• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

غزہ پر مظالم اور ہماری ذمہ داریاں

Updated: October 20, 2023, 1:18 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

مسلمانانِ ہند قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ ملک کی رائے عامہ کو حقیقت پسند بنائیں اورانہیں حقیقی صورتِ حال کا ادراک کرنے میں مدد دیں، منصف مزاج برادرانِ وطن کو ساتھ لے کر اپنی حکومت سے ناوابستہ پالیسی پر قائم رہنے کیلئے دباؤ ڈالیں۔

The extreme brutality of the usurper and oppressive Zionist forces even attacked the hospital in Gaza. Photo: INN
غاصب اور ظالم صہیونی افواج کی درندگی کی انتہا کہ غزہ کے اسپتال تک پر حملہ کردیا۔ تصویر:آئی این این

اگر پہاڑوں کو جگر ہوتا تو بعید نہ تھا کہ وہ بھی شق ہوجاتا، اگر درختوں کو آنکھیں ہوتیں ، توعجب نہ تھا کہ وہ بھی آنسوؤں کا دریا بہا دیتے، اگر زمین کو زبان ہوتی تو کیا عجب کہ اس کے نالہ و فریاد سے کرۂ ارض میں کہرام برپا ہوجاتا اور اگر درندے ان انسان نما درندوں کو دیکھ لیتے تو شاید وہ بھی شرمسار ہوجاتے اور درندگی میں صہیونیوں اور ان کی موافقت کرنے والوں کی بالادستی کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے۔ اس خوں آشامی ، ظلم وسفاکی اور قتل و غارت گری کی وجہ سے جو اس وقت ’’غزہ‘‘ میں جاری ہے، جس کو سالہا سال سے اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس کے نام نہاد، بے حمیت، کوتاہ ہمت، ضمیر فروش اور منافق نام نہاد مسلم حکومتوں نے ایک ایسے قید خانہ میں تبدیل کررکھا ہے، جو بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے۔
سلامتی ہو غزہ کے ان مجاہدین پر، جنہوں نے اپنے لہو سے اسلام کے شجر طوبیٰ کو سینچنے کا عزم کر رکھا ہے، صد ہزار رحمتیں ہوں ان شہداء راہِ حق پر، جنہوں نے اپنے خون کا ایک ایک قطرہ دین حق کی سرخروئی کیلئے نچھاور کردیا ہے، لاکھوں سلامِ شوق پہنچے ان معصوم نونہالوں پر جنہوں نے اسلام کی سربلندی کیلئے اپنی معصوم جانوں کا نذرانہ پیش کردیا ہے اور اسی قدر لعنتیں ان صلیبی اور صہیونی ظالموں پر جو دین و اخلاق اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر کر اپنی خوں آشامی کی خو اور آرزو پوری کررہے ہیں اور ان خوفِ خدا سے عاری اور ہمت مردانہ سے خالی مسلم حکمرانوں پر جن کے سینوں میں شیطان نے ’’دل‘‘ کے بجائے پتھر کی سِل رکھ دی ہے، جن میں سے بعض علی الاعلان یا خفیہ طورپر اسرائیل کے ہم نوا ہیں اوربدترین قسم کی برادر کشی کے مرتکب ہورہے ہیں --- بارِ الٰہا ! اپنے ان مظلوم بندوں پر رحم فرما، جن سے مغرب و مشرق کی عداوت صرف اس لئے ہے کہ وہ تیرے پاک نام سے نسبت رکھتے ہیں ، اور اے پروردگارا ! ان شقی و بدبخت حکومتوں کو محروم ِ اقتدار کردے جو بے قصور انسانوں کے خون میں ڈوبی ہوئی ہیں ، یا اس میں مددگار ہیں !!
سوال یہ ہے کہ جو مسلمان اپنے ان مظلوم اور نہتے بھائیوں کی اخلاقی مدد کرنے کے سوا کچھ اور نہیں کر سکتے، انہیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے؟ 
رسول اللہ ﷺنے ایک اُصول بیان فرما دیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی برائی کو دیکھے تو اول اسے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے، اگر اس پر قادر نہ ہو تو زبان سے اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل سے، یعنی دل سے برا سمجھے، اور دل میں یہ ارادہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ جب بھی قدرت دیں گے، وہ اُسے روکنے کی کوشش کرے گا۔ (ابو داؤد، حدیث نمبر: ۴۳۴)۔ ظلم و جور سے بڑھ کر کوئی منکَر اور بُرائی نہیں ، یہ تو دنیا میں شرک سے بھی بڑھ کر ہے؛ کیوں کہ دنیوی احکام کی حد تک شرک کو گوارا کیا جاسکتا ہے؛ لیکن ظلم ایسی بُرائی ہے کہ وہ کسی طور پرقابل قبول نہیں ، کفر و شرک بھی ایسا جرم نہیں کہ جو شخص پہلے سے اس عقیدہ پر ہو، اُسے قتل کرنا جائز ہو؛ لیکن اگر کوئی شخص کسی کا مال لے لے، کسی کی عزت و آبر وپر حملہ آور ہو، یاکسی کو قتل کر دے تو وہ ضرور لائق سزا ہے، پس ظلم سب سے بڑی بُرائی ہے اوراپنی طاقت وصلاحیت بھر اس کی مخالفت واجب ہے !
مخالفت اور ناراضگی کے اظہار کا ایک طریقہ ترک تعلق بھی ہے اور ظالموں کے ساتھ ترک تعلق کی تعلیم خود قرآن مجید نے دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 
’’اے ایمان والو ! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو ان کو دوست رکھے گا، وہ ان ہی میں سے ہوگا، بے شک اللہ ظلم شعار لوگوں کو ہدایت نہیں دیتے۔ ‘‘ (المائدۃ: ۵۱)
اس آیت میں ایک جامع لفظ ’’دوست نہ بنانے‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے، یہ ایک معنی خیز تعبیر ہے، جس میں قلب و نگاہ کی محبت، فکر و نظر میں تاثر، سماجی زندگی کی مماثلت اور مالی معاملات و تعلقات سب شامل ہیں ، یہ کوئی شدت پر مبنی حکم نہیں ہے؛ بلکہ ظلم کے خلاف ناراضگی کے اظہار کا ایک طریقہ ہے، اس آیت کے اخیر میں ظالموں کا تذکرہ کر کے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا کہ جو یہود و نصاریٰ ظلم و جور پر کمر بستہ ہوں ، مسلمانوں کے لئے اپنی طاقت وقدرت کے مطابق ان سے بے تعلقی برتنا واجب ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے ایک اور موقع پر اس حکم کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے ، ارشاد ہے : 
’’بے شک اللہ تم لوگوں کو ا ن لوگوں سے تعلق رکھنے سے منع کرتے ہیں ، جنہو ں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی ، تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی اور جو ان سے تعلق رکھیں ، وہ بھی ظالم ہیں۔ ‘‘ (الممتحنہ: ۹)
گھروں سے نکالنا ، محض دین کی بناپر آمادۂ قتل وقتال ہونا اور جو لوگ مسلمانوں کے شہروں اور آبادیوں کو ویران کرنے پر تلے ہوئے ہوں ، ان کو مدد پہنچا نا، یہ وہ خصوصیتیں ہیں جن کے حامل بدطینت یہودیوں اور نصرانیوں سے بے تعلقی برتنے کا حکم دیا گیا ہے۔ غور کیجئے کہ کیا آج امریکہ اور برطانیہ ان جرائم کے مرتکب نہیں ہیں ؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ بوسنیا میں مسلمانوں کے قتل عام میں در پردہ برطانیہ نے ظالم سربوں کی مدد کی ہے، کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ان ممالک کی جفا کاریوں اور ستم انگیزیوں کی وجہ سے افغانستان کے مسلمان بڑی ابتلاؤں سے گزرے ہیں ؟ کیا یہ اس ظالم اسرائیل کے ناصر و مددگار نہیں ہیں ، جو آئے دن بے قصور فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں ؟ اور جنہوں نے لاکھوں فلسطینیوں کو اپنے مادر وطن میں رہنے کے حق سے بھی محروم کر دیا ہے؟ قرآن نے جن یہود و نصاریٰ سے بے تعلق ہونے اور رشتۂ محبت توڑ لینے کا حکم دیا ہے، ان مغربی طاقتوں میں ان میں سے کون سی بات نہیں پائی جاتی؟ پھر کیا ایسے اعداء دین سے بے تعلقی واجب نہ ہوگی ؟
سورہ ممتحنہ کی مذکورہ آیت سے قبل والی آیت بھی ملاحظہ کیجئے:
’’اللہ تمیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘
جو غیر مسلم بھائی انصاف کی روش پر قائم ہوں ، وہ ہمارے انسانی بھائی ہیں اور ہمارے برادرانہ سلوک اور حسن اخلاق کے مستحق ہیں اوران کے ساتھ زیادتی کسی طور جائز نہیں ۔ بے تعلقی کاحکم ان لوگوں سے ہے جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جارحانہ اور نامنصفانہ روش اختیار کر رکھی ہو۔ یہ سمجھنا کہ کسی خاص شخص کی حوالگی یا کسی خاص مطالبہ کی تکمیل مغربی طاقتوں کو مطمئن کر دے گی اور اسلام کے خلاف بغض و عناد کی جو آگ ان کے سینوں میں سلگی ہوئی ہے، اسے بجھانے میں کامیاب ہوجائے گی، محض ایک طفلانہ خیال ہے، اس عناد کا اصل نشانہ اسلامی فکر و عقیدہ، اسلامی تہذیب و ثقافت اور مسلمانوں کا قبلۂ اول مسجد اقصیٰ ہے۔ قرآن مجید نے یہود و نصاریٰ کی نفسیات اور ان کے اندرونی جذبات کی خوب ترجمانی کی ہے اور یہ بات جس قدر رسول اللہ ﷺ کے عہد میں مبنی بر واقعہ تھی، اسی قدر آج بھی ہے کہ : 
’’یہود و نصاریٰ آپ سے اس وقت تک راضی ہو ہی نہیں سکتے، جب تک آپ ان کے دین کے پیرو نہ ہو جائیں ، آپ کہہ دیجئے کہ ہدایت تو وہ ہے جو اللہ کی ہے، اگر آپ علم حاصل ہونے کے بعد بھی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگیں تو آپ کے لئے اللہ کے مقابلہ کوئی حامی و مددگار نہ ہوگا ۔ ‘‘ (البقرہ: ۱۲۰)
قرآن نے اس میں یہود و نصاریٰ کے اندرونی جذبات کو کھول کر رکھ دیا ہے اور خلافت ِعثمانیہ کے سقوط سے اب تک عالم اسلام میں جو جنگیں ہوئی ہیں ، وہ سب اس کے واضح شواہد ہیں ، اس لئے جب تک مسلمان اپنے مذہبی تشخصات اور اپنے ثقافتی امتیازات کو خیر باد نہ کہہ دیں ، مسجد ِاقصیٰ سے اور اپنے مقدسات سے دستبردار نہ ہوجائیں اور پوری طرح مغربی فکر اور مغربی ثقافت کے سامنے جبین تسلیم خم نہ کردیں ، ان کی تشفی نہیں ہو سکتی اور ان شاء اللہ مسلمان کبھی اس کے لئے تیار نہیں ہوں گے ؛ اس لئے کہ وہ دین کے لئے سب کچھ کھونے کو ’’پانا‘‘ تصور کرتے ہیں اور یہ ان کے ایمان و عقیدہ کا حصہ ہے ! 
اس پس منظر میں ہم مسلمانانِ ہند قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ ملک کی رائے عامہ کو حقیقت پسند بنائیں اورانہیں حقیقی صورتِ حال کا ادراک کرنے میں مدد دیں ، منصف مزاج ہندو بھائیوں (جن کی آج بھی اس ملک میں اکثریت ہے) کو ساتھ لے کر حکومت ہند سے خواہش کریں کہ وہ اپنی قابل رشک روایت یعنی ناوابستہ پالیسی پر قائم رہے اور امریکہ و اسرائیل کی آنکھ بند کر کے حمایت نہ کرے، وہ اس بات کو ملحوظ رکھے کہ ہمارے ملک کا مفاد عربوں کے ساتھ بہتر تعلقات میں ہے، نہ کہ اسرائیل جیسے خود غرض اور قلاش ملک کی تائید میں ۔
 اس کے ساتھ ساتھ ہم امریکہ اور اسرائیل کی تجارتی اشیاء کا بائیکاٹ کریں ، جس کی فہرستیں بھی اخبارات اور سوشل میڈیا میں آچکی ہیں کہ یہ بھی منکر پر ناراضگی کے اظہار اور ظالم سے بے تعلقی برتنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے اور شرعاً بہ حیثیت مسلمان ہم اس بات کے مکلف ہیں کہ اس سلسلہ میں جو طریقہ اختیار کرنا ہمارے لئے ممکن ہو، ہم اس سے دریغ نہ کریں۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ صرف مسلمانوں کے بائیکاٹ کرنے سے ان کا کیا نقصان ہوگا؟ 
یہ درست نہیں ہے، اول تو اگر مسلم ممالک بھی اس بائیکاٹ میں شامل ہوجائیں تو اس کے غیر معمولی اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسرے: مسئلہ ان کو نقصان پہنچنے اور پہنچانے کا نہیں ہے؛ بلکہ اپنی طرف سے ناراضگی کے اظہار کا ہے۔ کتنے ہی واقعات پیش آتے ہیں کہ خاندان میں اختلاف پیدا ہوا اور اس کی وجہ سے ایک دوسرے کی دعوت میں شرکت سے گریز کرنے لگے، یہاں تک کہ بعض اوقات بات چیت بھی بند ہوجاتی ہے؛ حالاں کہ معلوم ہے کہ اس کے دعوت میں شریک نہ ہونے اور بات نہ کرنے سے دوسرے شخص کا کچھ بگڑنے والا نہیں ہے لیکن مقصود اپنے جذبات کا اظہار ہوتا ہے، یہی جذبہ یہاں بھی ہونا چاہئے۔ غرض کہ یہ انسانی فریضہ ہے، یہ شرعی ذمہ داری ہے اور حمیت ِایمانی اورغیرت اسلامی للکار کر ہم سے پوچھ رہی ہے کہ کیا ہم اس کے لئے بھی تیار نہیں ہیں ؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK