اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر وہ جس کو چاہتا ہے گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا کردیتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 02, 2026, 1:08 PM IST | Molana Nadimul Wajidi | Mumbai
اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر وہ جس کو چاہتا ہے گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا کردیتا ہے۔
آج :تیرہویں تراویح
۱۴؍واں پارہ : رُبَمَا
۱۴؍ویں پارے کی ابتدا سورۂ حجر سے ہوئی۔ حجر مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی کا نام ہے جس کی طرف سورہ حجر کی آیت نمبر ۸۰؍ (اور بیشک وادئ حجر کے باشندوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا)میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سورہ میں دو باتیں بہت واضح ہیں۔ ایک تو یہ کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم عرصۂ دراز سے دعوت دیتے چلے آرہے ہیں، لیکن قوم ہٹ دھرمی پرکمر بستہ ہے۔ دوسری یہ کہ قوم کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سرکارؐ دوعالم پر دل شکستگی کے آثار پیدا ہورہے تھے اس لئے انہیں دل بستگی سے بدلا جارہا ہے، آپؐ کو تسلی دی جارہی ہے اور ہمت بندھائی جارہی ہے۔ اس سورہ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کے متعلق فرمایا گیا کہ ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ آگے اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کاملہ کا بیان ہے کہ ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے پیدا کئے اور دیکھنے والوں کیلئے اس کو آراستہ کیا، ہم نے زمین کو پھیلایا، اس میں ہر قسم کے نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار میں اگائے۔ چند آیات کے بعد تخلیق انسانی اور تخلیق آدم کا ذکر ہے۔ شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا، اس کا تفصیلی بیان ہے۔ اس سورہ میں بھی کچھ انبیائے کرام مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے قصے مذکور ہیں۔ فرمایا گیا کہ مقام حجر کے باشندوں نے بھی حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کی تکذیب کی تھی، ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں مگر وہ اعراض کرتے رہے، یہ لوگ پہاڑ تراش تراش کر مکان بنایا کرتے تھے اور مطمئن و بے خوف تھے مگر ایک زبردست دھماکے نے صبح صبح ان کو آلیا اور ان کی تدبیریں کچھ کام نہ آئیں۔ یہاں پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپؐ کفار کی سرکشیوں کو خوب صورتی کے ساتھ نظر انداز کردیجئے، آپؐ کا رب بڑا خالق اور بڑا عالم ہے، ہم نے آپؐ کو سات آیات (سورۂ فاتحہ) عطا فرمائیں جو بار بار دہرائے جانے کے قابل ہیں اور قرآن ِعظیم عطا فرمایا، مشرکین کی ذرا پروا نہ کیجئے، ہم آپؐ کی طرف سے ان مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کیلئے کافی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتوں سے آپؐ کو تکلیف ہوتی ہے، بس آپؐ تو اپنے رب کی تسبیح کرتے رہیں، نماز پڑھتے رہیں اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہیں جس کا آنا یقینی ہے۔
اس کے بعد سورۂ نحل ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ اس میں شہد کی مکھی کا ذکرتفصیل کے ساتھ ہے۔ مشرکین مکہ کہا کرتے تھے کہ تم عذاب کی باتیں بہت کرتے ہو، آخر وہ عذاب آکیوں نہیں جاتا۔ اس سورہ کا آغاز در اصل ان ہی کا جواب ہے کہ اللہ کا حکم آچکا ہے، اب جلدی مت مچاؤ۔ فرمایا جارہا ہے کہ عذاب الٰہی تو تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے، اس کیلئے اتنی جلدی کیوں کررہے ہو، جو کچھ مہلت تمہیں ملی ہوئی ہے اس کو غنیمت سمجھتے اور حق کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔ تخلیق کائنات، بارش، دن رات اور نباتات و جمادات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ان سے استفادہ کرو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ اس کے بعد تنبیہ وتذکیر کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، اور کائنات کی کھلی شہادتوں کے ذریعے یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شرک باطل ہے اور توحید برحق ہے، اس سلسلے میں منکرین وحدانیت کو جو اشکالات اور شبہات ہیں ان کا جواب دیا جاتا ہے، باطل پر اصرار اور حق کے مقابلے میں ہٹ دھرمی کے خوفناک نتائج سے ڈرایا جاتا ہے، اسلام کی اخلاقی اور روحانی تعلیمات پیش کی جاتی ہیں، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ ؐکے رفقاء کی ہمت اور حوصلہ بڑھایا جاتا ہے۔ اس سورہ کا آغاز باری تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی بے مثال صناعی پر دلائل کے ساتھ ہوا ہے۔ اسی ضمن میں مشرکین کی ہٹ دھرمیوں کا بھی ذکر ہے اور ان کے عقائد و اعمال کا بیان بھی ہے۔ اس کے بعد پھر ان چیزوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کیلئے پیدا کی ہیں اور ان میں انسان کیلئے سامان عبرت بھی ہے۔ فرمایا کہ تمہارے لئے مویشیوں میں بھی سبق موجود ہے کہ ان کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان سے ایک چیز یعنی خالص دودھ ہم تمہیں پلاتے ہیں، جو پینے والوں کے لئے نہایت خوش گوار ہے۔ اسی سلسلۂ کلام میں شہد کی مکھی کا ذکر بھی ہوا، فرمایا کہ آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں درختوں میں اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں اپنے چھتے بنا لے اور ہر طرح کے پھولوں کا رس چوس لے اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہ پر چلتی رہ۔ ان مکھیوں کے اندر سے مختلف رنگوں کا شربت نکلتا ہے جس میں لوگوں کیلئے شفا ہے، یقیناً اس میں بھی ان لوگوں کیلئے نشانی ہے جو غور وفکر کرتے ہیں، رزق میں مال اوردولت میں لوگوں کے درمیان جوفرق ہے وہ بھی قدرت الٰہیہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے، اسی نے لوگوں کے لئے بیویاں بنائیں، اور بیویوں سے بیٹے اور پوتے پیدا کئے، یہ سب اللہ تعالیٰ کے انعامات نہیں تو کیا ہیں۔ آگے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حالت میں نکالا تھا کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے، اس نے تمہیں کان دیئے، آنکھیں دیں اور دل دیئے تاکہ تم شکر گزار بنو، کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ کس طرح آسمان کی فضاؤں میں مسخر ہیں، اللہ کے سوا ان کو کس نے تھام رکھا ہے، اس میں بھی اہل ایمان کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو وجہ سکون بنایا، اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لئے ایسے مکانات بنائے جنہیں تم سفر وحضر میں بہت ہلکا پاتے ہو، اس نے جانوروں کے اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کیں جو ایک مقررہ مدت تک تمہارے کام آتی ہیں، اس نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے تمہارے لئے سایہ پیدا کیا، پہاڑوں میں تمہارے لئے پناہ گاہیں بنائیں اور تمہیں ایسی پوشاکیں عطا کیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ ایسی پوشا کیں دیں جو جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں، اسی طرح وہ تم پر اپنی نعمتیں تمام کرتا ہے تاکہ تم فرماں بردار بن جاؤ۔
آگے قرآن کریم کی ایک جامع آیت ہے جس میں اسلام کی مکمل تعلیمات چند لفظوں میں سمو دی گئی ہیں۔ فرمایا: بلاشبہ اللہ عدل و احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں، بے حیائی، بدی اور ظلم سے منع کرتے ہیں، وہ تمہیں نصیحت کرتے ہیں تاکہ تم سبق لو، اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو، جب تم عہد کرو اور اپنی قسمیں پکی کرنے کے بعد نہ توڑو، جب کہ تم اپنے اوپر اللہ کو گواہ بنا چکے ہو، اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں سے باخبر رہتے ہیں، تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہو نی چاہئے جس نے اپنی محنت سے خود سوت کاتا اور خود ہی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے نوچ ڈالا، تم اپنی قسموں کو باہمی معاملات میں مکرو فریب کا ذریعہ مت بناؤ کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ کر فائدہ اٹھائے حالاں کہ اللہ تعالیٰ اس عہد وپیمان کے ذریعے تمہاری آزمائش کرتے ہیں اور جن چیزوں میں تم جھگڑتے ہو عنقریب قیامت کے دن وہ تم پر ظاہر کردی جائینگی۔
اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر وہ جس کو چاہتا ہے گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا کردیتا ہے۔ آگے کچھ اور نصیحتیں ہیں، فرمایا: جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور صبر کرنے والوں کو ہم ان کے بہترین عمل کی جزا ضرور دیں گے، یہ بھی فرمایا: مرد و عورت میں جس نے بہ حالت ایمان نیک عمل کیا ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائینگے اور انہیں ان کے اعمال کے صلے میں بہترین جزا دیں گے، فرمایا: جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں۔ آگے قرآن کریم ہی کے متعلق ارشاد فرمایا کہ جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے گا تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم یہ قرآن خود ہی گھڑ لیتے ہو، بلکہ اکثر لوگ جاہل ہیں، آ پ فرمادیجئے کہ قرآن کو تو روح القدس نے حکمت حق کے مطابق میرے رب کی طرف سے نازل کیا ہے تاکہ ایمان لانے والوں کو ثابت قدم رکھے اور یہ قرآن مسلمانوں کیلئے ہدایت اور خوش خبری (کا ذریعہ) ہوجائے۔
کچھ آیات کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک بستی کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ بستی امن و اطمینان کی زندگی بسر کررہی تھی اور ہر طرف سے اس کو رزق فراوانی کے ساتھ مل رہا تھا کہ اتنے میں انہوں نے اللہ کی نعمتوں کو جھٹلانا شروع کردیا، تب اللہ نے اس بستی کو بھوک اور خوف میں بستی والوں کی کارستانیوں کی وجہ سے مبتلا کردیا۔
۱۴؍واں پارہ ان آیات پر اختتام پزیر ہوتا ہے کہ آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلائیے، اور ان کے ساتھ اچھے انداز میں بحث کیجئے، بلاشبہ آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اپنی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی جانتا ہے، اگر تم بدلہ لینے لگو تو اتنا ہی بدلہ لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہے، لیکن اگر تم صبر سے کام لو تو یقیناً یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے، آپ صبر کرتے رہئے، آپ کا یہ صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان پر آزردہ نہ ہوں اور نہ ان کی چال بازیوں سے تنگ دل ہوں، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو صاحب تقویٰ ہیں اور اچھا عمل کرنے والے ہیں۔
پندرہویں پارہ کی ابتداء سورۂ الاسراء سے ہوتی ہے۔ اس کے اکثر مضامین توحید ورسالت اور معاد وغیرہ سے متعلق ہیں۔ واقعہ ٔ اسراء و معراج سے یہ سورہ شروع ہوتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی جلالت ِ شان کا اظہار بھی مقصود ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اثبات بھی، ضمناً حضرت موسیٰ اور حضرت نوح علیہما السلام کا ذکر بھی ہے جن کے ذکر سے منصب ِ رسالت کی تقویت اور تائید مقصود ہے، فرمایا: پاک ہے وہ ذات جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس (مسجد اقصیٰ) کے آس پاس ہم نے برکتیں عطا کررکھی ہیں تاکہ ہم ان کو اپنی نشانیاں (عجائبات قدرت) دکھلائیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کا ذکر ہے کہ ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی تھی اور ہم نے اس کتاب کو بنی اسرائیل کیلئے ہدایت کا ذریعہ بنایا تھا کہ تم میرے سوا کسی کو اپنا کار ساز مت بنانا اور تم ان لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اور نوحؑ ایک شکر گزار بندے تھے۔
اس کے بعد بنی اسرائیل پر انعامات کا اور ان کی احسان فراموشی کا ذکر ہے۔ یہود سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ممکن ہے تمہارا رب تم پر رحم فرمائے، لیکن اگر تم نے پہلی جیسی روش اختیار کی تو ہم بھی سزا کے پرانے طریقے کی طرف لوٹ جائیں گے اور ہم نے کافروں کیلئے جہنم کا قید خانہ بنا رکھا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن سیدھی راہ دکھلاتا ہے۔ آنے والی آیات میں اللہ تعالیٰ کے کچھ انعامات کا ذکر ہے کہ ہم نے رات اور دن کی دو نشانیاں بنائی ہیں، ہم رات کی نشانی مٹا کر دن کی نشانی کو روشن کرتے ہیں تاکہ تم اپنے رب کی روزی تلاش کرسکو۔
چند آیات کے بعد کچھ خاص احکام کے ساتھ بندوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ آپ کے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ تم لوگ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو کبھی اُف بھی مت کرنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان کے ساتھ دائرۂ ادب میں رہ کر گفتگو کرنا اور ان کیلئے انکساری اور نرم دلی کے ساتھ جُھکے رہنا اور یہ دعا کرنا اے اللہ ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ہے۔ اور رشتہ داروں کو ان کا حق دیتے رہو، اور مسکین و مسافر کو بھی ان کا حق دو، اور فضول خرچی مت کرو، فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔ اور اگر آپ کو ان لوگوں سے پہلو تہی کرنی پڑے جو اپنے پروردگار کی رحمت کے بھروسے پر رزق کی آس لگائے بیٹھے تھے تو ان سے نرم بات کرنا (یعنی اگر امید رکھنے والوں کو کچھ دے نہ سکو تو ان سے نرم بات ضرور کرو)۔ بلاشبہ آپ کا رب جس کیلئے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کیلئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بلاشبہ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر بھی ہے۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو، ہم انہیں بھی رزق دینگے اورتمہیں بھی۔ زنا کے قریب بھی مت جاؤوہ برا فعل ہے اور بڑا ہی برا راستہ ہے اور کسی نفس کو جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہو قتل مت کرو۔ جو شخص ظلماً قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق دیا ہے۔ یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اچھے (جائز) طریقے پر تاوقتیکہ وہ بالغ نہ ہوجائیں ، عہد کی پابندی کرو، بلاشبہ عہد کے سلسلے میں تمہیں جوابدہی کرنی ہوگی، ناپو تو پورا ناپو اور ٹھیک ترازو سے وزن کرو۔ کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو (خواہ مخواہ تجسس میں نہ پڑو) تم سے کان، آنکھ، دل سب ہی کے متعلق پوچھا جائے گا، زمین میں اکڑ کر مت چلو، نہ تم زمین کو (قدموں سے) پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔ ان میں سے ہر ایک کی برائی آپ کے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔
ان لازوال اخلاقی تعلیمات کے بعد فرمایا کہ ہم نے قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ وہ نصیحت پکڑ لیں (مگر اب ان کا حال یہ ہے کہ) جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم ان کے اور آپ کے مابین ایک پردہ ڈال دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ قرآن مجید کے متعلق مشرکین مکہ کے روّیے کا ذکر ہورہا ہے کہ چھپ چھپ کر قرآن سنتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ ایک سحر زدہ شخص ہے۔ مشرکین کو بعث بعد الموت پر اعتراض تھا، آگے اس کا مفصل ذکر ہے کہ وہ عنقریب دیکھ لیں گے کہ جب ہم تمام انسانوں کو ان کے نامۂ اعمال سمیت بلائینگے، جس کا نامۂ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اپنا نامۂ اعمال پڑھے گا اور اس پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا، جو شخص اس دنیا میں اندھا بن کر رہا (یعنی اس نے چشم بصیرت سے ہماری نشانیوں کو نہیں دیکھا اور ایمان نہیں لایا) وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ اندھے سے بھی زیادہ گم کردۂ راہ ہوگا۔ آگے کفار کی اسلام دشمنی کا ذکر ہے۔ ایسے حالات میں نبیؐ کریم کو کیا کرنا چاہئے، فرمایا کہ آفتاب ڈھلنے کے بعد سے رات کے اندھیرے تک نماز ادا کیا کیجئے، اور صبح کی نماز کا اہتمام کیجئے، بلاشبہ صبح کی نماز حاضر ہونے کا وقت ہے اور رات کے کسی بھی حصے میں نماز تہجد پڑھا کیجئے یہ آپ کیلئے اضافہ ہے، عجب نہیں کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے، اور آپ یہ دعا کریں کہ اے اللہ مجھے جہاں بھی لے جائیں خوبی کے ساتھ لے جائیں اور جہاں سے نکالیں خوبی کے ساتھ نکالیں۔
اس سورہ کے آخری سے پہلے والے رکوع میں ایک سوال و جواب ہے، فرمایا: یہ لوگ آپ سے روح کی بابت پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ قرآن کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اگر تمام جن وانس مل کر بھی اس جیسا قرآن لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے۔
سورہ الاسراء کے بعد سورۂ کہف کا آغاز ہوا، اس میں کفار کے ذریعے پوچھے گئے تین سوالوں میں سے دو کا جواب مذکور ہے، ایک کا جواب پچھلی سورہ میں آچکا ہے، تینوں سوالوں کے جواب میں کفر واسلام کے مابین کشمکش پوری طرح عیاں ہے۔ سورہ کہف میں تین اہم قصے بیان کئے گئے ہیں، پہلا قصہ اصحاب کہف کا ہے، ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار اور پہاڑ والے ہماری کوئی بہت بڑی نشانیوں میں سے تھے، جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور کہنے لگے کہ اے ہمارے رب ہم کو اپنی خاص رحمت عطا فرما اور ہمارے احوال درست فرمادے، تب ہم نے انہیں (اسی) غار میں گہری نیند سلا دیا پھر ہم نے ان کو (نیند سے) اٹھایا تاکہ دیکھیں کہ ان کے دو گروہوں میں سے مدت قیام سے کون زیادہ واقف ہے۔ اگر آپ انہیں غار میں دیکھتے تو یوں نظر آتا کہ جب سورج نکلتاہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب چھپتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب نکل جاتا ہے اور وہ غار کے ایک کشادہ حصے میں پڑے ہوئے ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ یہاں پر اصحاب کہف کے کتے کا بھی ذکر ہے جو غار کے منہ پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا ہوا تھا۔
پھر غار والے نوجوانوں کے اٹھنے کا ذکر ہے اور فرمایا گیا کہ (ہم نے جس طرح سلایا تھا) انہیں جگایا تاکہ وہ آپس میں سوال جواب کریں، ان میں سے ایک نے پوچھا تم کتنی دیر (اس غار میں ) ٹھہرے، (باقی نوجوانوں نے) کہا کہ ایک دن یا اس سے کچھ کم وقت، کہنے لگے کہ تمہارا رب ہی جانتا ہے تم کتنے وقت (غار) میں رہے۔ پھر اصحاب کہف کی تعداد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ کہہ دیجئے کہ آپ کا رب ان کی تعداد زیادہ بہتر جانتا ہے۔ آپ اس معاملہ میں ان سے زیادہ حجت نہ کیجئے اور نہ اس کے متعلق کسی سے کچھ پوچھئے (بیچ میں جملہ معترضہ کے طور پر فرمایا) آپ کبھی کسی کام کے بارے میں یہ نہ کہا کیجئے کہ میں اسے کل کرونگا مگر یہ کہ اللہ چاہے (یعنی اِن شاء اللہ کہا کیجئے) اوراگر اِن شاء اللہ کہنا بھول جائیں تو اپنے رب کو یاد کیجئے اور کہئے کہ شاید میرا رب اس سے بھی قریب تر بات پر میری رہ نمائی کرے گا۔ اور (اصحاب کہف) اپنے غار میں تین سو نو سال رہے، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ان کے قیام کی مدت زیادہ جانتے ہیں۔ اگلی آیتوں میں دنیا کی بے ثباتی کو دو مثالوں کے ذریعے واضح کیا گیا ہے۔
پندرہویں پارے کے آخر میں حضرت موسیٰ ؑ کے سفر کاایک واقعہ ہے جب ان کی ملاقات ایک بزرگ (حضرت خضر ؑ) سے ہوتی ہے، حضرت موسیٰ ؑ ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اس میں سے کچھ سکھلا دیں جو مفید علم آپ کوسکھلایا گیا ہے، انہوں نے جواب دیا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکتے، حضرت موسیٰؑ نے صبر کا اور اطاعت کا وعدہ کیا۔ حضرت خضرؑ نے اس شرط پر ساتھ رہنے کی اجازت دے دی کہ جب تک میں کسی معاملے میں خود کچھ نہ کہوں آپ مجھ سے کوئی سوال نہ کرینگے۔ دونوں چلے، ایک کشتی میں سوار ہوئے، حضرت خضرؑ نے اس کشتی میں سوراخ کردیا، حضرت موسیٰؑ نے اس پر سوال کیا تو انہوں نے یاد دلایا کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے۔ حضرت موسیٰؑ نے عرض کیا میری فروگزاشت پر مواخذہ نہ فرمائیں۔ پھر دونوں چلے یہاں تک کہ انہیں ایک لڑکا ملا، خضر ؑ نے اسے قتل کردیا۔ حضرت موسیٰؑ پھر خاموش نہیں رہ سکے۔