علاقائی زبان میں بنیادی تعلیم کے مقاصد و فوائد

Updated: March 22, 2021, 3:50 PM IST | Dr. Mushtaq Ahmed

نئی تعلیمی پالیسی میں مادری زبان میں تعلیم دینے کے وسیع تر امکانات موجود ہیں لہٰذااس کا فائدہ اُردو والوں کو بھی اٹھا نا چاہئے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

دنیا کے تمام ماہرین لسانیات اور ماہرین تعلیم کا متفقہ نقطہ نظر ہے کہ بچوں کو بنیادی تعلیم اس کی مادری زبان میں دی جانی چاہئے۔ سائنس نے بھی یہ ثابت کیا ہے بچوں کی ذہن سازی میں مادری زبان کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں بنیادی تعلیم کا نظم بذریعۂ مادری زبان ہے لیکن یہ المیہ ہے کہ ہمارے ملک میں انگریزی میڈیم اسکولوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ آزادی کے بعد حکومت کی طرف سے یہ کوشش ضرور شروع ہوئی کہ ملک کے بنیادی اسکولوں میں قومی زبان ہندی کو فروغ ملے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس پرصد فیصد عمل نہیں ہوا۔ وجہ جو بھی رہی ہو لیکن اس سے ہندی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
  جہاں تک ملک کی دیگر علاقائی زبانوں کا سوال ہے تو اگر وہ اب تک زندہ ہیں تو صرف اور صرف اس کے چاہنے والوں کی جد و جہد کا ثمرہ ہے۔ ورنہ انگریزیت کے نشہ نے علاقائی زبان کے فروغ کے تمام راستے محدود کر دیئے تھے۔ اس انگریزیت نے دیگر علاقائی زبانوں کے ساتھ ساتھ ہندی اور اردو کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ قومی زبان ہونے کی وجہ سے مجبوراً ہندی زبان کی تعلیم کے چراغ کو بجھایا تو نہیں گیا ہے لیکن مدھم ضرور ہو گیا ہے۔ بہرکیف ، حال ہی میں مرکزی حکومت نے نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اور اس کیلئے جو خاکے طے ہوئے ہیں، اسے عوام الناس کے سامنے پیش بھی کیا گیا ہے۔ ان دنوں پورے ملک میں اس نئی تعلیمی پالیسی پر سمینار اور مذاکرے بھی ہورہے ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ اس نئی تعلیمی پالیسی سے ملک کے تعلیمی نظام میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب کبھی کوئی نئی پالیسی وجود میں آتی ہے اس پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ ہر ایک نئی پالیسی کے اندر کوئی نہ کوئی نئی بات ضرور ہوتی ہے جو اس پالیسی کی اہمیت و افادیت کو مستحکم کرتی ہے۔ اس نئی تعلیمی پالیسی میں بھی بنیادی تعلیم بذریعہ مادری زبان کو مرکزیت عطا کی گئی ہے۔
  میرے خیال میں اس پالیسی کی یہ ایک بڑی خصوصیت ہے۔ اگر واقعی قومی سطح پر بنیادی اسکولوں میں بذریعہ مادری زبان تعلیم کو فروغ ملتا ہے تواس سے نہ صرف علاقائی زبانوں کو پھولنے پھلنے کا ماحول سازگار ہوگا بلکہ قومی زبان کیلئے بھی راستہ ہموار ہوگا اور اردو زبان کیلئے بھی مٹی نم ہوگی ۔بین الاقوامی ادارہ یونیسکوبھی لسانی تحفظ کیلئے مادری زبان کو فروغ دینے کی وکالت کرتا رہا ہے کہ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ہر سال دنیا کی کئی زبانیں دم توڑ رہی ہیں۔ جہاں تک اپنے وطن عزیز ہندوستان کا سوال ہے تو یہ ملک کثیر المذاہب ، کثیر التہذیب کے ساتھ ساتھ کثیر اللسان بھی ہے۔ اسلئے سرکاری سطح پر یہ ایک بڑی مشکل بھی ہے کہ قومی سطح پر علاقائی زبان میں تعلیم کا نظم ہو لیکن نئی تعلیمی پالیسی میں اس عمل کو یقینی بنانے کا عہد کیا گیا ہے اور اس کیلئے تمام ریاستی حکومتوں سے تعاون کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ بنیادی اور ثانوی تعلیم کے معاملے میں ریاستی حکومتوں کو آئینی خود مختاریت حاصل ہے۔ مرکز کی تعلیمی پالیسی کا نفاذ اسی وقت ممکن اور کامیاب ہو سکتا ہے جب ریاستی حکومتیں اس پر لبیک کہیں گی ۔ یہ اچھی بات ہے کہ اس وقت مرکزی حکومت کی اس پالیسی کی حمایت کرنے والی ریاستوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اسلئے یہ امید بندھی ہے کہ علاقائی زبانوں میں بنیادی تعلیم کے راستے ہموار ہو ں گے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اگر علاقائی زبان میں تعلیم کے نظم کو مستحکم کیا جاتا ہے تو خود بخود مادری زبان کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔
  ان دنوں بہار میں اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہے۔ کئی ممبران اسمبلی نے علاقائی زبانوں میں بنیادی تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کا ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا تھا۔ حکومت کی جانب سے بہار کے معزز وزیر تعلیم وجئے کمار چودھری نے یہ اعلان کیا ہے کہ بہار کی علاقائی زبان میتھلی ، بھوجپوری اور مگہی میں بھی بنیادی تعلیم کا نظم کیا جائے گا۔ بلاشبہ ایک عرصے سے ان زبانوں کے ذریعہ بنیادی تعلیم کے نظم کا مطالبہ ہوتا رہا ہے ۔ اگرچہ بہار میں ان زبانوں میں اعلیٰ تعلیم کا نظم پہلے ہی سے ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں میتھلی، بھوجپوری اور مگہی کی پڑھائی ہوتی ہے۔ اب جبکہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بنیادی سطح پر بھی ان علاقائی زبانوں میں تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے گی تو ان زبانوں کو پھولنے پھلنے کا مزید موقع ملے گا۔
  اردو آبادی کیلئے بھی یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اردو کے ذریعہ تعلیم دینے اور دلانے کی کوشش کریں کہ نئی تعلیمی پالیسی میں مادری زبان میں تعلیم دینے کے وسیع امکانات ہیں مگر شرط یہ ہے کہ اردو آبادی پہلے خود کو ذہنی طور پر تیار کریں کہ وہ اپنے بچوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم دلانا چاہتے ہیں اور انگریزیت کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب نہیں  ہیں۔ یہاں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ میں انگریزی زبان کی تعلیم کا مخالف ہوں بلکہ بنیادی اور ثانوی سطح تک اپنی مادری زبان میں تعلیم دینے کا پرزور حمایتی ہوں کہ مادری زبان کے ذریعہ نہ صرف نئے علوم سیکھنے میں آسانی ہوتی ہے بلکہ بچوں میں ذہنی وسعت بھی پیدا ہوتی ہے۔ انگریزی کی تعلیم بھی ضروری ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی رابطے کی زبان  ہے اور عا  لمگیریت کے بعد روزگار کے شعبے میں اس کی اہمیت بڑھی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مادری زبان کی اہمیت کم ہوئی ہے۔ بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ مادری زبان کے ذریعہ تعلیم حاصل کرنے والے دوسری زبانوں پر بھی بہ آسانی عبور حاصل کر لیتے ہیں۔
  میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جن بچوں کی تعلیم مادری زبان کے ذریعہ ہوتی ہے وہ اعلیٰ درجے کے مضامین کو سمجھنے میں دیگر طلبہ سے کہیں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں کہ ان کی ذہنی پختگی کا سامان انھیں پہلے ہی میسر ہو چکا ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ قومی سطح پر نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ سے بھی علاقائی اور مادری زبان کو فروغ ملے گا اور حکومت بہار کے حالیہ فیصلے سے بھی علاقائی زبانوں کے راستے ہموار ہوں گے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ صرف حکومت کی مراعات  ہی سے کوئی زبان نہیں پھولتی پھلتی ہے بلکہ اس زبان کے دلداہ حوصلے اور عزم کی بدولت اس زبان کی مشکلیں آسان ہوتی ہیں اور اس کی مثال بہار میں میتھلی ، بھوجپوری اور مگہی ہے کہ اس زبان کے لوگوں نے اپنے گھروں میں بچوں کو اس زبان کو زندہ رکھنے کے مواقع فراہم کئے اور سرکاری مراعات نہ ہونے کے باوجود یہ زبانیں زندہ ہیں۔ نتیجہ ہے کہ آج حکومت بہار کو یہ اعلان کرنا پڑا ہے کہ اب بنیادی سطح پر علاقائی زبانوں میں تعلیم کا نظم کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK