اگنی پتھ کو سردخانے میں ڈالنا بہتر

Updated: June 25, 2022, 10:53 AM IST | Mumbai

 حیرت ہوتی ہے کہ اگر حکومت کے نزدیک اپوزیشن سے مشورہ ضروری نہیں  تھا اور کسی پارلیمانی کمیٹی کو اہمیت دینا بھی گوارا نہیں تھا تو کیا اگنی پتھ کے رموزو نکات پر خود غور نہیں کرلینا چاہئے تھا؟

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 حیرت ہوتی ہے کہ اگر حکومت کے نزدیک اپوزیشن سے مشورہ ضروری نہیں  تھا اور کسی پارلیمانی کمیٹی کو اہمیت دینا بھی گوارا نہیں تھا تو کیا اگنی پتھ کے رموزو نکات پر خود غور نہیں کرلینا چاہئے تھا؟ بھرتی کا جو عمل جس مرحلے میں تھا اسے اس مرحلے میں روک کر قطعی غیرمتوقع طور پر ایک ایسی اسکیم کا اعلان کردینا، جس کے ذریعہ فوج میں تقرریوں کا سابقہ طریقہ یکلخت منسوخ اور کالعدم ہوگیا، اس ملک کے نوجوانوں کے ساتھ سخت ناانصافی ہے۔ یہ عاقبت نااندیشانہ قدم تو ہے ہی، اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ حکومت کو ان نوجوانوں کی بالکل فکر نہیں ہے جن کا جوش و خروش اور جذبہ و توانائی کسی بھی ملک کا عظیم سرمایہ ہوتا ہے۔ فوج میں شامل ہوکر ملک کی خدمت کا خواب دیکھنے والوں ہی کی نہیں، حکومت نے ملک بھر کے نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ صرف فوج نہیں دیگر شعبوں میں سرکاری بھرتیوں کا انتظار کرنے اور انتظار سے پہلے متعلقہ امتحانات کی تیاری کرنے والوں کو بھی اس کے ذریعہ یہی پیغام ملا ہے کہ کوئی بھی سلیکشن پروسیجر کبھی بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے نوجوانوں میں غیر یقینیت اور کشمکش کی کیفیت پیدا ہوگی جو کسی بھی زاویئے سے سود مند نہیں ہوسکتی۔  فوج میں بھرتی کے خواہشمندوں میں وہ نوجوان بھی ہیں جنہیں تقرری کا پروانہ ملنے ہی والا تھا۔ انہوں نے فزیکل ٹیسٹ کامیاب کرنے کیلئے تین تین چار چار سال تک روزانہ صبح چار بجے اُٹھ کر دوڑنے اور کسرت کرنے کی جو ریاضت کی،  کیا وہ اس لئے تھی کہ ایک دن وزیر دفاع اور تینوں فوجوں کے سربراہان تقرری کا طریقہ اچانک بدل دینگے اور فوج کی ملازمت کسی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی کی جزوقتی ملازمت، اپرنٹس شپ یا انٹرن شپ جیسی کوئی چیز بن جائیگی؟ فوج کی باقاعدہ یعنی پہلے جیسی ملازمت سے محروم کردیئے جانے والے امیدواروں کو یہی غم نہیں ہے کہ ملازمت کا بہترین موقع ہاتھ سے نکل گیا، انہیں یہ رنج بھی ہے کہ مادر وطن کی خدمت کے اُس جذبے کا گلا گھونٹ دیا گیا جسے وہ برسوں سے پروان چڑھا رہے تھے۔ ان میں کئی ایسے ہیں جن کے گھر، خاندان، گاؤں یا قصبے کے لوگوں نے فوج میں بھرتی کی روایت کو مستحکم کیا ہے۔ کئی گھر، خاندان اور علاقے ایسے مل جائینگے جہاں کے نوجوان بس ایک ہی خواب دیکھتے ہیں اور وہ ہے فوج میں بھرتی ہونے کا۔ جو لڑکا بچپن سے اپنے باپ کو فوجی وردی میں دیکھ کر خود بھی فوج کا حصہ بننے کی آرزو کے ساتھ ۱۷، ـ۱۸ سال کی عمر کو پہنچا ہو، اس کے جذبات پر تو بجلی گرا دی آپ نے؟ کتنی بڑی ناانصافی ہے یہ! جن چند اُمیدواروں کے تاثرات ہم نے سنے، اُن میں کسی کا کہنا تھا کہ تمام کارروائی مکمل ہوچکی تھی ہمیں صرف جوائننگ لیٹر ملنا باقی تھا۔ کسی نے کہا کہ ہم فوجی کی زندگی، زندگی بھر جینا چاہتے ہیں، چند سال نہیں۔ تاثرات بیان کرتے کرتے کئی نوجوانوں پر رقت طاری ہوگئی۔ کوئی غم و غصہ کی تصویر بنا ہواتھا تو کسی کے چہرے سے اس کی برہمی ظاہر ہورہی تھی۔ یہ لوگ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیں۔ حکومت ان لوگوں کے جذبات اور احساسات سے چشم پوشی کرکے اپنی طاقت کو بروئے کار لاکر اسکیم کو نافذ تو کرسکتی ہے مگر عین ممکن ہے کہ فوج میں بھرتی کے لئے ملک کی حفاظت کا ہمالیہ جیسا بلند جذبہ رکھنے والے نہ ملیں اور ویسی فوج نہ تشکیل پاسکے جیسی فوج پر اس ملک کا ایک ایک شہری فخر کرتا آیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK