قرآن کریم کی وہی تفسیر و تشریح معتبر ہوگی جو آپؐ نے فرمائی یا اُن حضرات صحابہ ؓ نے جو براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے قرآن پڑھتے اور آپؐ کی حیات ِ طیبہ میں اس کی عملی تفسیر دیکھتے رہے۔
EPAPER
Updated: October 27, 2023, 1:02 PM IST | Mufti Muhammad Taqi Usmani | Mumbai
قرآن کریم کی وہی تفسیر و تشریح معتبر ہوگی جو آپؐ نے فرمائی یا اُن حضرات صحابہ ؓ نے جو براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے قرآن پڑھتے اور آپؐ کی حیات ِ طیبہ میں اس کی عملی تفسیر دیکھتے رہے۔
اسلامی شریعت کے بنیادی مآخذ تو چار ہیں :
(۱) قرآن کریم (۲) سنت ِ رسول اللہ ﷺ (۳) اجماع امت اور (۴)قیاس۔ زیرنظر سطور میں پہلے تین مآخذ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
قرآن کریم: مذکورہ بالا مآخذ میں سب سے بلند مرتبہ مآخذ قرآن کریم ہےجس کی کسی ایک بات کا انکار بھی انسان کو اسلام کے دائرہ سے نکال کر کفر کی سرحد تک پہنچا دیتا ہے۔ چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس لئے کسی زمانے میں بھی اس کے احکام میں ردّوبدل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے دیئے ہوئے احکام ہر زمانے میں یکساں اور مفید اور بہرحال واجب العمل ہیں ۔ یہ مآخذ ہر مسلمان کیلئے سب سے زیادہ مستند ہے، اس لئے کہ اس کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے۔ چنانچہ کم و بیش ساڑھے چودہ سو سال کے عرصہ میں اس کے اندرایک نقطہ کا فرق نہیں ہوسکا۔لیکن یہاں ایک بات سمجھ لینی چاہئے۔ وہ یہ ہے کہ آج کل ایک بڑی مشکل یہ آپڑی ہے کہ ہر وہ شخص جس نے معمولی عربی پڑھی ہے، قرآن کریم کو اپنا تختہ ٔ مشق بنانا شروع کردیتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے قرآن کریم کے احکام کو توڑمروڑ کر رکھ دیتا ہے:
قرآن تو برحق ہے مگر اپنے ’’مفسر‘‘=تاویل سے قرآں کو بنا دیتے پا زند (پاژند پارسیوں کی مذہبی کتاب کو کہتے ہیں )
حالانکہ یہ بالکل ظاہر بات ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا اصولی کلام ہے جس کے معارف و مطالب کو سمجھنا ہرکس و ناکس کے بس کا کام نہیں ۔ ایک معمولی قانون کی کتاب بھی انسان صرف زبان جاننے سے نہیں سمجھ سکتا تو قرآن کریم کا معاملہ بہرحال بہت بلند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم براہ راست بھیجنے کے بجائے رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے بھیجا اور آپؐ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’اور ہم نے آپؐ کے اوپر قرآن نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے سامنے کھول کھول کر وہ باتیں بیان کردیں جو ان کے لئے اُتاری گئی ہیں۔‘‘ (النحل:۴۴)
ورنہ مشرکین عرب کی خواہش تو یہ تھی کہ براہِ راست ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھما دی جاتی جس کو دیکھ دیکھ کر وہ عمل کرلیا کرتے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کیلئے یہ بات کچھ مشکل بھی نہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا کیونکہ اگر ایسا کردیا جاتا تو ہر شخص قرآن سے من مانا مطلب نکالتا اور دین اسلام ہر شخص کی خواہشات کے ہاتھ میں کھلونا بن کر رہ جاتا۔ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ساتھ ایک معلم ﷺ کو بھی مبعوث فرمایا جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی وہی تفسیر و تشریح معتبر ہوگی جو آپؐ نے فرمائی یا اُن حضرات ِصحابہ ؓ نے جو براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے قرآن پڑھتے اور آپؐ کی حیات ِ طیبہ میں اس کی عملی تفسیر دیکھتے تھے۔
ظاہر ہے کہ ہم قرآن کریم کی تفسیر اس انداز سے نہیں سمجھ سکتے جس طرح حضرات ِ صحابہ ؓ نے سمجھی ، کیونکہ متکلم کی بات سمجھنے کیلئے صرف اس کی زبان کو سمجھنا کافی نہیں ہوا کرتا بلکہ گفتگو کا ماحول اور زمانہ، متکلم کی آواز کا لب و لہجہ اور اتار چڑھاؤ اور متعلم کے مزاج کا انداز یہ تمام چیزیں گفتگو کا مطلب سمجھنے کیلئے نہایت ضروری ہوتی ہیں ۔ ہم ان تمام چیزوں سے محروم ہیں اور حضرات صحابہ ؓ ان تمام چیزوں سے فیضیاب تھے۔ لہٰذا ان حضرات کی بیان کی ہوئی تفسیر کے مقابلہ میں ہماری تفسیر کوئی مقام نہیں رکھتی خواہ ہم عربی زبان کے کتنے ہی ماہر کیوں نہ ہوں اور اس کے الفاظ و محاورات پر ہمیں کتنا ہی عبور کیوں نہ حاصل ہو۔ اس لئے عقلاً قرآن کریم کو سمجھنے کا درست معیار یہی ہے کہ اُسے اُن حضرات ِصحابہ ؓ سے سمجھا جائے جنہوں نے اس کا علم براہِ راست رسولؐ اللہ سے حاصل کیا ہے۔
سنت ِ رسولﷺ: اسلامی شریعت کا دوسرا بڑا مآخذ وہ اقوال و افعال ہیں جو آپ ؐ سے ’’احادیث‘‘ کی شکل میں منقول ہیں۔ گزشتہ ارشادات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سنت رسولؐ سے قطع نظر کرکے قرآن کریم کو ہرگز نہیں سمجھا جاسکتا اور اگر سمجھنا ممکن تھا تو پھر دین کی تعلیم دینے کیلئے صرف قرآن ہی کافی تھا، رسولؐ اللہ کو مبعوث فرمانے کی حاجت ہی نہ تھی۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن نازل کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ آپؐ کو بھی مبعوث فرمایا اور اس کا مقصد خود یہ بیان کردیا ’’تاکہ آپؐ لوگوں کے سامنے کھول کھول کر وہ باتیں بیان کردیں جو ان کیلئے اتاری گئی ہیں۔‘‘ اس لئے اس سے صاف اور واضح ہوگیا کہ سنت سے قطع نظر کرکے اسلامی شرعی احکام مستنبط نہیں کئے جاسکتے ، اور جو شخص ایسا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے وہ بعثت ِ انبیاءؑ کے بنیادی مقصد تک سے جاہل ہے اور جو باتیں وہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے وہ اسلام نہیں ہوسکتا جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے واسطہ سے دنیا کیلئے بھیجا ہے۔
اجماع امت: اسلامی شریعت کا تیسرا مآخذ ’’اجماع امت‘‘ ہے۔ یہ ایک متفقہ فیصلہ ہے کہ جس چیز پر تمام صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ نے اتفاق کرکے کوئی رائے دی ہو اس کے خلاف کوئی رائے پیش کرنا جائز نہیں۔ ’’اجماع امت‘‘ کا دین میں حجت (اتھاریٹی) ہونا خود قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص مسلمانوں کے سوا کسی راستے کی پیروی کرے گا ہم اُسے وہی چیز دے دیں گے جسے اس نے اختیار کیا اور ہم اُسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘‘ (النساء: ۱۱۵)
یعنی جو چیز تمام مسلمانوں کے درمیان متفقہ ہو اس کے خلاف کوئی بات کہنا جائز نہیں، اور حدیث میں آپﷺ نے فرمایا: ’’جس چیز کو تمام مسلمان اچھا سمجھ لیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے۔‘‘ یہ بھی فرمایا کہ:’’میری امت گمراہی پر ہرگز جمع نہیں ہوگی۔‘‘
اس کے علاوہ عقل بھی تقاضا کرتی ہے کہ اجماع حجت ہو کیونکہ اگر اجماعِ امت کے خلاف کوئی بات کہی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ (معاذ اللہ) دین اسلام میں کچھ یعنی کوئی بات اس قدر پراسرار تھی کہ چودہ سو سال تک امت کے کسی ایک انسان کو بھی اس کے تمام مسائل ٹھیک ٹھیک سمجھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اگر اجماع امت کے حجت ہونے سے انکار ہو تو یہ ایک ایسا اعتراض پڑتا ہے جس سے کسی طرح مفر ممکن نہیں۔
پھر اس اجماع کو حجت قرار دینے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا سلسلہ ختم ہوجانے کے بعد کوئی شخص معصوم اور غلطیوں سے پاک تو ہو نہیں سکتا جس کی بات کو ہر حال میں تسلیم کرنا ضروری سمجھا ہی جائے، اور ساتھ ہی نت نئے مسائل حل کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ کوئی ایسا سہارا سوسائٹی میں موجود رہے جسے معصوم اور غلطیوں سے پاک تصور کیا جاسکے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے امت کے مجموعہ کو معصوم قرار دے دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ جس بات پر امت مجتمع اور متفق ہوجائے وہ غلط نہیں ہوسکتی۔