سیرۃ النبیؐ ایک گہرا سمندر ہے، اس میں ہر وہ غواص بیشمار موتی چن سکتا ہے جسے ڈوب کر ابھرنا آتا ہو۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو ایک کامیاب معلم بننا چاہتا ہو اس کے لئے بھی حضرت محمد ؐکے اسوہ میں کامل رہنمائی موجود ہے۔
EPAPER
Updated: October 06, 2023, 4:25 PM IST | Mujahid Nadvi | Mumbai
سیرۃ النبیؐ ایک گہرا سمندر ہے، اس میں ہر وہ غواص بیشمار موتی چن سکتا ہے جسے ڈوب کر ابھرنا آتا ہو۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو ایک کامیاب معلم بننا چاہتا ہو اس کے لئے بھی حضرت محمد ؐکے اسوہ میں کامل رہنمائی موجود ہے۔
اساتذہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز ہوتے ہیں۔ ایک بہترین استاذ ہی بہترین شاگرد تیار کرتا ہے۔ آج کی دنیا میں روبوٹ اور مشینوں کے ذریعہ تدریس کی بات ہونے کے باوجود ایک انسانی معلم کی اہمیت برقرار ہے اور امید ہے کہ یہ ایسے ہی برقرار رہے گی۔ اس لئے کہ ایک استاذ ہی اپنے دل کے جذبات و خیالات کو الفاظ کے قالب میں ڈھالتا اور اُنہیں اپنے طلباء کی شخصیت کا اٹوٹ حصہ بنا دیتا ہے۔ دنیا میں جتنے بھی پیشے ہیں ان میں معلمی ہی سب سے زیادہ مقدس اور محترم ماناجاتا ہے۔ موجودہ دور میں ہمارے اخلاق کا دیوالیہ نکلاجارہاہے اور کوئی کسی کی عزت واحترام کیلئے تیارنہیں ہے، اس خرابیٔ حالات کے باوجود طلبہ اپنے معلم یا استاذکے تئیں کسی نہ کسی حد تک ادب و احترام کا جذبہ رکھتے ہیں اور اس کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔
ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ اس دنیا میں تاریکی کو دور کرنے، ایمان کی روشنی پھیلانے، حق کے آنے کا پیغام دینے اور انسانوں کو انسانوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لے جانے کیلئے تشریف لائے تھے۔ آپؐ بہترین معلم ومربی تھے (اور ہیں )، آپؐ نے خاک کو کندن بنادیا، آپؐ نے اپنے صحابہؓ کی شخصیت کو تراش کر ایسے ہیرے اور لعل وجوہر تیار کردئیے کہ دنیا عش عش کراٹھی۔ آخر وہ کیا خصوصیات تھیں کہ جن کے ذریعہ آپؐ نے اپنے صحابہ کرامؓ کی تعلیم تدریس کی اور انہیں ایسی حکمتیں سکھائیں کہ قیامت تک نافع ثابت ہوتی رہیں گی۔
آپؐ نے دراصل اپنے صحابہؓکی شخصیت کو نکھارنے اور سنوارنے کو مرکز توجہ بنایا اور اس بات کا خیال رکھا کہ انہیں اپنے معاشرہ سے جو عادات و اطوار ملے تھے اُن کی بھرپور طریقے سے اصلاح ہو۔ اس مقصد کیلئے آپؐ نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ بلکہ جب جہاں اصلاح کی ضرورت محسوس کی فوری طور پر آپؐ نےاس پر محنت کی۔ یہ واقعہ مشہور ہے کہ ایک بار آپؐ اپنے صحابہ ؓکے ساتھ کسی جنازے کے آنے کا انتظار کررہے تھے۔ آپؐ نے ایک لکڑی اٹھائی اور ایک دو خانے زمین پر بناکر صحابہ کرام ؓ کو دنیا کی زندگی کی بے وقعتی، اس کے پُر از آفات ہونے او ر موت کا ایک دن معین ہونے کی تعلیم شروع کردی۔
آج کے دور کے معلمین کو بھی یہ سمجھنا چاہئےکہ تدریس چند گھنٹے جاری رہنے والا پیشہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو ساتوں دن اور چوبیس گھنٹے جاری رہتا ہے۔اسکول اور کالج کے اوقات کے باہر ہم یہ کہہ کر پلہ نہیں جھاڑ سکتے کہ میری ڈیوٹی ختم ہوگئی، مَیں اسکول میں نہیں ہوں ، اب میں اپنے طلباء کو کچھ سکھانے اور ان کی شخصیت کو نکھارنے سنوارنے، ان کی اصلاح کرنے اور کچھ غلط کرتا ہوا دیکھ کر ٹوکنے سے بری ہوں ، یہ میری ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر وہ سچا اُستاد یا معلم ہے تو ایسا نہیں کہہ سکتا۔
قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے آپؐ کے متعلق ارشاد فرمایا: ولوکنت فظا غلیط القلب لانفضوا من حولک (آل عمران۔۱۵۹) جس کا مفہوم یہ ہے: حضورؐ سے کہا جارہا ہے کہ اگر آپ سخت دل اور بدمزاج ہوتے تو یہ آپ کے گردو پیش سے منتشر ہوجاتے ۔
اس آیت سے بھی ثابت ہے کہ آپؐ نہایت ہی نرم دل تھےاور ہمیشہ نرم دلی کو ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔ غزوۂ احد میں چہرہؐ انورسے خون جاری تھا اورآپؐ ان زخم دینے والوں کیلئے دعا فرما رہے تھے۔ آپؐ نے ہمیشہ صحابہ کرامؓ کے ساتھ نرمی کا ہی معاملہ فرمایا۔ کچھ صحابہ ایسے تھے جو بدویانہ مزاج کی وجہ سے ادب واحترام جیسے الفاظ سے ناواقف تھے، کوئی کمروں کے پیچھے سے بلند آواز سے نام پکارتا، کسی نے کہا اے محمدﷺ مجھے بھی کچھ عطاء فرمائیے۔ اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں لیکن آپؐ نے اس طرح کے تمام واقعات میں نہایت صبر وتحمل والا معاملہ فرمایا، ان بڑی غلطیوں کے باوجود ان کو معاف فرمادیا اور کسی قسم کی پکڑ نہیں کی۔ یہ آپؐ کی رحمدلانہ حکمت تھی تاکہ اُنہیں سمجھا سکیں ، سکھا سکیں اور اُن میں بیش قیمت انسانی اوصاف پیدا کرسکیں ۔ آپؐ نے ذاتی طور پر کبھی کسی بدلہ نہیں لیا، یا، اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے دشمنی نہیں رکھی۔
ایک معلم کیلئے آپؐ کے اسوہ اور سیرت میں بہت بڑا اور غیر معمولی درس موجود ہے۔ ہر وہ استاذ جو نرم دلی سے محروم ہو گویا وہ پیشۂ تدریس کے جوہر سے بے بہر ہ ہے۔ یہی بات آپؐ کا اسوہ اور طرز ہم کو سکھاتا ہے۔ وہ معلم ہر گز طلباء کے دلوں تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا جو نرم دل نہ ہو اور اپنائیت سے پیش نہ آئے۔ ترش رو، بے جا سخت کلامی کا عادی، غصیلے مزاج والا اوراسکول انتظامیہ کے سبب پیدا ہونے والے یا اذاتی غصے کو اپنا طلباء پر نکالے۔
سیرۃ النبی ؐ ہمیں یہ بات سکھاتی ہے کہ طلباء ہمارے جاں نثار ہوجائیں گے اگر ہم نرم دلی کے ساتھ ان کی خیرخواہی چاہیں ۔ اس لئے کہ خیر خواہ تقریباً ہر استاذ ہوتا ہے لیکن سب سے بہتر اور کامیاب استاذ وہ ہوتا ہے جو ’’دلوں کو فتح کرلے‘‘ جیسا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا۔ رحمدلی کی سیڑھیوں کے ذریعے ایک استاذ اپنے طلباء کے دل وجاں میں اترنے کی غیر معمولی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔
آپؐ کے اوصاف کے متعلق سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپؐ کا کلام نہایت جامع اور مختصر ہوا کرتا تھا۔ آپؐ کم الفاظ میں نہایت بلیغ اور گہرے معانی ادا کرنے کے عادی تھے۔ آپؐ کے الفاظ اپنے اندر جامعیت لئے ہوئے ہوتے تھے۔ مشہور عربی داں الجاحظ آپؐ کے الفاظ کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے: ’’آپؐ کا کلام ایسا ہوتا تھا کہ جس کے الفاظ کم اور معانی زیادہ ہوتے تھے۔ وہ تصنع و تکلف سے پاک کلام ہوتا تھا۔ جہاں طوالت کی ضرورت ہو، وہاں آپؐ طوالت اختیار فرماتے۔ جہاں اختصار کی ضرورت ہوتی، وہاں مختصر کلام فرماتے۔ آپؐ کلام میں غیر مالوف و غیر مہذب کلام سے احتراز فرماتے تھے۔ ‘‘
ایک استاذ اپنی جماعت میں طلباء کو درس کی تفہیم کس طرح کرے، اور ان سے دیگر امور پر کیسے گفتگو کرے اس کے لئے جاحظ کے بتلائے ہوئے اس طریقۂ نبوی سے بہتر کوئی اور طریقہ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ یہ الفاظ دل کو چھولینے والے، وقت بچانے والے ( تاکہ نصاب کی وقت پر تکمیل ہوسکے) اور طلباء کی رگ وجاں میں اترنے والے ہوں گے اور طلباء کو درس سمجھانے اور ان کی شخصیت کو نکھارنے میں نہایت مفید ثابت ہوں گے۔
یہ تین خصائل نبویؐ خاص طور پر معلمین کیلئے بیان کئے گئے ہیں ، اس مقصد سے کہ ہم یہ جان لیں کہ سیرۃ النبی ﷺ ایک گہرا سمندر ہے، اس میں ہر وہ غواص بیشمار موتی چن سکتا ہے جسے ڈوب کر ابھرنا آتا ہو۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو ایک کامیاب معلم بننا چاہتا ہو اس کے لئے حضرت محمد ﷺ کے اسوہ میں کامل رہنمائی موجود ہے۔ لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ (بیشک تمہارے لئے رسولؐ اللہ میں نہایت ہی حسین نمونہ حیاتہے)۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آپﷺ کی حیات کا مطالعہ اس زاویے سے کریں کہ ہمیں بحیثیت ایک معلم کیا رہنمائی مل سکتی ہے، ہم خود جان لیں گے کہ یہ مطالعہ ہماری بصارت اور بصیرت دونوں کو روشن کردے گا۔