بہار الیکشن اور بی جے پی

Updated: October 14, 2020, 11:24 AM IST | Editorial

اکتوبر نومبرمیں ہونے والے بہار انتخابات میں باقاعدہ پولنگ اب زیادہ دور نہیں ہے۔ تین مراحل میں ہونے والے یہ انتخابات ایسے دور میں ہورہے ہیں جب گزشتہ چھ ماہ سے پورا ملک وباء کی زد پر ہے

Nitish Kumar - PIC : PTI
نتیش کمار ۔ تصویر : پی ٹی آئی

اکتوبر نومبرمیں ہونے والے بہار انتخابات میں باقاعدہ پولنگ اب زیادہ دور نہیں ہے۔ تین مراحل میں ہونے والے یہ انتخابات ایسے دور میں ہورہے ہیں جب گزشتہ چھ ماہ سے پورا ملک وباء کی زد پر ہے۔ علاوہ ازیں، اس الیکشن میں پہلی مرتبہ جو ریلیاں ہورہی ہیں اور آئندہ ہوں گی، وہ روایتی ریلیوں جیسی نہیں ہیں جن میں لاکھوں کا مجمع ہوتا ہے۔ یہ ورچوئل ریلیاں ہیں جن کی اثر پزیری روایتی ریلیوں کی اثر پزیری سے مختلف ہے چنانچہ کہنا مشکل ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی ریلیوں کے ذریعہ رائے دہندگان پر کس حد تک اثر انداز ہوسکیں گی۔ ایسی صورت میں ممکن ہے رائے دہندگان تک رسائی کیلئے سوشل میڈیا کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ اس محاذ پر بی جے پی کو سبقت حاصل رہی ہے جس نے ۲۰۱۴ء میں سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا اور غیر معمولی کامیابی حاصل کی تھی۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ گزشتہ چھ سال میں اکثر سیاسی جماعتوں نے سوشل میڈیا کے استعمال پر توجہ دے کر بی جے پی کی ۲۰۱۴ء والی اجارہ داری ختم کردی ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال میں اب کانگریس بھی کافی فعال ہے جوکہ ۲۰۱۴ء میں نہیں تھی، یہ الگ بات کہ بہار میں کانگریس کی ساکھ جو کم و بیش تین دہائی پہلے کمزور ہوئی تھی، ہنوز بحال نہیں ہوسکی ہے۔ اس بار پارٹی نے کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کربھی دیا تو وہ اس قابل نہیں ہوسکے گی کہ آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے قریب بھی پہنچ سکے۔ مگر اس اعتبار سے کانگریس ’محفوظ‘ بھی ہے۔ یہاں اس کی مقبولیت کی آزمائش نہیں ہوگی۔ اسے سابقہ سیٹوں سے جتنا بھی زیادہ ملے، اسے فائدہ ہی شمار کیا جائیگا۔
 یہ الیکشن اگر آزمائش ہے تو بی جے پی کیلئے۔ شاید اسی لئے آپ دیکھ رہے ہوں گے کہ پارٹی میں خود اعتمادی دکھائی نہیں دے رہی ہے جس کا ایک ثبوت اس کا جے ڈی یو کے پیچھے پیچھے رہنا اور نتیش کمار کی دل کھول کر ستائش کرنا ہے حالانکہ بی جے پی جانتی ہے کہ نتیش کمار کی مقبولیت اب ویسی نہیں رہ گئی ہے جیسی پندرہ سال پہلے تھی۔ وبائی دور میں مہاجر مزدوروں کی حالت زار نے نتیش کمار کی مقبولیت کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ ’حکومت مخالف ووٹ‘ (اینٹی اِن کمبینسی) بھی پر تول رہا ہے جس سے پیچھا چھڑانا نتیش کمار کیلئے مشکل ہے۔ رائے دہندگان یہ بھی نہیں بھولے ہیں کہ یہ وہی نتیش کمار ہیں جنہوں نے سابقہ الیکشن میں مہا گٹھ بندھن میں شمولیت اختیار کی تھی اور پھر اس سے کنارہ کش ہوکر دوبارہ این ڈی اے کو ترجیح دی تھی۔ 
 جہاں تک بی جے پی کا تعلق ہے، اس نے ۲۰۱۴ء کی پہلی غیر معمولی کامیابی کے بعد یکے بعد دیگرے کئی ریاستیں فتح کرلی تھیں مگر یہ برق رفتاری برقرار نہیں رہ سکی اور پھر انتخابی ناکامیاں اس کا تعاقب کرنے لگیں۔ بڑی ریاستوں میں کرناٹک، بہار اور مدھیہ پردیش میں اس نے الیکشن ہار کر بھی حکومت بنالی مگر ہار تو ہار ہے جسے حکومت بن جانے کے بعد بھلایا نہیں جاتا۔ گجرات میں بھی اس کی نیا ڈوبتے ڈوبتے بچی تھی۔ کہنے کا مطلب یہ کہ گزشتہ چند برسوں میں کئی ریاستی انتخابات ہارنے کے بعد بہار کا یہ الیکشن اگر سب سے زیادہ کسی کی آزمائش ہے تو وہ بی جے پی کی ہے اسی لئے پارٹی خود کو نتیش کمار کے پیچھے چھپا رہی ہے تاکہ شکست کا ٹھیکرا نتیش ہی کے سر پھوڑا جائے۔ 
 بی جے پی کی گھبراہٹ کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ بہار الیکشن کورونا اور لاک ڈاؤن کے بعد ہونے والا پہلا الیکشن ہے جس کے تعلق سے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ،ان دو موضوعات پر مرکزاور ریاستی حکومت کا ریفرینڈم ہے۔ اسے ملک کی معاشی حالت کا ریفرینڈم بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ غریب کلیان روزگار یوجنا کا اجراء، گلوان میں بہار رجمنٹ کی ستائش، سوشانت سنگھ کی خود کشی (جس کا تعلق ممبئی سے ہے) کا کیس سی بی آئی کے حوالے کرنا جیسے متعدد اقدامات اور بیانات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی بہار میں اپنی سخت آزمائش کو محسوس کررہی ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK