وزیراعظم مودی نے اپنی۱۲؍ سالہ ’کاوشوں ‘ سے اس ملک کو کہاں پہنچا دیا ہے؟ اس بات کی جانچ ہر شعبے میں کرنے کی ضرورت ہے۔
نریندر مودی۔ تصویر: آئی این این
آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کو مئی ۲۰۱۴ء میں اُس وقت کے وزیراعظم آنجہانی منموہن سنگھ نے جو ’ہندوستان‘ سونپا تھا، اس کی کیاحالت ہے؟ وزیراعظم مودی نے اپنی۱۲؍ سالہ ’کاوشوں ‘ سے اس ملک کو کہاں پہنچا دیا ہے؟ اس بات کی جانچ ہر شعبے میں کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ ملک کی مالی صورتحال کیا ہے اور سماجی اشاریوں پر ہندوستان کہاں پہنچ گیا ہے؟ ہندوستان کی عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی ساکھ کتنی بچی ہے؟ ہندوستان کے مختلف آئینی اور قانونی ادارے ملک کیلئے کتنی ’کیلوریز‘ خرچ کر رہے ہیں، اور ہندوستان میں ’عام آزادی‘ کی کیا حالت ہے؟
ناکام وزیراعظم
نریندر مودی ایک ناکام وزیر اعظم ہیں، یہ بات اب صرف کہنے کی رہی۔ پہلے ’بہادری‘ کے انداز میں غلط فیصلے کرنا اور پھر جب مسائل، قابو سے باہر ہو جائیں تو بھاگ جانا، وزیر اعظم مودی کا ’قائدانہ‘ انداز ہے۔ گجرات سے لے کر دہلی تک مودی نے صرف اپنے ’اورا‘ پر توجہ مرکوز کی ہے، ’اوروں ‘ پر نہیں۔ وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم ہیں جو سب سے پہلے اپنی شبیہ، اپنی انتخابی فتوحات، اپنے فوٹیج اور اپنے لباس پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، عام لوگوں پر نہیں۔ جب بھی ملک کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا، پی ایم مودی نے صرف آکر تقریریں کیں اور لوگوں سے قربانی کی ’اپیل‘ کی، انہیں کبھی اپنے اوپر اس اپیل کااطلاق نہیں کیا۔ سوال چاہے اپوزیشن کے ہوں یا طلبہ اور کسانوں کے، مودی نے کبھی جواب نہیں دیا۔ یہ میڈیا میں ان کے’انداز‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ جمہوریت میں احتساب کا فقدان انداز نہیں بلکہ کمزوری ہے اور کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا جب تک یہ کمزوری اعلیٰ ترین عہدے پر رہے۔ ملک کا میڈیا مودی کی شبیہ بنانے میں روزانہ کروڑوں روپے خرچ کرتا ہے اور ان کی ناکامیوں پر بات کرنے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے جبہ مودی ایک ’ویب سیریز‘ مٹیریل ہیں، جن کی ناکامیوں پر ان گنت ’سیریز‘ بن سکتی ہیں۔
ڈگری کا تنازع
وزیر اعظم مودی نہ تو اپنی ڈگری ظاہر کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی تعلیم کے بارے میں درست معلومات فراہم کرتے ہیں۔ نہ ہی اداروں کو اس کی ڈگریاں پبلک کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔ انہوں نے خود ہی ’میں تعلیم یافتہ نہیں ہوں ‘ سے لے کر’میں انٹائر پالیٹکس میں ایم اے ہوں ‘ تک کا دعویٰ کیا ہے۔ میں سچ نہیں جانتا، لیکن یہ یقینی ہے کہ پی ایم مودی کو تعلیم اور امتحانات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، اسلئے ان کے دور کو ایسے ہی یاد رکھا جائے گا جس نے لاکھوں طلبہ کی محنت کو برباد کر دیا۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے۲۰۱۴ء میں نریندر مودی کو جو ہندوستان پیش کیا تھا، اس میں پیپر لیک جیسے واقعات یا تو موجود نہیں تھے یا کم سے کم تھے۔
پیپر لیکس
۲۰۰۴ء سے۲۰۱۴ء کے درمیان کل۱۱؍ پرچے لیک ہوئے تھے جن میں سے ایک بڑا حصہ ریاستی امتحانات سے متعلق تھا۔ یہ مبالغہ آرائی نہیں ہوگی اگر مودی کا دور تاریخ میں ’دنیا کے پیپر لیکس‘ کے طور پر یاد کیا جائے۔ مودی کے۱۲؍ برسوں میں ۸۹؍ پیپر لیک ہوئے ہیں یعنی ہر سال اوسطاً۷؍ سے زیادہ پیپر لیک ہوتے ہیں۔
مودی ’ایک ہندوستان‘ کے بارے میں پرجوش ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے کہ اسے کس طرح منظم کرنا ہے۔ بڑے پیمانے پر مخالفت کے باوجود، مودی حکومت نے نومبر۲۰۱۷ء میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) قائم کی اور اس نے دسمبر۲۰۱۸ء میں اپنا پہلا امتحان منعقد کیا۔ ۲۰۱۹ء سے این ٹی اے نے پوری ذمہ داری سنبھالی۔ اس سے قومی امتحانات میں لیکس کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
۲۰۲۱ء میں یوجی نیٹ پیپر، ایک قومی سطح کا میڈیکل امتحان، جے پور، راجستھان میں لیک ہوا تھا۔ یہ پیپر امتحان سے پہلے ہی واٹس ایپ پر گردش کر چکا تھا، لیکن حکومت نے لیک ہونے کو مکمل طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ۲۰۲۱ء میں بھی، حکومت کو باوقار’جی مینس‘ امتحان کے دوران این ٹی اے سرور ہیکنگ کے معاملے کا سامنا کرنا پڑا، لیکن حکومت نے کچھ نہیں کیا۔
’سی یو ای ٹی‘، جو۲۰۲۲ء میں شروع ہوا، بری طرح ناکام ہوا۔ حکومت کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بیک وقت اتنے طلبہ کو کیسے سنبھالا جائے۔ نتیجتاً، سرورز فیل ہو گئے اور امتحان دوبارہ شیڈول کر دیا گیا۔ ۲۰۲۴ء کے نیٹ امتحان میں مودی حکومت کی ناکامی ایک بار پھر واضح ہوگئی اور پیپر لیک ہو گیا۔ سی بی آئی نے اطلاع دی کہ کاغذ ہزاری باغ میں چوری کیا گیا تھا اور پٹنہ میں ایک ’سالور گینگ‘ کو تقسیم کیا گیا تھا۔ مودی سرکار، جو اپنی ’چوری اور سینہ زوری‘کیلئے مشہور ہے، نے ایسا ہی کیا۔ طلبہ نے دوبارہ امتحان کا مطالبہ کیا، لیکن نہ تو حکومت مانی اور نہ ہی سپریم کورٹ نے کوئی سخت حکم جاری کیا۔
گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان
مودی حکومت قومی مایوسی کا باعث بن چکی ہے، اورحکومت کی نااہلی سے صرف طلبہ ہی مایوس نہیں ہیں بلکہ ملک بھی تنزلی کی طرف گامزن ہے اور میڈیا کی مدد سے عوام کو نقصان پہنچانے کیلئے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ گلوبل ہنگر انڈیکس۲۰۱۳ء میں ہندوستان۶۳؍ ویں نمبر پر تھا جبکہ۲۰۱۵ء میں ہندوستان گر کر۱۰۲؍ ویں نمبر پر پہنچ گیا۔ ایسا کیوں ہے کہ غذائی اجناس سے مالا مال ہونے اور خوراک کے مکمل ذخائر ہونے کے باوجود ہندوستان میں اتنی بھوک کیوں ہے؟ تین میں سے ایک ہندوستانی بچہ (عمر کے مطابق) اتنا کمزور کیوں ہے؟
ملک میں بے روزگاری کی حالت
مودی کے دور میں ہندوستان میں بے روزگاری بڑھی ہے۔ ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں بے روزگاری (۲۹۔ ۱۵؍سال) بڑھ کر۱۵؍ فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے جو کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں ۲؍ سے ۴؍ فیصدتک تھی۔ ہندوستان کی۹۰؍ فیصد ملازمتیں غیر منظم شعبے میں ہیں، جہاں کوئی سماجی تحفظ نہیں ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ مودی اپنی ڈگری نہیں دکھا رہے، لیکن کم از کم انہیں ڈگری والوں کو سزا تو نہیں دینی چاہئے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق ہندوستان میں تقریباً۶۶؍ فیصد تعلیم یافتہ لوگ بے روزگار ہیں جن میں تقریباً۳۰؍ گریجویٹس ہیں۔
ڈالر بمقابلہ روپیہ
جب منموہن سنگھ نے مئی۲۰۱۴ء میں مودی کو اقتدار سونپا تھا تو روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں ۵۹ء۰۹؍ تھی۔ آج مئی ۲۰۲۶ء میں یہ ۹۵ء۶۹؍ تک بڑھ گیا ہے۔ منموہن سنگھ حکومت عام لوگوں کو ۴۱۴؍ (دہلی میں ) میں گھریلو سلنڈر فراہم کر رہی تھی، لیکن مودی حکومت اب وہی سلنڈر مئی۲۰۲۶ء میں ۹۱۳؍میں دے رہی ہے جو کہ۱۲۰؍ فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔ وزیراعظم مودی نے آخر کس بنیاد پر یہ فرض کرلیا کہ۶۵؍ فیصد نوجوانوں کی بے روزگاری والا ملک گیس کی قیمتوں میں ۱۲۰؍ فیصد اضافے کی ادائیگی کرے گا؟ کیا لوگوں کی آمدنی میں بھی۱۲۰؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر بھوک مسلسل کیوں بڑھ رہی ہے؟