Updated: May 18, 2026, 9:59 PM IST
| Dehradun
ہندوتوا کارکنوں نے الزام لگایا کہ ملازمین نے اپنے نیم پلیٹس پر اپنے نام صحیح طریقے سے ظاہر نہیں کئے تھے۔ انہوں نے اسے ہندو خریداروں کے ساتھ ”دھوکہ دہی“ قرار دیا۔ اس واقعے کے دوران، انہوں نے مبینہ طور پر شو روم کے اندر ملازمین کی نیم پلیٹس پر لفظ ”جہادی“ لکھی ہوئی چٹھیاں چسپاں کر دیں۔
وائرل ویڈیو سے چند مناظر۔ تصویر: ایکس
دہرادون میں وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کے ارکان نے مبینہ طور پر ’میٹرو شوز‘ (Metro Shoes) کے شو روم میں داخل ہو کر وہاں تلخ کلامی کے دوران مسلم ملازمین کو نشانہ بنایا اور انہیں ”جہادی“ قرار دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، ہندوتوا گروپس کے ارکان نے شو روم میں داخل ہو کر دو مسلم کارکنوں کو روکا۔ انہوں نے ان پر الزام لگایا کہ وہ ”ہندو صارفین کو گمراہ کرنے کیلئے اپنی شناخت چھپا رہے ہیں۔“
ہندوتوا کارکنوں نے الزام لگایا کہ ملازمین نے اپنے نیم پلیٹس (badges) پر اپنے نام صحیح طریقے سے ظاہر نہیں کئے تھے۔ انہوں نے اسے ہندو خریداروں کے ساتھ ”دھوکہ دہی“ قرار دیا۔ اس واقعے کے دوران، انہوں نے مبینہ طور پر شو روم کے اندر ملازمین کی نیم پلیٹس پر لفظ ”جہادی“ لکھی ہوئی چٹھیاں چسپاں کر دیں۔ انہوں نے اس دوران نعرے بازی بھی کی اور کمپنی کے ملازمت دینے کے طریقوں پر سوالات اٹھائے۔ کارکنوں نے مسلم ملازمین پر مصنوعات چوری کرنے اور صارفین کو دھوکہ دینے کا الزام بھی لگایا۔ تاہم، ان الزامات کی حمایت میں کوئی ثبوت نہیں پیش کیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اس واقعہ نے شو روم کے ملازمین میں خوف و ہراس پیدا کر دیا اور کافی دیر تک کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس واقعے سے گاہک اور عملے کے ارکان شدید خوفزدہ ہوگئے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’عدالتی فیصلوں میں شواہد اور حقائق کی جگہ عقیدے پر انحصار تشویشناک ہے‘‘
اس واقعے کو ہندوتوا گروپس کی جانب سے فروغ دیئے جانے والے ”لو جہاد“ اور ”معاشی جہاد“ جیسے بیانیوں کے تحت کام کی جگہوں اور عوامی مقامات پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی خود ساختہ کارروائیوں کے وسیع سلسلے کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر تبصرے کیلئے دہرادون پولیس سے رابطہ کرنے کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔ خبر لکھے جانے تک کسی باقاعدہ شکایت، حراست یا گرفتاری کی تصدیق نہیں ہو پائی۔