بھارت جوڑو یاترااَوراس کےاثرات

Updated: December 01, 2022, 10:50 AM IST | Mumbai

راہل گاندھی کی قیادت میں ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ ۸۰؍ دن اور دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ کی مسافت طے کرچکی ہے۔ ۷؍ ستمبر کو کنیا کماری سے آغاز کے ساتھ ہی اس کی کامیابی کا بھی آغاز ہوا تھا

Bharat Jodo Yatra; Photo: Jagran
بھارت جوڑو یاترا تصویر: جاگرن

راہل گاندھی کی قیادت میں’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ ۸۰؍ دن اور دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ کی مسافت طے کرچکی ہے۔ ۷؍ ستمبر کو کنیا کماری سے آغاز کے ساتھ ہی  اس کی کامیابی کا بھی آغاز ہوا تھا چنانچہ جیسے جیسے یاترا آگے بڑھتی گئی، کامیابی کا سفر بھی جاری رہا اور کسی بھی ریاست میں اس کا گراف نیچے نہیں آیا۔ عوام کے ساتھ عوامی موضوعات سے بحث کرتے ہوئے روزانہ ۲۱۔۲۲؍ کلومیٹر کا یہ سفر قومی سیاست کو ایک ایسے رُخ پر لے جارہا ہے جس کے بارے میں کسی نے سوچا نہیں تھا۔ اگر یاترا کی روز بہ روز بڑھتی مقبولیت کے ساتھ ہی یہ سیاست بھی مستحکم ہوئی تو یہ وطن عزیز میں ایک نئے دور کی ضمانت دے گی۔ سیاست کے اِس دوسرے رُخ کی نشاندہی ضروری تھی کیونکہ قومی سیاست انتخابی سیاست کا اکھاڑہ نہیں بن سکتی۔ نعروں، دعوؤں، جھوٹ، فریب اور بے وفائی کا دور دورہ اس کی شناخت نہیں بن سکتا۔ ایسی آلودہ سیاست کو ختم ہونا چاہئے اور بھارت جوڑو یاترا نے اس کے خاتمے کا آغاز کردیا ہے۔ بہ الفاظ دیگر قومی سیاست میں یوٹرن کی ضرورت تھی اور بھارت جوڑو یاترانے اُس کی گنجائش پیدا کردی ہے۔ اب اُمید کی جاسکتی ہے کہ حالیہ دہائیوں میں بالعموم اور پچھلے آٹھ سال میں بالخصوص زمینی مسائل اور عوامی اُمور  سے دوری کا جو سیاسی رجحان پیدا ہوا تھا،  وہ اَب نہیں رہے گا۔راہل کا بار بار یہ کہنا کہ اُن کی یاترا کے مقاصد سیاسی نہیں ہیں، اُن کا یاترا کو سیاست جیسی سیاست سے بالاتر رکھنا، عوام کو جوڑنے ہی کی بات کرنا، سب کا خیرمقدم کرنا، اپنی کہنے سے زیادہ دوسروں کی سننا، روزانہ سیکڑوں لوگوں سے ملاقاتیں کرنا اور عوام کو یاد دِلانا کہ ہم کیا ہیں، ہماری مٹی کا تقاضا کیا ہے، وہ کون سی چیز ہے جو ہماری فضاؤں میں رچی بسی ہوئی ہے، مل جل کر رہنے کی ہماری روایت کتنی پرانی اور کتنی بے مثال ہے اور کس طرح پوری دُنیا میں اس کی شہرت ہے، یہ ساری باتیں نفرت کی اُس راج نیتی کا جواب ہے اور بہتر جواب ہے جس کے سہارے موجودہ حکمراں طبقہ سیاست اور اقتدار میں تادیر قائم رہنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ دو روز قبل کی پریس کانفرنس اور عوامی جلسے میں راہل نے مزید کئی باتوں کی وضاحت کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ یاترا کا مقصد سیاسی نہیں ہے۔ یاترا کا مقصد انتخابی بھی نہیں ہے۔ یاترا کا مقصد موجودہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کو جوڑنا بھی نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ محبت، بھائی چارہ اور انصاف، یکساں مواقع اور گنگا جمنی تہذیب کا تحفظ ہو جس کے سائے میں پل کر ہم جوان ہوئے ہیں۔اُن کا یہ بیان کہ یاترا کے ذریعہ وہ کچھ حاصل نہیں کرنا چاہتے، اس کے ذریعہ وہ کانگریس پارٹی کو کچھ دینا بھی نہیں چاہتے کیونکہ یاترا نہ تو اُن کیلئے ہے نہ کانگریس کیلئے بلکہ یاترا ملک کیلئے ہے۔ اُن کا یہ جملہ معنی خیز ہے کہ ’’راہل بھی پیچھے چھوٹ گیا اور کانگریس بھی پیچھے چھوٹ گئی ہے۔‘‘ یہ درست بھی ہے کیونکہ یاترا کی وجہ سے ملک  آگے بڑھا ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔ اس سے محبت اور بھائی چارہ پر گفتگو شروع ہوئی، تمام مذاہب کے ماننے والوں کے یکجا ہونے اور ایک مقصد کے تحت ساتھ چلنے کا آغاز ہوا ہے، نفرت کی سیاست کو رُکنا پڑا ہے، اس کے علمبرداروں کے جملے بدل گئے ہیں، موضوعات کے انتخاب میں احتیاط درآئی ہے اور ہندو مسلم کرنا اتنا آسان نہیں رہ گیا ہے۔ یہ سب بھارت جوڑو یاترا کے سبب ہوا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یاترا زیادہ بامعنی اور پُراثر ہوتی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK