ہندوستان میں جس تیزی کے ساتھ گزشتہ چند برسوں سے سماجی، فکری اور سیاسی منظرنامہ تبدیل ہورہا ہے، وہ بطورِ خاص مسلمانوں کیلئے نہایت اہم اور قابلِ غور مسئلہ بن چکا ہے۔
EPAPER
Updated: May 16, 2026, 4:47 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
ہندوستان میں جس تیزی کے ساتھ گزشتہ چند برسوں سے سماجی، فکری اور سیاسی منظرنامہ تبدیل ہورہا ہے، وہ بطورِ خاص مسلمانوں کیلئے نہایت اہم اور قابلِ غور مسئلہ بن چکا ہے۔
ہندوستان میں جس تیزی کے ساتھ گزشتہ چند برسوں سے سماجی، فکری اور سیاسی منظرنامہ تبدیل ہورہا ہے، وہ بطورِ خاص مسلمانوں کیلئے نہایت اہم اور قابلِ غور مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک ایسا ہندوستان جہاں صدیوں تک مختلف مذاہب، تہذیبوں اور ثقافتوں کے لوگ اپنی الگ شناختوں کے باوجود باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارتے رہے، آج وہاں بظاہر تقسیم کی دیوار کھڑی نظر آتی ہے۔ یہ صورتِ حال یقیناً ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ لہٰذا موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کی ذمہ داری صرف اپنی بقا تک محدود نہیں رہ جاتی بلکہ انہیں اپنے کردار، اخلاق، حکمت اور دعوت کے ذریعہ اس ملک میں خیر و بھلائی کا نمائندہ بننا ہوگا۔ کیونکہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ایک بڑی ذمے داری کے مقام پر بٹھایا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔ ‘‘ (البقرہ:۱۴۳)یہاں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے حالات کیوں پیدا ہوتے ہیں ؟ اگر اس سوال کا جواب انسانی تاریخ کے تناظر میں تلاش کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی حق کے علمبرداروں نے اپنے کردار، اخلاق اور ذمہ داریوں سے غفلت برتی، تب ان پر آزمائشوں اور مشکلات کے دروازے کھلتے رہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف نام کے ایمان پر کامیابی عطا نہیں فرماتا بلکہ ایمان کے ساتھ عمل، اخلاص، تقویٰ اور ذمہ داری کی ادائیگی کو بھی ضروری قرار دیتا ہے۔ اس لئے جب امتیں اپنی اخلاقی بنیادوں کو کھو دیتی ہیں، بے اعتدالی، خود غرضی اور دنیا پرستی میں مبتلا ہوجاتی ہیں تو کمزور پڑ جاتی ہیں۔ اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے قرآن مجید نے بنی اسرائیل کی تاریخ کو بار بار بیان کیا ہے۔ جب انہوں نے اللہ کے احکام سے انحراف کیا، دنیا پرستی اختیار کی، انبیاء کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈالا اور اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف لوگوں کو مسلط کیا اور انہیں سخت آزمائشوں میں مبتلا فرمایا۔ سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد ہے: ’’اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل کو قطعی طور پر بتا دیا تھا کہ تم زمین میں ضرور دو مرتبہ فساد کرو گے اور (اطاعتِ الٰہی سے) بڑی سرکشی برتو گے، پھر جب ان دونوں میں سے پہلی مرتبہ کا وعدہ آپہنچا تو ہم نے تم پر اپنے ایسے بندے مسلّط کر دیئے جو سخت جنگجو تھےپھر وہ (تمہاری) تلاش میں (تمہارے) گھروں تک جا گھسے، اور (یہ) وعدہ ضرور پورا ہونا ہی تھا۔ ‘‘ (الاسراء:۴۔ ۵) یہ آیات اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ جب کوئی امت اپنے منصب اور ذمہ داری کو بھول جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے آزمائشوں کے ذریعے متنبہ فرماتا ہے تاکہ وہ دوبارہ راہِ راست کی طرف لوٹ آئے۔
امت ِ محمدیہ کی تاریخ بھی اس حقیقت سے خالی نہیں۔ جب مسلمانوں نے قرآن و سنت کی حقیقی روح سے دوری اختیار کی، علم و تحقیق کو چھوڑ دیا، باہمی اختلافات، عیش پرستی اور اقتدار کی کشمکش میں مبتلا ہوگئے تو ان کے زوال کا آغاز ہوا۔ تاریخ کا سبق آج بھی ہمارے سامنے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میرا رَب تو وہی ہو سکتا ہے جس نے سب کو پیدا کیا، جس کے سب محتاج ہیں‘‘
موجودہ حالات میں مسلمانوں کو ایک بار پھر اسلامی تعلیمات کا گہرا ئی سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر غیر مسلموں کے ساتھ زندگی گزارنے کے تعلق سے۔ جیسا کہ اسلام نے ہمیشہ عدل، حسنِ سلوک، رواداری اور انسانیت کی تعلیم دی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: ’’اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کرتے۔ ‘‘ (الممتحنہ:۸)
جب مسلمان یہ امید رکھتے ہیں کہ برادرانِ وطن ان کے ساتھ بہتر برتاؤ کریں، ان کے مذہبی جذبات کا احترام کریں اور انہیں محبت و اعتماد کی نگاہ سے دیکھیں، تو انہیں اپنے طرزِ عمل پر بھی غور کرنا چاہئے۔ کیا ہمارا رویہ بھی دوسروں کے ساتھ ویسا ہی ہے جیسا ہم ان سے اپنے لئے چاہتے ہیں ؟ کیا ہم اپنے معاملات، گفتگو، لین دین، سوشل رویوں اور سماجی تعلقات میں اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں ؟ اگر ہندوستانی مسلمان دعوتی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے اس ملک میں زندگی گزارتے، اپنے کردار کو اسلام کا عملی نمونہ بناتے اور لوگوں تک محبت، انصاف اور اخلاق کے ذریعے اسلام کا پیغام پہنچاتے، تو شاید آج اس نوعیت کے حالات پیدا ہی نہ ہوتے۔ تمام تر مشکلات اور موجودہ حالات کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کو ہرگز مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستان اب بھی ایک ایسا ملک ہے جہاں آئینی حقوق، تعلیمی مواقع اور ترقی کے بے شمار راستے موجود ہیں۔ اگر مسلمان حکمت، صبر، اتحاد اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں تو وہ ملک میں اپنی ایک مضبوط اور باوقار شناخت اب بھی قائم کرسکتے ہیں۔
مایوسی مؤمن کی صفت نہیں۔ قرآن مجید میں اسی کی تعلیم دی گئی ہے: ’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ ‘‘ (یوسف:۸۷)