس وقت  نیا موڑلیا جب  این سی پی لیڈر اور ریاستی وزیر نواب ملک نے کچھ ویڈیوز اور تصویریں جاری کرکے  پورے  آپریشن کو فرضی قراردیا۔ ان کے دعوےبے بنیاد  نہیں۔  انہوں نے جو ویڈیوز اور تصویریں جاری کیں ان میں ایک پرائیویٹ جاسوس گوساوی کو  جس کے خلاف پونے میں فراڈ کا کیس درج ہے، آرین کا ہاتھ پکڑے اور  بی جے پی لیڈر منیش بھانو شالی کو ارباز مرچنٹ کا ہاتھ پکڑے این سی بی کے دفتر میں داخل ہوتے دکھایا گیا ہے ۔ بیورو نے صفائی دی کہ دونوں اس کے مخبر ہیں۔ اگر اسے درست بھی مان لیاجائے تو بجا طورپر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چھاپہ ماری آپریشن میں ان کی موجودگی چہ معنی دارد؟ نواب ملک نے اسی  پر بس نہیں کیا وہ سمیر وانکھیڈے کے خلاف مسلسل الزامات کے گولے داغ رہے ہیں جس میں وصولی کا الزام  بھی شامل ہے۔ اس تعلق سے گوساوی کے باڑی گارڈ اور کیس کے گواہ پربھاکرسیل کے انکشاف نے کہ  آرین کی رہائی کے لئے کروڑوں کی وصولی کا منصوبہ بنایا گیا جس میں آٹھ کروڑ سمیر وانکھیڈے کو دیئے جانے تھے، جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اس سلسلے میں دوصفحات پر مشتمل خود کو این سی بی کا رکن بتاتے ہوئے کسی نے فرضی چھاپوں اور کرپشن کی قلعی کھول دی ہے۔ الزامات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے این سی بی کی ٹیم نے انکوائری شروع کر دی ہے۔آرین کی ضمانت کا  معاملہ  ہائی کورٹ میں  زیرسماعت  ہے ۔  معاملہ طول نہ کھینچتا اگر آرین ، شاہ رخ کا بیٹا نہ ہوتا ۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہیں کہ آرین تو بہانہ ہے ، شاہ رخ خان پر نشانہ ہے۔ ورنہ کیا بات ہے کہ گجرات کے  مندرا پورٹ میں جون میں ۲۵؍ ہزار اور ستمبر میں ۳؍ ہزار کلو ڈرگس پکڑے گئےلیکن ان معاملات کو اس لئے دبا دیا گیا کہ  وہ اڈانی کے  زیرِ تصرّف  ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK