Inquilab Logo

دن بدلتے ہیں تو حالات بدل جاتے ہیں

Updated: June 17, 2024, 12:16 AM IST | Kamal Hasan | Mumbai

مودی جی کو اپنا کوئی پلان اور منصوبہ شروع کرنے سے پہلے لوگوں کا بتانا پڑے گا کہ وہ کیا کر رہے ہیں ا ور کیوں کر رہے ہیں اور یہ مشورہ وہ صرف اپنے محسنوں یعنی نتیش اور نائیڈو ہی سے نہیں کرینگے، ان حالات میں انہیں راہل گاندھی سے بھی مشورہ لینا پڑے گا۔

Rahul Gandhi
راہل گاندھی

اس ماہ کی ۹ ؍جون کو جب نریندر موری نے اپنی تیسری سرکار کے لئے حلف اٹھایاتو اپنے خیال میں اور ان کے مداحوں کے خیال میں انہوں نے ملک کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کا ریکارڈ توڑ دیا  لیکن ایک دوسرے  ریکارڈ پر تو یہ آہی جائیگا کہ وہ پنڈت نہرو کے ہم پلہ بن چکے ہیں لیکن جب انہوں نے حلف لیا تو وہ اپنی ہر بار کی طرح چیزوں کو ایک مذہبی تہوار کا رنگ ضرور دیتے ہیں، انہوں نےآئین کی کتاب اپنےہاتھ میں لے لی۔ جی ہاں وہی آئین جسے آر ایس ایس نے تو اسی دن ماننے سے انکار کر دیا تھا جب وہ سامنے آیا تھا، لیکن پھر بی جے پی کے بڑے بڑے لیڈر بھی یہ کہنے لگے تھے کہ وہ اس آئین کو نہیں مانتے، کیونکہ یہ آئین ان کے نزدیک ہندوستان کی اکثریت کے عقائد سے میل نہیں کھاتا۔ 
 یہ توایک پہلو تھا۔ اس کےبعد جب انہوں نے اپنی حکومت کا اعلان کیا تو ان کی زبان سے این ڈی اے کا نام نکلا، کیونکہ اس بار یہ حکومت ان کی نہیں تھی۔ یہ ایک مخلوط حکومت تھی۔ ہم اور ہم ہی کیا سارا  ہندوستان بلکہ سارا میڈیا ان کی حکومت کو مودی سرکار کے نام سے یاد کیا کرتا تھا، کوئی بات متوقع ہوتی تو اسے بی جے پی حکومت کہہ دیا کرتا تھا لیکن اس بار یہ حکومت مودی یا بی جے پی کی نہیں تھی، اسے این ڈی اے کی سرکار کہتے ہوئے مودی کے ان جذبات کو،  ان کے دل کو اور ان کے مداحوں کو زبردست  چوٹ لگی ہوگی۔
 مودی جی کو ایک اور بھی غم ہوگا، اس بار ان کے من میں راہل گاندھی ہیں، وہی راہل گاندھی جن کو ان کی پارٹی کے لوگ مذاق اڑاتے ہوئے از راہ تمسخر پپو کہا کرتے تھے اورامیت شاہ ان کی سیاست کو بچکانہ کہا کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب اس بار راہل گاندھی اکیلے نہیں ہیں، ان کے ساتھ لوک سبھا میں ۲۳۴؍ ممبران بھی ہیں یعنی مودی کی حکومت سے بس کچھ ہی نمبرکم یعنی کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے ا ور ان تمام ممبران کی باگ ڈور اب راہل گاندھی کے ہاتھ میںہوگی۔اور اب یہ ممکن نہیں ہوگا کہ کوئی بھی اسپیکر ان کا مائک آف کردے یا وہ بولیں تو اُنہیں نہ بولنے دیا جائے۔  حقیقت یہ ہے کہ راہل گاندھی آگے بڑھ رہے ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ   انہیں منہ کھولنے نہ دیا جائے گا، یا، اپنی بات کہنے نہ دیا جائے ۔
 تو یہ پہلی بار ہوگا کہ مودی جی کو اب مشورہ نہیں دینا ہوگا۔ اب انہیں اپنا کوئی پلان اور منصوبہ شروع کرنے سے پہلے لوگوں کو بتانا پڑے گا کہ وہ کیا کر رہے ہیں ا ور کیوں کر رہے ہیں اور یہ مشورہ وہ صرف ساتھیوں یعنی نتیش اور نائیڈو ہی سے نہیں کرینگے،  ان حالات میں انہیں راہل گاندھی سے بھی مشورہ لینا پڑے گا جنہیں وہ ہمیشہ کم تر سمجھتے رہے۔ یہ بات یقیناًان کی شان کےخلاف ہوگی۔ ابھی تک مودی جی صرف اپنے من کی بات کیا کرتے تھے  اب انہی ہر من کی بات سننی پڑے گی خواہ وہ سننا چاہیں یا مجبوراً ایوان میں بیٹھیں۔
 ادھر وہ رپورٹ مودی جی کو دی جاتی تھی جس پرنام نہاد بحث کی جاتی تھی۔ یہ رپورٹ عام طور پر انگریزی میں ہوتی تھی اور ہم جانتے ہیں کہ مودی جی کو انگریزی سے کوئی خاص رغبت نہیں ہے، اس لئے رپورٹ تیار کرنے والوں میں سے کوئی ایکسپرٹ ان کے کان میں بتا دیا کرتا تھا کہ اس رپورٹ میںکیاہے، مودی جی کی یاد داشت بہت اچھی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انہیں ہر بات جلد یاد ہو جاتی ہے چنانچہ  وہ رپورٹ کو ہاتھ میں لے کر کابینہ کو بتاتے تھے کہ اس رپورٹ میں کیا ہے۔ کابینہ بے چوں چرا اس رپو رٹ کو مان لیتی تھی، ان کی کسی بات سے انکار کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی۔
 مودی جی کی ایک بات اور ہے، وہ اپنی کسی بات سے انکار کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ اس کی ہم آپ کو چند مثالیں بتاتے ہیں، جس وقت نوٹ بندی ہوئی تھی اور کہا جاتا ہے کہ یہ نوٹ بندی کسی ماہر معاشیات کی رائے سے نہیں بلکہ پونہ میں بیٹھے ہوئے ایک جیوتشی کی رائےسے ہوئی تھی جس میں تمام مشورے بھی اس کے دیئے ہوئے تھے، اسی نے بتایا تھا کہ موی جی ہزار کےنوٹ نکال دیں۔  اس کا کہنا تھا کہ اس سے ملک میں کونوںکھدروں  میں دباہواسارا کالا دھن واپس آجائے گا اور معیشت کے وارے نیارے ہوجائینگے۔ کہا جاتا ہے کہ کابینہ کے کچھ وزیروں کو اس پر اعتراض تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ہاں میںگردن ہلا دی۔ دو ہزار کے نوٹ کا کیا حشر ہواا ور معیشت بھی پاتال میں پہنچ گئی۔ ایک اور مثال آپ کو بتاتے ہیں، یاد کیجئے ایک زمانہ میںہندوستان میں یہ چرچا عام تھا کہ ہندوستان میں  دہشت گردی کے واقعات کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ان دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے، چنانچہ یہ فیصلہ ہوا کہ پاکستان کو سبق سکھایا جائے۔ یہ فیصلہ بھی ہوا کہ پاکستان  پر اچانک فضائی حملہ کیا جائے، جس کیلئے کابینہ کو یہ بتایا گیا تھا کہ اسی جگہ دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے، چنانچہ حملہ کیلئے دن اور وقت بھی طے ہو گیا۔ پھر حملہ کے دن مودی جی اس ایکشن روم میں داخل ہوئے جہاں ہوائی فوج کے چاق وچوبند افسران و اہلکار  تیاریوں میںمصروف تھے، مودی جی کو بتایا گیا کہ اس وقت بادل بہت گہرے ہیں، مودی جی نے کہا کہ بادل ہیں اس لئے پاکستان کو ہندوستانی جہاز نہیں دکھائی دیگا۔ فضائی افسران نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر سر جھکا لیا، مودی سمجھے کہ وہ اُن کی سائنسی معلومات کے قائل ہوگئے ہیں اور انہوں نے ان کی بات مان لی ہے۔
 مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ اب تومودی جی لوگوں سے اورراہل گاندھی سے بھی مشورہ کرینگے، سوچئے اس پر کیا ہوگا، مودی جی کو بھی معلوم ہے کہ وقت بدلتا ہے تو حالات بھی بدل جاتے ہیں اور یہ بات راہل گاندھی کو بھی معلوم ہے۔ اس لئے مودی کوکمتر کرنے کی کوئی کوشش نہ کی جائے، یہ بو جھ اپنے ہی تلے دب جائے گا۔ آئندہ چند ماہ میں ہریانہ ، جھار کھنڈ اور مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، ہریانہ میں دشینت چوٹالہ بیٹھے ہیں، جھارکھنڈمیں ہیمنت سورین کو قبول کرنا ہوگا اور مہاراشٹر میں شیو سینا کو توڑنے سے این سی پی میں ٹکڑے کرنے کے نتائج سامنے آئے ہیں، اب ان کا اثر اسمبلی انتخابات پر بھی پڑے گا۔ مہاراشٹر میں مطلع بالکل صاف ہے اور جب بھی الیکشن ہوگا، نتائج حسب خواہش ہی ہوں گے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK