’’کھیلو انڈیا‘‘ کے زیر اہتمام منعقدہ گفتگو (سنواد) میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اولمپک کھیلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی شرکت بڑھنی چاہئے جس کیلئے ضروری ہے کہ ابھی سے کھلاڑی تیار کئے جائیں۔
EPAPER
Updated: August 30, 2026, 2:32 PM IST | Mumbai
’’کھیلو انڈیا‘‘ کے زیر اہتمام منعقدہ گفتگو (سنواد) میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اولمپک کھیلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی شرکت بڑھنی چاہئے جس کیلئے ضروری ہے کہ ابھی سے کھلاڑی تیار کئے جائیں۔
’’کھیلو انڈیا‘‘ کے زیر اہتمام منعقدہ گفتگو (سنواد) میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اولمپک کھیلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی شرکت بڑھنی چاہئے جس کیلئے ضروری ہے کہ ابھی سے کھلاڑی تیار کئے جائیں۔ وزیراعظم نے نوجوانوں سے کہا کہ اُنہیں ’’اِسکرین‘‘ سے زیادہ ’’اسپورٹس‘‘ کی ضرورت ہے۔ کھیل کود میں ہندوستانی نوجوانوں کی صلاحیت بڑھانے اور اسکول نیز کالج کی سطح سے اُن کی سرپرستی اور رہنمائی کے مقصد ہی سے’’ کھیلو انڈیا‘‘ کا قیام ہوا تھا۔ ’’کھیل کی بات، پی ایم مودی کے ساتھ‘‘ کے تحت وزیر اعظم کا ۱۵۰۰؍ سے زائد اسکولوں اور کالجوں کے ہزاروں طلبہ سے خطاب کافی اہم تھا جس میں انہوں نے پورے ملک میں اسپورٹس کا ایکو سسٹم (کھیل کود کیلئے سازگار ماحول) پروان چڑھانے اور ضروری انفراسٹرکچر مہیا کرانے کی بات کہی۔ ہم اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتے کہ حکومت ایکوسسٹم اور انفراسٹرکچر کیلئے بجٹ میں کتنا اضافہ کرے گی اور کس طرح اس بات کو یقینی بنائے گی کہ جو بجٹ دیا گیا ہے وہ پورا کا پورا خرچ ہو۔ ہم یہ بھی نہیں کہہ رہے ہیں کہ وزارت کھیل کے چند افسران کو خصوصی ذمہ داری دی جانی چاہئے کہ وہ ملک میں اسپورٹس انفراسٹرکچرکے کاموں کی خود نگرانی کریں اور الگ الگ کھیلوں کو جس سطح کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے اُس کا نظم جائے۔ یہ موضوع اہم ہے اور اس کالم میں اس موضوع سے بحث ہوگی مگر فی الحال ہم تعلیمی اداروں سے کہنا چاہتے ہیں کہ اُنہیں خود بھی اسکول اور کالج کی سطح پر اسپورٹس کی سرگرمیوں کو بڑھانے، اعلیٰ کارکردگی کا کے حامل طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنے اور اسکول کالج کے اسپورٹس انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہئے۔ ظاہر ہے کہ اس کیلئے سرمایہ درکار ہوتا ہے اور بہت سے تعلیمی اداروں کے پاس سرمائے کی قلت بہت بڑا چیلنج ہے۔ ہمیں اس سے انکار نہیں ہے مگر اس کی وجہ سے کھیل کود کی اعلیٰ صلاحیتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کون جانتا ہے کہ کس کھیل کے کون سے طلبہ مستقبل قریب میں خود کو منوا لیں اور اسکول کالج کا نام روشن کریں۔ یہ تب ہی ہوگا جب تعلیمی ادارے کھیل کود پر بھی اُتنی ہی توجہ دیں جتنی بورڈ یا یونیورسٹی میں ادارہ کے طلبہ کی کارکردگی پر دی جاتی ہے۔ ہوسکتا ہے ہمارا مشاہدہ غلط ہو مگر ہم نے دیکھا یہی ہے کہ تعلیم اور تعلیمی کارکردگی پر تو اصرار کیا جاتا ہے (جو بجاہے) مگر کھیل کود پر اصرار نہیں کیاجاتا۔ بعض تعلیمی اداروں کی کرکٹ، والی بال، فٹ بال وغیرہ کی ٹیمیں ہوتی ہیں اور ان ٹیموں کے کھلاڑیوں کی تربیت کا باقاعدہ نظم کیا جاتا ہے مگر ایسے اداروں کی تعداد تھوڑی ہے۔ تمام ہی ادارے اسپورٹس ڈے مناتے ہیں مگر وہ ایک دن کا جلوہ ہوتا ہے۔ اُس ایک دن کے علاوہ تمام دنوں میں کھیل کود کا موضوع بالائے طاق رہتا ہے۔ ’’کھیلو انڈیا‘‘میں اسکولی طلبہ کی شرکت ’’انڈر۔ ۱۷؍کیٹگری‘‘ اور کالج کے طلبہ کی شرکت ’’انڈر۔ ۲۱؍کیٹگری‘‘ کیلئے ہوتی ہے۔ اس میں اسکول یا کالج نہیں کھیلتے، طلبہ کھیلتے ہیں مگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اسکولوں اور کالجوں کا فرض ہے کہ صلاحیتوں کے اعتبار سے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں، اُن کی مالی امداد کیلئے قوم کو جگائیں اور انہیں قومی سطح کا کھلاڑی بنائیں جو بین الاقوامی سطح پر بھی کھیلیں اور اپنا، والدین کا، ادارہ کا اور ملک کا نام روشن کریں۔