غیر ملکی سرمایہ کار سالِ رواں میں ہندوستانی بازار سے ۲؍ لاکھ کروڑ سے زائد روپے نکال چکے ہیں ، اس کے باوجود گھریلو کھپت کی وجہ سے ملک کی معیشت اب بھی مضبوط ہے، لیکن کیا حکومت اس مضبوطی کو برقرار رکھنے کی اہل ہے ؟کیا وہ حالات کو سنبھال سکے گی ؟
ملک کی معاشی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار سال رواں میں ہندوستانی بازار سے ۲؍ لاکھ کروڑ سے زائد روپے نکال چکے ہیں۔ تصویر: آئی این این
ملک کی معیشت بظاہر ایک ایسے دوراہے پرکھڑی ہے جہاں ایک طرف حکومت کا دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی اور مضبوط معیشت ہونے کا دعویٰ ہےتو دوسری طرف زمینی حقائق، سرمایہ کاروں کا رویہ، روزگار کی صورتحال، تیزی سے بڑھتی مہنگائی، عالمی غیر یقینی کیفیت اور مالیاتی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر وزیراعظم عوام سے ’’احتیاط‘‘ برتنے کی اپیل کرتے ہیں تو لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا معیشت کے اُفق پر واقعی خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں یا یہ محض عالمی غیر یقینی حالات کے تناظر میں ایک عمومی مشورہ ہے؟
حالیہ مہینوں میں ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں (ایف پی آئی ) کے انخلاء نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق رواں سال کے دوران غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی بازار سے دو لاکھ کروڑ روپے سے زائد رقم نکال چکے ہیں جبکہ صرف مئی کے ابتدائی دس دنوں میں تقریباً ۱۴ ہزار کروڑ روپے کے حصص فروخت کئے گئے۔ اقتصادی ماہرین کے نزدیک یہ محض ایک معمولی مالیاتی سرگرمی نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد، عالمی رجحانات اور داخلی معاشی کمزوریوں کا ایک اہم اشارہ بھی ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار کسی بھی ملک کی معیشت میں کیوں اہمیت رکھتے ہیں۔ ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ، بانڈ مارکیٹ اور بڑے کارپوریٹ شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا کردار کافی اہم ہوتا ہے۔ جب بیرونی سرمایہ کار کسی ملک میں سرمایہ لگاتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ انہیں وہاں کی معاشی پالیسیوں، ترقی کے امکانات اور مالی استحکام پر اعتماد ہے لیکن جب یہی سرمایہ تیزی سے نکلنے لگے تو مارکیٹ میں بے چینی پیدا ہوتی ہے، روپیہ دباؤ میں آتا ہے اور مقامی سرمایہ کاروں میں بھی تشویش بڑھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی بازار سے پیسہ کیوں نکال رہے ہیں ؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی اور اہم وجہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال ہے۔ دنیا اس وقت جغرافیائی سیاسی کشیدگی، جنگی خطرات اور مالیاتی سختی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مغربی ایشیا میں کشیدگی، امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تنازع، عالمی سپلائی چین کے مسائل اور تیل کی قیمتوں میں زبردست اچھال نے سرمایہ کاروں کو زیادہ محتاط بنا دیا ہے۔
دوسری بڑی وجہ امریکی مالیاتی پالیسی ہے۔ جب امریکہ میں شرح سود بلند ہوتی ہے تو عالمی سرمایہ نسبتاً محفوظ امریکی بانڈس اور اثاثوں کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے۔ چونکہ امریکہ کو محفوظ سرمایہ کاری کی منزل سمجھا جاتا ہے، اس لئے ابھرتی ہوئی معیشتوں بشمول ہندوستان سے سرمایہ نکلنے لگتا ہے۔ اس کا اثر ہندوستانی بازار پر بھی پڑتا ہے۔ اس وقت یہی ہو رہا ہے۔
تاہم صرف عالمی عوامل کو ذمہ دار ٹھہرا دینا حقیقت سے فرار ہوگا۔ اس وقت داخلی معاشی اشاریے بھی تشویشناک اشارہ دے رہے ہیں۔ اگرچہ مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی)کے اعداد و شمار نسبتاً بہتر نظرآرہے ہیں لیکن اقتصادی ترقی کا فائدہ عام آدمی تک کس حد تک پہنچ رہا ہے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ بے روزگاری، خاص طور پر نوجوانوں میں، اب بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ دیہی معیشت سست روی کا شکار ہے، کسان آمدنی کے بحران سے دوچار ہیں اور چھوٹے اوردرمیانے کاروبار مسلسل دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔
مہنگائی ایک اور اہم مسئلہ ہے۔ اگرچہ سرکاری اعداد و شمار افراط زر کو قابو میں ظاہر کرتے ہیں لیکن عام شہری کی جیب کچھ اور کہانی سناتی ہے۔ خوردنی اشیاء، ایندھن، تعلیم، علاج اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ متوسط اور غریب طبقے کےلئے ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔ معاشی ترقی کی اصل پیمائش یہی ہوتی ہے کہ آیا عام شہری کی قوت خرید بہتر ہوئی یا نہیں۔
ایسے میں وزیراعظم کی ’’احتیاط‘‘کی اپیل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت عوام سے بچت، فضول خرچی سے اجتناب یا اقتصادی نظم و ضبط اختیار کرنے کی بات کرتی ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوسکتا ہے کہ حکومت کو عالمی یا داخلی سطح پر معاشی دباؤ کا خدشہ ہے۔ ماضی میں بھی جب عالمی منڈیوں میں بحران آیا، حکومتوں نے عوام کو صبر، احتیاط اور مالی ذمہ داری کی تلقین کی تھی۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وزیراعظم کی اپیل کا مقصد محض احتیاطی تدبیر ہو کیونکہ عالمی اقتصادی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اگر خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوتا ہے، بیرونی سرمایہ مزید نکلتا ہے یا عالمی منڈیوں میں مندی آتی ہے تو ہندوستان جیسی درآمدی معیشت پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر ہندوستان کا تیل درآمد پر انحصارمعیشت کیلئے خطرہ کی گھنٹی بن جاتا ہے۔
معاشی تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ نکلنے کو معیشت کے بحران کی قطعی علامت نہیں سمجھنا چا ہئے۔ ہندوستان کی معیشت کے پاس کچھ مضبوط پہلو بھی ہیں۔ مثال کے طور پر گھریلو کھپت کی بڑی منڈی، ڈیجیٹل معیشت کی توسیع، بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ بڑھانے کی کوششیں اور عالمی کمپنیوں کی جانب سے ’’چائنا پلس ون‘‘ حکمت عملی کے تحت ہندوستان میں دلچسپی بعض مثبت اشارے ہیں۔ اس کے باوجود سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنا ایک مسلسل چیلنج ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سرمایہ کار صرف نعروں یا دعوئوں سے متاثر نہیں ہوتےبلکہ پالیسی کے استحکام، شفافیت، عدالتی اعتماد، روزگار کی رفتار، طلب میں اضافے اور سیاسی استحکام کو بھی دیکھتے ہیں۔ کارپوریٹ منافع تو بڑھ رہا ہو مگر عوامی کھپت کمزور پڑ رہی ہو تو اقتصادی ترقی دیرپا نہیں رہتی۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہندوستانی معیشت کسی بڑے بحران کے دہانے پر ہے؟ فی الحال ایسا کہنا قبل از وقت ہوگا۔ حالات کو مکمل بحران قرار دینا بھی مبالغہ آرائی ہوگی لیکن خطرات کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ معیشت میں کئی ایسے اشارے موجود ہیں جو محتاط رہنے کی ضرورت بتاتے ہیں۔ غیرملکی سرمایہ کا انخلاء، عالمی مالیاتی بے یقینی، مہنگائی، روزگار کا بحران، کمزور دیہی مانگ اور بڑھتے ہوئے قرض وہ عوامل ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے حکومت کو صرف بڑے اعلانات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ روزگار پیدا کرنے، چھوٹے کاروباروں کو تقویت دینے، زرعی شعبے کو مستحکم کرنے، برآمدات میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لئے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم کی احتیاط کی اپیل کو محض رسمی بیان سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چا ہئے۔ اگر عالمی حالات بگڑتے ہیں یا سرمائے کا نکاس جاری رہتا ہے تو معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ البتہ ملک کے پاس اس بحران سے نمٹنے کی صلاحیت بھی موجود ہے بشرطیکہ پالیسی سازی زمینی حقائق کے مطابق ہو اور معاشی فیصلے دور اندیشی سے کئے جائیں صرف اپنی شبیہ چمکانے کیلئے نہیں۔