کسی سے حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ وہ کام کریں جس سے آپ کے محبوب کو نفع ہو نہ کہ نقصان۔اس حوالے سے ایک غلط فہمی جس کے ہم شکار ہیں وہ یہ ہے کہ بسا اوقات اپنے پیاروں کو مشقت سے بچانے اور بظاہر انہیں فائدہ پہنچانے کیلئے ہم وہ کام کر جاتے ہیں جو در حقیقت انہیں پریشانی میں ڈالتے ہیں اور نقصان پہنچاتے ہیں۔
بچوں کے تابناک مستقبل کیلئے ان سے وہ کام ضرور کروائیں جو وقتی طور پر دقت طلب اور پُرمشقت ہو لیکن اس کا نتیجہ شاندار ہو۔
کسی سے حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ وہ کام کریں جس سے آپ کے محبوب کو نفع ہو نہ کہ نقصان۔اس حوالے سے ایک غلط فہمی جس کے ہم شکار ہیں وہ یہ ہے کہ بسا اوقات اپنے پیاروں کو مشقت سے بچانے اور بظاہر انہیں فائدہ پہنچانے کیلئے ہم وہ کام کر جاتے ہیں جو در حقیقت انہیں پریشانی میں ڈالتے ہیں اور نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کی ایک عام فہم مثال یہ ہے کہ ہم کبھی کبھار اپنےبچوں کو شادی بیاہ یا کسی تقریب میں شرکت کروانے کیلئے غیرضروری طور پر کئی کئی دن اسکول یا مدرسے سے چھٹی کروا دیتے ہیں جس سے اُن بچوں کی تعلیم سے توجہ ہٹ جاتی ہے اور انہیں پٹری پر واپس آنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ اس کے بعد ہم ستم یہ کرتے ہیں کہ کچھ دنوں بعد پھر کسی غیر اہم کام کیلئے بچوں کی چھٹی کروا دیتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ہمارا یہ طرز عمل جو بظاہر بچوں کی محبت میں ہوتا ہے، ان کے مستقبل کیلئے کسی زہر سے کم نہیں ہوتا کیونکہ اس سے جہاں بچے مستقل مزاج نہیں بن پا تے جو کسی بھی کامیابی کیلئے ضروری ہے، وہیں وہ سہل پسند بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ عادتیں انہیں آگے قدم بڑھانے سے روکتی ہیں۔
اس تعلق سے جب ہم شریعت ِاسلامی کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے کہ اپنے پیاروں کے تابناک مستقبل اور کامیاب زندگی کیلئے ہمیں ان سے وہ کام ضرور کروانا چاہئے جو وقتی طور پر دقت طلب اور پُرمشقت ہو لیکن اس کا نتیجہ شاندار ہو۔ چنانچہ ذیل کی روایات میں ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ فجر کی نماز کیلئے اپنے احباب اور اہل خانہ کو جگایا کرتے تھے۔اگر یہ سوچا جاتا کہ صبح کی اتنی میٹھی نیند سے کیسے جگایا جائے، یا، اس گہری نیند میں اُن کی بھلائی ہوتی تو وہ مقدس ہستیاں کبھی بھی انہیں نہ جگاتیں۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِفجرکیلئےنکلا تو آپؐ جس سوتے ہوئے شخص پر گزرتے اسے نماز کیلئے آوازدیتے۔ (ابو داؤد) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ رات کے آخری پہر اپنے گھر والوں کو نماز کیلئے جگا دیتے۔(مشکوٰۃ) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھانے کیلئے نکلے تو راستے بھر لوگوں کو جگاتے رہے۔ (تاریخ الخلفاء)۔ یہ اسلامی تاریخ کے درخشاں ابواب ہماری تربیت کیلئے ہیں۔
اِن روایات سے ہم دو اہم ہدایات اخذ کر سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اپنے چھوٹوں اور پیاروں کی فکر بڑوں کو ضرور کرنی چاہئے؛ کیونکہ بڑے جو سمجھتے ہیں، چھوٹوں کی رسائی وہاں تک نہیں ہوتی۔ اس لئے بڑے اگر اپنی ذمہ داری نہیں نبھائیں گے تو چھوٹوں کا نقصان یقینی ہے۔ مذکورہ روایات سے دوسری ہدایت ہمیں یہ ملتی ہے کہ ہماری نظر اپنے عزیزوں کے وقتی اور ناپائیدار آرام کے بجائے ان کی دائمی کامیابی اور پائیدار آرام پر ہونی چاہئے۔ جب ہم ان دونوں ہدایات پر عمل کر ینگے تو ہمارے پیاروں کا مستقبل ہی نہیں سدھرے گا وہ سہل پسندی کی بیماری سے بھی شفاء یاب ہوں گے۔
یاد رہے کہ اپنے پیاروں کے تعلق سے ہماری بیجا ہمدردی سے سہل پسندی کی جو خطرناک بیماری جڑ پکڑ تی ہے، اس کا بھیانک انجام سامنے آتا ہے۔
ہمارے لئے یہاں سمجھنے والی ایک بات یہ ہے کہ جہاں ہمیں اپنے عزیز و اقارب اور اہل و عیال سے بے جا ہمدردی نہیں کرنی چاہئے، وہیں ان کے تعلق سے بےجا تشدد سے بھی بچنا چاہئے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم ان کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں اور اس کیلئے جبر کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اپنے بچوں کو بہتر ڈھنگ سے پڑھانا چاہتے ہیں، اس کیلئے ان کو اس طرح مشغول کر دیتے ہیں کہ انہیں تفریح طبع کا بھی بالکل موقع نہیں ملتا۔ تشدد کی شکل میں اس طرح کی ہمدردی سے بھی بچوں کی زندگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامی میں اس بات کا بھر پور خیال رکھا گیا ہے کہ کامیابی اورنیکی کیلئے انجام پانے والے کاموں میں توازن ہو۔ مثال کے طور پر نماز اور روزہ دونوں جہاں میں فائدہ پہنچانے والے اعمال ہیں، اس کے باوجود کوئی ہر وقت نماز ہی پڑھتا رہے یا پورے سال بلا ناغہ روزہ رکھے اس کو شریعت میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے ذیل کی حدیث ہماری رہنمائی کیلئے بہت اہم ہے:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اَزواجِ مطہرات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’غیر ظاہری‘‘عبادت کا حال پوچھا، یعنی جو عبادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کرتے تھے (جب گھر میں آپ کی زندگی عام معمول کے مطابق سامنے آئی تو) ایک نے ان میں سے کہا کہ میں کبھی نکاح نہیں کرونگا۔ کسی نے کہا: میں کبھی گوشت نہ کھاؤں گا۔ کسی نے کہا:میں کبھی بسترپر نہ سوؤں گا۔یہ بات نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ ؐنے انھیں بُلایا اور پھر آپؐ نے اللہ کی تعریف اور ثنا کی اور فرمایا:کیا حال ہے اُن لوگوں کا جو ایسا ایسا کہتے ہیں اور میرا تو یہ حال ہے کہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں، یعنی رات کو، اور سو بھی جاتا ہوں، اور روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، اور میں نے نکاح بھی کئے ہیں۔ سو جو (شخص) میرے طریقہ سے بے رغبتی کرے گا وہ میری امت میں سے نہیں ہے۔ ( مسلم) ۔ یہ ہے اسلام کا متوازن اور اعتدال پسندانہ طریق کار۔
اس روایت سے ہمیں متوازن زندگی اپنانے اور دوسروں کو اس کی طرف راغب کرنے کی رہنمائی ملتی ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اپنے عزیزواقارب اور اہل و عیال سے ہمارا رویہ نہ تو بےجا ہمدردی پر مبنی ہو اور نہ بےجا تشدد پر؛ تاکہ ہم نے ان کے لئے کامیابی کے جو خواب سجائے ہیں وہ شرمندہ ٔ تعبیر ہوسکیں۔