• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

منی پور کی ۹؍ تنظیموں پر پابندی

Updated: November 24, 2023, 1:35 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

پی ایل اے سے ملحق آر پی ایف اور یو این ایل ایف سے وابستہ ایم پی اے بھی پابندی کی زد میں آئی ہیں۔ آنا بھی چاہئے تھا کہ جمہوری ملک میں کسی گروہ یا تنظیم کو مسلح ہونے یا مسلح گروہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جن تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ امپھال میں سرگرم ہیں اور ان پر دیگر الزامات کے ساتھ مسلح فوجی دستوں پر حملہ کرنے کا بھی الزام ہے۔

Central government has banned 9 extremist or violent groups or organizations for 5 years. Photo INN
مرکزی حکومت نے ۹؍ شدت پسند یا تشدد پسند گروہوں یا تنظیموں پر ۵؍ سال کیلئے پابندی عائد کر دی ہے۔تصویر آئی این این

اس سال مئی میں  منی پور میں  نسلی تصادم شروع ہوا تھا۔ تصادم کی وجہ یہ تھی کہ یہاں  کے میتئی عوام نے درج فہرست طبقات میں  شامل کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا جو کوکی اور ناگا طبقات کے عوام کو منظور نہیں  تھا۔ میتئی زیادہ تر امپھال اور میدانی علاقوں  میں  آباد ہیں  اور کل آبادی میں  ان کا تناسب ۵۳؍ فیصد ہے جبکہ کوکی اور ناگا پہاڑی اضلاع میں  آباد ہیں  اور کل آبادی میں  ان کا تناسب ۴۰؍ فیصد کے قریب ہے۔ کوکی اور ناگا کو آدیباسی کی حیثیت سے درج فہرست طبقے کا درجہ حاصل ہے اور وہ نہیں  چاہتے کہ میتئی کو یہ درجہ ملے یا وہ اسی طرح ریزرویشن کے مستحق ہوں  جس طرح کوکی اور ناگا ہیں ۔ مفادات کا یہ ٹکراؤ خونی تصادم میں  تبدیل ہوا تو اس کی بازگشت بیرون ملک بھی سنی گئی۔ ۱۸۰؍ سے زیادہ لوگوں  کی جانیں  بھی گئیں ۔ شمال مشرق کی دوسری ریاستوں  میں  بھی اس کی آنچ محسوس کی گئی۔ کچھ تنظیموں  نے حکومت اور مسلح فوجی دستوں  پر جانبداری کے الزامات بھی عائد کئے۔ پارلیمنٹ میں  سوال اٹھائے گئے کہ وزیراعظم منی پور کیوں  نہیں  ہوگئے۔ پہاڑی اضلاع کے مردوں ، عورتوں  اور بچوں  پر مظالم کے کئی واقعات سامنے آئے مگر ریاستی اور مرکزی حکومت کھل کر کچھ کہنے سے بچتی رہی۔
 اب مرکزی حکومت نے ۹؍ شدت پسند یا تشدد پسند گروہوں  یا تنظیموں  پر ۵؍ سال کیلئے پابندی عائد کر دی ہے تو ثابت ہوگیا ہے کہ پہاڑی علاقے کے لوگوں  پر تشدد اور زیادتی کے جو واقعات بیان کئے جاتے رہے ہیں  وہ سچائی سے خالی نہیں  ہیں ۔ جن گروہوں  یا تنظیموں  پر پانچ سال کیلئے پابندی عائد کی گئی ہے ان میں  پیوپلس لبریشن آرمی (پی ایل اے)، یونائیٹڈ نیشنل لبریشن فرنٹ (یو این ایل ایف)، کانگ لے ئی پاک کمیونسٹ پارٹی (کے سی پی) اور کوآرڈی نیشن کمیٹی (سی او آر سی او ایم) شامل ہیں ۔ پی ایل اے سے ملحق آر پی ایف اور یو این ایل ایف سے وابستہ ایم پی اے بھی پابندی کی زد میں  آئی ہیں ۔ آنا بھی چاہئے تھا کہ جمہوری ملک میں  کسی گروہ یا تنظیم کو مسلح ہونے یا مسلح گروہ بنانے کی اجازت نہیں  دی جاسکتی۔ جن تنظیموں  پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ امپھال یعنی منی پور کی راجدھانی میں  سرگرم ہیں  اور ان پر دیگر الزامات کے ساتھ مسلح فوجی دستوں  پر حملہ کرنے کا بھی الزام ہے۔
 کئی اخباروں  نے یہ خبر شائع کی ہے کہ جن تنظیموں  پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ قومی مفادات ہی نہیں  ملک کی سالمیت اور اتحاد کے خلاف بھی سرگرم رہے ہیں ۔ ایک عام شہری اور اخبار بیں  کا اب تک تاثر یہ تھا کہ قومی مفادات اور ملک کے اتحاد سالمیت پر وار کرنے والی تنظیمیں  پہاڑی علاقوں  سے تعلق رکھتی ہیں ۔ تشدد کے دوران انہیں  پر زیادہ حملے بھی ہوئے تھے مگر حکومتی ذرائع سے جو خبریں  شائع ہوئی ہیں  ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پابندی کی زد میں  آنیوالی تنظیمیں  اپنے ملک کی سالمیت اور اتحاد پر وار کرنے کیساتھ عوام میں  لوٹ پاٹ بھی کر رہی تھیں ۔ ان کیخلاف وصولی کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں ۔ وزارت داخلہ کے ذریعہ جاری کئے گئے نوٹیفکیشن میں  کہا گیا ہے کہ اگر ان پر پابندی عائد نہ کی جاتی تو یہ اپنے کیڈر کو منظم اور تربیت یافتہ کرنے کے علاوہ بیرونی ممالک سے اسلحہ بھی حاصل کرتے۔ یہ تمام اطلاعات ایک عام قاری اور ہندوستانی شہری کیلئے بالکل نئی ہیں  مگر ان کی ایک سوچ یہ بھی ہے کہ حکومت کہہ رہی ہے تو یقیناً ثبوتوں  کی بنیاد پر کہہ رہی ہوگی مگر یہ اطلاعات حاصل کرنے میں  اس کو کتنا عرصہ درکار تھا؟ منی پور میں  مئی مہینے میں  تشدد کی ابتدا ہوئی تھی اور تشدد کے دوران خود مرکزی اور ریاستی حکومتوں  نے جو اعترافات کئے تھے ان سے محسو س ہوتا تھا کہ حالات بہت تشویشناک ہیں  مگر یہی نہیں  کہ اس وقت حکومت نے وہ اقدام نہیں  کئے جو اقدام اب کر رہی ہے بلکہ کسی نے حالات کی سنگینی کی طرف اشارہ بھی کیا تو اس کو یہ کہہ کر روک دیا کہ ’الزام تراشی نہ کرو‘۔ عام شہریوں  کے ذہن میں  یہ سوال بھی ہے کہ کیا ۵؍ سال کی پابندی کافی ہے؟ اور کیا اس مدت میں  مذکورہ تنظیموں  کی ذہنیت اور کارکردگی کے بدل جانے کی توقع کی جاسکتی ہے؟
 ظلم و زیادتی سے تنگ آکر یا کسی کے بہکاوے میں  پہاڑی علاقوں  کے لوگوں  نے خود اختیاری یا الگ انتظامیہ کا مطالبہ کیا تھا جو پہلے بھی مسترد کر دیا گیا تھا اور اب بھی مسترد کیا گیا ہے۔ اصولاً یہ صحیح ہے کہ ایک ریاست میں  جہاں  حکومت عوام کی پسند کے مطابق تشکیل دی گئی ہے دو انتظامیہ نہیں  ہوسکتی مگر موجودہ حالات میں  جب مرکزی حکومت نے ۹؍ میتئی گروہوں  پر پابندی عائد کر دی ہے یہ سوال اٹھانا غلط نہیں  ہے کہ کیا ریاستی مشینری کے ان خاطی عناصر کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے جن کی وجہ سے پہاڑی علاقے کے لوگوں  میں  علاحدگی کا احساس پیدا ہوا تھا؟ اور کیا حکومت سمجھتی ہے کہ جن میتئی تنظیموں  پر پانچ سال کیلئے پابندی عائد کی گئی ہے  وہ اس مدت میں  اپنی ذہنیت اور طریقۂ کار میں  تبدیلی پیدا کر لیں  گے، شاید نہیں ۔ ملکی سطح پر بھی یہی معاملہ ہے کہ کچھ تنظیموں  اور افراد نے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنا شروع کر دیا ہے اور ان کو اقتدار کے گلیاروں  کے علاوہ عوام کے ایک طبقے کا بھی اعتبار حاصل ہے۔ یہی نہیں  یہ اپنی نفرت انگیزی کو قوم پرستی اور دیس بھکتی کا نام دیتے ہیں ۔ منی پور کا تشدد مئی میں  شروع ہوا تھا اور میتئی جماعتوں  پر ساتویں  مہینہ میں  اس وقت پابندی عائد کی گئی ہے جب منی پور کی پڑوسی ریاست میزورم میں  انتخابات ہونے والے ہیں ۔ میزورم میں  منی پور کے تشدد کے دوران بھی آنچ دیکھنے میں  آئی تھی کہ یہاں  منی پور کے پہاڑی علاقوں  میں  رہنے والوں  سے نسلی اور مذہبی یکسانیت یا کم از کم مماثلت رکھنے والوں  کی اکثریت ہے۔
 منی پور میں  حکومت نے جو اقدامات کئے پورے ملک میں  ویسے اقدامات کئے جانے چاہئیں : آرمی اور لبریشن فرنٹ جیسے الفاظ جس کسی تنظیم کے ساتھ لگے ہوں  قابلِ اعتراض ہیں  اور اگر یہ تنظیمیں  اکثریت سے تعلق رکھتی ہوں  تو اور زیادہ قابلِ اعتراض ہیں ، ساتھ ہی وہ لوگ بھی مجرم ہیں  جو ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ منی پور میں  غیر ملکی طاقتوں  کا ہاتھ ہونے سے انکار نہیں  کیا جاسکتا کہ امپھال میں  یو ایف او (نامعلوم شے) نظر آیا ہے مگر مقامی سطح پر بھی جنگجو سرگرم ہیں  اسی لئے یہاں  ایک فوجی سمیت دو اشخاص کو ۲۰؍ نومبر کو بھی گولی ماری گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK