Inquilab Logo Happiest Places to Work

گجرات: سورت میں مچھلی بازار نریندر مودی سے منسوب کرنے پر تنازع

Updated: August 26, 2026, 5:17 PM IST | Surat

گجرات کے شہر سورت میں بلدیہ کا تعمیر کردہ مچھلی بازار وزیر اعظم نریندر مودی سے منسوب کرنے پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے، سورت میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہےکہ ابھی نام پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے، جبکہ تاجروں نے نریندر مودی کےنام کا بورڈ آویزاں کردیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سورت میونسپل کارپوریشن (SMC) کی طرف سے تعمیر کردہ مچھلی بازارنے اس وقت تنازع کھڑا کر دیا جب تاجروں نے اس پر وزیرِ اعظم نریندر مودی کے نام کا بورڈ لگا دیا۔ جہاں میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ نام حتمی نہیں ہے، وہیں سورت فش مرچنٹ ایسوسی ایشن (SFMA) نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اس منصوبے کے لیے حکومت کی طرف سے فراہم کردہ۳؍ کروڑ روپے کی مالی امداد کا حوالہ دیا۔

یہ بھی پڑھئے: نیپال: وزیراعظم بالین شاہ کو پارلیمنٹ میں کالا چشمہ پہننے کی اجازت

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، نانپورہ علاقے کے لکاڈکوٹ میں نئی تعمیر شدہ منڈی کے دروازے پر ایک بڑا بورڈ آویزاں کیا گیا جس کے کونے میں وزیرِ اعظم مودی کی تصویر اور اوپر ’شری نریندر مودی ہول سیل فش مارکیٹ‘ کے الفاظ درج تھے۔ اس بورڈ پر سورت فش مرچنٹ ایسوسی ایشن (SFMA) کا نام بھی شامل تھا۔ جبکہ تاجروں کے ایک حصے نے وزیرِ اعظم مودی کی سبزی خوری کا حوالہ دیتے ہوئے اس اقدام پر اعتراض کیا۔ پی ٹی آئی کے مطابق، مچھلی کے تاجر سریندر لشکاری نے کہا، ’’نریندر مودی نے اپنی زندگی میں کبھی سمندری خوراک نہیں کھائی اور وہ مکمل سبزی خور ہیں۔ چونکہ مودی سبزی خور ہیں، اس لیے یہ بورڈ نہیں لگنا چاہیے۔‘‘ بعد ازاں تنازع بڑھنے پر کارپوریشن جو کہ مچھلی منڈی بنانے والا سورت کا میونسپل ادارہ ہے، نے وضاحت کی کہ نام رکھنے کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ 

یہ بھی پڑھئے: بہار میں طلبہ کا شدید احتجاج، لاٹھی چارج اور پانی کی توپوں کا استعمال

میونسپل کارپوریشن کے سینٹرل زون کے ایگزیکٹیو انجینئر آر ڈی گنجاوالا نے بتایا کہ SFMA، جو کہ ہورڈنگ پر بھی درج تھی، نے میونسپل کارپوریشن اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اور سینٹرل زون کے حکام کو ایک تحریری درخواست دی تھی جس میں اس سہولت کا نام وزیرِ اعظم مودی کے نام پر رکھنے کی استدعا کی گئی تھی۔ گنجاوالا نے کہا،’’ یہ بورڈ بغیر کسی سرکاری قرارداد کے لگایا گیا تھا۔ ہم نے انہیں اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے اور انہوں نے زبانی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ خود اسے اتار لیں گے۔‘‘ اس کے باوجود، سورت فش مرچنٹ ایسوسی ایشن (SFMA) نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پر دھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت اس منڈی کی تعمیر کے لیے ۳؍ کروڑ روپے فراہم کیے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: کانگریس نے مردم شماری کے طریقۂ کار کو مسترد کر دیا

واضح رہے کہ مچھلی سے متعلق تنازعات ہندوستانی سیاست میں عام بات رہی ہے۔ صرف گزشتہ ہفتے،  ساون کے دوران ایودھیا میں اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے کے استقبالیہ پروگرام میں مچھلی کے پکوان پیش کیے جانے پر ایک بڑا بحران کھڑا ہو گیا۔ اتر پردیش کانگریس کے صدر نے شری رام جنم بھومی مندر اور ہنومان گڑھی کا دورہ کیا، لیکن سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک ضیافت ہال میں مچھلی تیار کی جا رہی تھی، جہاں رائے، کانگریس کے صوبائی انچارج راجپال گوتم، قومی ترجمان اکھلیش پرتاپ سنگھ اور پوروانچل انچارج ابھیشیک دت کے لیے استقبالیہ پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ بی جے پی کے ایم ایل اے وید پرکاش گپتا نے اس پارٹی پر ’’سناتن عقیدے‘‘کا مذاق اڑانے کا الزام لگایا۔علاوہ ازیں دو ہفتے قبل، اتر پردیش کی کابینہ وزیر اور نشاد پارٹی کے سربراہ سنجے نشاد نے متنازع دعویٰ کیا تھا کہ پیاز اور لہسن کے بغیر پکی ہوئی مچھلی کو سبزی خور سمجھا جا سکتا ہے، جس پر سوشل میڈیا پر شدید برہمی پائی گئی۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK