جو بائیڈن سے امریکہ اوردنیا کومایوسی

Updated: May 03, 2022, 9:23 AM IST | Hassan Kamal | Mumbai

یوکرین میں جنگ روس کو زک پہنچنے کے لئے نہیں، چین کا راستہ روکنے کے لئے کی گئی ہے۔لیکن اس جنگ نے جو تباہی اور غارت گری مچائی ہے ، اس پر ساری دنیا برہم نظر آرہی ہے۔ اس تباہی و بربادی کے لئے جتنا روسی حملے کو ذمہ دار مانا جارہا ہے اتنا ہی امریکی پالیسی کو بھی مانا جا رہا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

جو بائیڈن جب ڈونالڈ ٹرمپ کو شکست دے کر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تھے تو امریکہ ہی نہیں ساری دنیا میں ان کا زبردست خیر مقدم ہوا تھا اور ہر ملک کے انسانیت دوست طبقات نے ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔ڈو نالڈ ٹرمپ کو دنیاسفید فام نسل پرستی کا شکار، تکبرمیں مبتلا اور بڑبولا شخص سمجھتی تھی۔ مسلم ممالک میں ان کا امیج ایک اسرائیل دوست اور اسلام دشمن امریکی کا تھا۔ جو بائیڈن کو ان کے مقابلہ میں زیادہ حلیم وبردبار سمجھا جاتاتھا۔ لیکن اب انہیں ایک ڈھیلا ڈھالا اور اپنے ہی خیالوں میں گم انسان سمجھا جانے لگا ہے۔    دانشور اور سفارت کار حلقوں میں اب عالمی پیمانے پر اس امر کا اعتراف کیا جانے لگا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ میں ہزار برائیاں تھیں ، لیکن بلا شبہ وہ امریکہ کے ایک ایسے صدر تھے، جو بالکل جنگ خواہ نہیں تھے۔  انہیں جنگ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔  انہوں نے شام اور عراق سے امریکہ اور نیٹو فوجیں واپس بلانے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ وہ افغانستان سے بھی جلد از جلد نکلنا چاہتے تھے۔ نیٹو سے ان کا جھگڑا یہی تھا کہ وہ جنگی مقاصد کے لئے نیٹو کو دیئے جانے والے فنڈ میں امریکی حصہ گھٹاناچاہتے تھے۔   عہدہ سنبھالتے ہی بائیڈن کو اپنی دو ذمہ داریوں کا شدت سے احساس ہوا تھا۔ ایک یہ کہ انہیں دنیا کو یہ یقین دلانا تھا کہ امریکی جمہوری نظام دنیا کا سب سے کامیاب حکومتی نظام ہے۔ دوسرے یہ کہ دنیا اب بھی یک قطبی ہے، آسان لفظوں میں یہ سمجھئے کہ انہیں دنیا کو یہ باور کرانا تھا کہ امریکہ اب بھی واحد سپر پاور ہے۔اس لئے انہوں نے ان تمام ممالک کی ایک کانفرنس کا اہتمام کیا، جہاں جمہوری حکومتیں ہیں۔ اس کانفرنس میں روس اور چین کو مدعو نہیں کیا گیا اور اس کی وجہ بتانے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ۔لیکن اس کانفرنس کا وہ نتیجہ نہیں نکلا جو بائیڈن چاہتے تھے۔الٹے اس کانفرنس نے دو سچائیاں آشکار کر دیں ۔ایک یہ کہ وہ تمام ممالک بھی جہاں جمہوری حکومتیں ہیں، امریکی جمہوری نظام کی تقلید سے گریزاں ہیں۔ دوسرے یہ کہ بائیڈن کایہ موقف کہ امریکہ روس اور چین سے اس لئے بیزار ہے کہ وہاں جمہوری حکومتیں نہیں ہیں،بالکل غیر منطقی ثابت ہوا۔جہاں تک دنیا کو امریکہ کے یک قطبی اور سپر پاور ہونے کا یقین دلانے کا تعلق ہے، تو چین اس دعوے کو کب کا غلط ثابت کرچکا ہے۔ چینی معیشت اگر امریکی معیشت سے بڑی نہیں تو اس کے ہم  پلّہ ضرور ہے۔ امریکہ اب ایک معاشی سپر پاور تو بہر حال نہیں رہ گیا ہے۔
    بلا شبہ جہاںتیکنالوجی کا تعلق ہے، امریکہ دنیا سے کافی آگے ہے۔ کمپیوٹر سائنس میں امریکہ اب بھی لاثانی حیثیت کا حامل ہے۔ دوا سازی اور کیمیائی شعبوں میں بھی امریکہ کی اجارہ داری ہے۔ اسلحہ سازی میں بھی امریکہ کا مقابلہ کوئی اور ملک مشکل ہی سے کر سکتا ہے۔ موسیقی اور فلموں کی صنعتوں میں بھی امریکہ سر فہرست ہے۔ لیکن جہاں تک روز مرہ کی ضرورتوں میں کام آنے والی مصنوعات کا سوال ہے ،چین نے ان میدانوں میں امریکہ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ان اشیاء کی فراہمی کے لئے چین گلوبل مارکیٹ پر چھایا ہوا ہے۔ بائیڈن کو اس مشکل کا ایک ہی حل نظر آیا اور وہ یہ کہ چین کوکسی بھی طرح اقتصادی طور پر آگے بڑھنے سے روکا جائے، اس کے بڑھتے قدموں کو روکنے  کے لئے راستے بند کئے جائیں۔ بائیڈن نے اس مقصد کے حصول کے لئے چین کے کچھ منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس کے لئے انہوں نے جو کچھ کیا وہ دنیاکے لئے انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہا ہے اور اسی کے ساتھ امریکہ کا وقار بھی دائوں پر لگ گیا ہے۔    جوبائیڈن کو چین کے دو منصوبے بہت کھٹک رہے تھے ۔چین کو ابھی تک اپنی مصنوعات یورپ تک پہنچانے کے لئے یورپی سمندروںتک رسائی کے لئے ایک بہت طویل بحری راستہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اگر چین کسی طرح یوکرین سے معاہدہ کر لے تو اس کی یورپی سمندروں تک رسائی بہت آسان ہو سکتی ہے۔کیونکہ یوکرین باسفورس کے ساحل پر بسا ہوا ہے۔ روس اور چین کے تعلقات میں روز افزوں اضافہ ہو رہا تھا۔ یہ عین ممکن تھا کہ روس کے اثر میں آکر یوکرین کسی ایسے معاہدے پر راضی ہوجاتا۔ اس کے لئے امریکہ نے پہلے یوکرین کی روس دوست حکومت کا تختہ الٹا، وہاں اپنے پٹھو مسخرے زیلینسکی کو بٹھایا ۔  پھر اسے روس سے بھڑا دیا۔ یوکرین میں جنگ روس کو زک پہنچنے کے لئے نہیں، چین کا راستہ روکنے کے لئے کی گئی ہے۔لیکن اس جنگ نے جو تباہی اور غارت گری مچائی ہے ، اس پر ساری دنیا برہم نظر آرہی ہے۔ اس تباہی و بربادی کے لئے جتنا روسی حملے کو ذمہ دار مانا جارہا ہے اتنا ہی امریکی پالیسی کو بھی مانا   جا رہا ہے۔ پھر امریکہ نے ایران کے تیل کی خریدار ی کیلئے تو ساری دنیا پر پابندی عائد کر رکھی ہے، لیکن روسی ڈیزل اور گیس کی خریداری کیلئے یورپ پر کوئی پابندی نہیں عائد کی ، کیونکہ یورپ توانائی کی چالیس فیصد ضروریات کیلئے روسی گیس اور ڈیزل کا محتاج ہے۔ اس دوہرے معیار کے سبب امریکہ کے اندر بھی بائیڈن کا وقار بری طرح مجروح ہوا ہے۔   چین کاجو دوسرامنصوبہ امریکہ کو ناگوار تھا، وہ چین پاکستان معاشی راہداری(سی پیک) تھا۔ یہ راہداری زمینی راستے سے چینی مصنوعات ایشیا اور افریقہ تک کم وقت اور کم خرچ میں پہنچانے کی راہ آسان کر دے گا۔ جو بائیڈن نے اس کے لئے پاکستان پر بہت دبائو ڈالا۔ لیکن عمران خان نے ایک نہ سنی۔ اس کیلئے امریکی ایڈمنسٹریشن نے شریفوں اور زرداریوں کے ساتھ ساز باز کرکے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کروالی، لیکن یہ سودا بائیڈن کومہنگا پڑ رہا ہے۔ عمران خان کوئی فوجی آمریا جابر حکمراں نہیں، ایسے وزیر اعظم تھے جنہیں عوام نے چنا تھا۔ پاکستانی عوام امریکی حکومتوں سے ہمیشہ ناخوش رہتے تھے، لیکن ملک کے مقتدر حلقے امریکہ کے مطیع و فرمانبردار رہتے تھے۔ عمران خان کو جس طرح ہٹایا گیا، اس کی وجہ سے عوام کے ساتھ ہی مقتدر حلقوں میں بھی ایسی تقسیم دیکھی جا رہی ہے جو پہلے نہیں تھی۔  امریکی عوام کو بھی اندازہ ہو چلا ہے کہ اس وقت براعظم ایشیا میں کوئی بھی ملک امریکہ کا دوست نہیں رہا ہے۔ ہندوستان ضرور امریکہ کی دوستی کا دم بھرتا ہے، لیکن امریکی عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس دوستی پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے ، کیونکہ ہندوستان کے عوام میں بھی امریکہ مخالف رجحان وافر مقدار میں موجود ہے ۔ ان تمام باتوں کی وجہ سے بائیڈن نے سب کو مایوس کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK