حج کمیٹی اور اس کے ذمہ داران پر تنقید میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس بات کا خیال ضرور رکھنا چاہئے کہ ہمارے کسی عمل سے کسی ایسے ادارے کا نقصان نہ ہو جو خالص ہمارے لئے بنایاگیا ہو۔ اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ آج حکومت ہر اُس ادارے سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہےجس سے صرف ’ہمارا‘ تعلق ہو۔
مشہورکہاوت ہے کہ ’’دودھ کا جلا، چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے‘‘ لیکن ہم توچائےبھی پانی کی طرح پیتے ہیں۔ خطرات سے کھیلنے کے عادی ہیں، اسلئے بیشترمعاملات میں دور تک سوچنا ضروری نہیں سمجھتے، نتیجتاً اکثر سازش کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔
ان دنوں سوشل میڈیا پر ایسے کئی ویڈیو ز گردش میں ہیں جن میں حج سے متعلق ناقص انتظامات کی کہانیاں بیان کی جارہی ہیں۔ ایام حج میں اس طرح کے ویڈیوز اکثر دیکھے جاتے ہیں۔ یہ دیکھے بغیر کہ ان ویڈیوز میں سچائی کتنی ہے اور ان کے بنیادی مقاصد کیا ہیں، ہم نہایت ’ذمہ داری‘ کے ساتھ انہیں فارورڈ بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک ویڈیو گزشتہ دنوں میری نظروں سے بھی گزرا۔ اس ویڈیو میں ایک بڑے میاں جوعازم حج ہیں، اپنی اہلیہ کے گم ہونے کا واقعہ بیان کررہے ہیں۔ بڑے میاں پریشان ہیں، وہ ویڈیو بنانے والے سے اپنا درد بیان کررہے ہیں، اپنی مشکل کا حل چاہتے ہیں لیکن ویڈیو بنانے والے کو ان کی پریشانی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اس کا مقصدکچھ اور ہی نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ سامنے آئے بغیر اپنے الفاظ کو بڑے میاں کے منہ میں ٹھونس کر اپنا مقصد حل کرنا چاہتا ہے۔ یہی بات ہم اس طرح کے دیگر ویڈیوز میں بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ ان ویڈیوز میں ناقص انتظامات کیلئے حج کمیٹی کوذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش ایک قدر مشترک کے طور پر نظر آتی ہے۔
لیکن کیا واقعتاً ایسا ہی ہے؟ کیا واقعی حج کمیٹی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو اس کا حل کیا ہے؟ ویڈیوز بناکر الزامات عائد کرنا، عوامی سطح پر شکایات کی تشہیر کرکے حج کمیٹی کی جڑیں کھودنا اور اس کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرنے میں سازشی عناصر کا ساتھ دینا یا پھر حج کے انتظامات سے متعلق خامیوں، کوتاہیوں اور کمیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ذمہ داران سے اس کے حل کی بابت گفتگو کرنا۔ ان الزامات کی عوامی سطح پر تشہیر کے پس پشت کس طرح کی سازش ہو سکتی ہے، اس پرگفتگو کرنے سے قبل آئیے ناقص انتظامات سے متعلق الزامات کا سرسری طورپر جائزہ لینے کی کوشش کریں۔
جلگاؤں سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی، افسانہ نگار اور سابق صدر مدرس مشتاق کریمی اِن دنوں اپنے اہل خانہ کے ساتھ عازم حج ہیں۔ حج سے متعلق انتظامات کے موضوع پرگفتگو کرتے ہوئے بہت ساری انتظامی خوبیوں کے ساتھ انہوں نے ایک چھوٹی سی شکایت بھی درج کرائی... اور وہ شکایت بھی ایسی ہے کہ اس میں بھی خوبی کا ایک پہلو تلاش کرلیا۔ میں نے وضاحت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ’’ یہ پہلا سال ہے جب عازمین کیلئے کچن کی سہولت بند کردی گئی ہے، اس کی وجہ سے ہمیں کھانا باہر سے خرید کر کھانا پڑرہا ہے جو بجٹ کے لحاظ سے بھاری پڑرہا ہے۔ اس سے قبل عازمین اپنے روم میں روکھا سوکھا بنا کر کھا لیا کرتے تھےلیکن امسال وہ سہولت نہیں رہی۔ ‘‘ میں نے کہا کہ لیکن اس میں بھی آپ نے خوبی کا ایک پہلو تلاش کرلیا، وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ کچن کی سہولت نہ ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ ہماری اہلیہ کو بھی بھرپور عبادات کے مواقع مل رہے ہیں، بصورت دیگر انہیں یہاں آکر ہمارے لئے کھانے کے انتظام میں مصروف رہنا پڑتا۔ دیگر انتظامات کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ ’’یہاں (عزیزیہ) سے حرم شریف جانے کیلئے بس کی بہترین سہولت ہے۔ جملہ سہولیات سے لیس رہائش گاہ بہت اچھی ہے۔ بجلی، اے سی اور پانی، کوئی بھی شکایت ہو تو دیئے گئے نمبرپر فون کرو، شکایت کا ازالہ فوری طور پر ہوتا ہے۔ ‘‘ ناقص انتظامات سے متعلق الزامات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ’’جو لوگ الزامات لگا رہے ہیں، انہی سے پوچھیں کہ جب آپ دو چار پانچ سو افراد کے ولیمے میں سب کو خوش نہیں کرپاتے تو یہاں کیسے ممکن ہے؟ اور ایسی توقع ہی کیوں ہے؟‘‘
بھیونڈی کے معروف فزیشین اور سماجی کارکن ڈاکٹر شفیق صدیقی نے بھی مشتاق کریمی کے باتوں کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ’’ کھانے سے متعلق انتظامات میں اصلاح کی ضرورت ہے، باقی سب کچھ بہت اچھا ہے۔ ‘‘ حج کمیٹی کی جانب سے دی گئی ڈیجیٹل گھڑی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان سے عموماً ایسےلوگ حج کیلئے آتے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ انہیں اس کے استعمال میں دِقت ہو سکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کااستعمال ہی نہ کیا جائے۔ ہمارے ایسے کئی بزرگ ہیں جو لفٹ کااستعمال بھی نہیں جانتے، تو کیا ان کیلئے اب لفٹ کی سہولت بھی بند کردی جائے؟‘‘
یوپی کے ضلع سدھارتھ نگر سے تعلق رکھنے والے میرے ایک رشتہ دار محمد عامر خان بھی عازم حج ہیں۔ انہوں نے بھی حج سے متعلق جملہ انتظامات کی بھر پور تعریف کی۔ کھانے کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ’’جیب پر تھوڑا بار تو پڑتا ہے لیکن وقت کافی بچتا ہے۔ اس وقت کا استعمال ہم عبادت میں کرتے ہیں۔ یہاں بس کی سہولت اتنی اچھی ہے کہ جب دل کہتا ہے، ہم حرم کا رخ کرلیتے ہیں اور جب آرام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، روم پر آجاتے ہیں۔ بس میں دو چار منٹ کا بھی انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ ‘‘
ہمارا مقصد حج کمیٹی اوراس کے ذمہ داران کا دفاع کرنانہیں ہے لیکن جب کسی ایسے ادارے کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہو جو خالص ہمارے لئے بنایا گیا ہے تو خاموش بھی بیٹھا نہیں جاسکتا۔ وزارت خارجہ اور وزارت برائے اقلیتی امور کی نگرانی میں کام کرنےوالی حج کمیٹی کی ذمہ داری عازمین حج کو وطن عزیز سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پہنچانا اور وہاں سے بحفاظت واپس لانا اور اس دوران ان کی ہر طرح کی سہولیات کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ حج کمیٹی کے ذریعہ ہندوستان سے جانے والے عازمین کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ ۲۰؍ ہزار ہوتی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں عازمین حج کا خیال رکھنے میں کہیں نہ کہیں کچھ کوتاہی تو ہوہی سکتی ہے لیکن اس کا یہ ہرگزمطلب نہیں کہ ان کوتاہیوں کی عوامی سطح پرتشہیر ہو اور حج کمیٹی سے جو کچھ اچھا ہورہا ہو، اس پرخاموشی برتی جائے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہوائی جہاز کا کرایہ بڑھا تو عازمین حج سے ۱۰؍ ہزار روپے کی رقم زائدلی گئی جس پر خوب واویلا ہوا لیکن حج کمیٹی نے گزشتہ سال حج پر جانے والوں کو ابھی کچھ رقم واپس کی تو اس کی تشہیر نہیں ہوئی۔ گزشتہ سال میرے والدین بھی سفر حج پر گئے تھے، حالانکہ ابھی تک ’ری فنڈ‘ کی رقم ہمیں نہیں ملی ہے لیکن بہت سارے حاجیوں کو وہ رقم مل چکی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس تعلق سے ہم نے معلومات حاصل کی تو پتہ چلا کہ حج آپریشنز مکمل ہونے کے بعد حج کمیٹی آف انڈیا، قونصلیٹ جنرل آف انڈیا (جدہ) کے ساتھ اخراجات کا حتمی حساب لگاتی ہے۔ بچت ہونے کی صورت میں، ہر ایمبارکیشن پوائنٹ کے لحاظ سے فی حاجی طے شدہ رقم براہ راست حاجی کے بینک اکاؤنٹ میں خاموشی سے کریڈٹ کردی جاتی ہے۔
حج کمیٹی اور اس کے ذمہ داران پر تنقید میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس بات کا خیال ضرور رکھنا چاہئے کہ ہمارے کسی عمل سے ادارے کا نقصان نہ ہو۔ ملک کی موجودہ حکومت ہر اُس ادارے سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کر رہی ہےجس سے صرف ’ہمارا‘ تعلق ہو۔ ویسے بھی ’پرائیویٹائزیشن‘ کا دور ہے۔ ہم ملک بھر میں بجلی سپلائی کو پرائیویٹ اداروں کے ہاتھوں میں جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ مواصلات کی دنیا میں بی ایس این ایل کا حشر ہمارے سامنے ہے اور پرائیویٹ کمپنیوں (جیو، ایئر ٹیل، ووڈا فون اور دیگر) کی من مانی بھی ہم جھیل رہے ہیں۔ آج کی تاریخ میں حج کمیٹی کے ذریعہ ساڑھے تین سے چار لاکھ روپے میں حج کی ادائیگی ہوجاتی ہے جبکہ پرائیویٹ ٹور آپریٹروں کے ذریعہ جانے پر ۷؍ سے۱۴؍ لاکھ روپے تک لگتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کسی ایسے ادارے کو کیوں کر برداشت کرسکتی ہے جس سے اسے فائدے کے بجائے عوامی شکایتوں کی صورت میں سیاسی نقصان کا خدشہ ہو۔ حج کے انتظامات کو پرائیویٹ ادارے کو سونپ کر یقیناً حکومت زیادہ فائدہ اٹھاسکتی ہے.... لیکن کیا ہم اس کے متحمل ہوسکتے ہیں ؟