• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

بہار:نتیش کمار حزب اختلاف کے نشانے پر ؟

Updated: November 16, 2023, 9:37 AM IST | Dr Mushtaq Ahmed | Mumbai

نتیش کمار گزشتہ ایک سال کے اندر محکمہ پولیس اور محکمہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر محکموں میں برسوں سے خالی اسامیوں کو پُر کرنے میں لگے ہیں ۔ مگر اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت روزگار دینے کے نام پر صرف سیاست کر رہی ہے ۔

Nitish Kumar
نتیش کمار

بہار قانون ساز کا حالیہ پانچ روزہ اجلاس غیرمتوقع طورپر ہنگامہ آرائی کی نذر ہو کر رہ گیااور اس کی وجہ حزب اختلاف کے ذریعہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا وہ مبینہ بیان رہا جو انہوں نے ریاست میں شرح آبادی کے اضافے کے تعلق سے دیا تھا ۔ واضح ہو کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنے اس بیان میں خواندہ اور ناخواندہ خواتین کے تعلق سے یہ کہنے کی کوشش کی تھی کہ جو خواتین خواندہ ہیں وہ شرح آبادی کو روکنے کیلئے کئی ترکیبیں نکال لیتی ہیں لیکن ناخواندہ خواتین ان ترکیبوں سے نہ صرف لا علم ہوتی ہیں بلکہ قاصر بھی رہتی ہیں۔ لیکن اسمبلی کی خواتین ممبران اور حزب اختلاف کا موقف ہے کہ انہوں نے جو بیان دیا تھا وہ غیر اخلاقی اور شرمندگی کا باعث تھا۔اگرچہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے حزب اختلاف کے مطالبے پر فوراً نہ صرف معافی مانگی بلکہ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اپنے بیان کو واپس لیتے ہوئے خود بھی شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ نتیش کمار ایک محتاط لیڈر ہیں اور اپنی نپے تُلے سیاسی تبصرے کیلئے جانے جاتے ہیںاور اگر انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کا بیان غیر آئینی یا غیر اخلاقی تھا تو وہ فوراً معافی بھی طلب کرتے ہیں ۔ لیکن اس بار اسمبلی کے اجلاس میں ان کے مبینہ بیان کو لے کر جس طرح ہنگامہ آرائی ہوئی اور پانچ روزہ اجلاس بار بار ملتوی ہوتے رہے اس وجہ سےپانچ دنوں کے اجلاس میں محض پندرہ گھنٹے ہی مختلف بلوں پر بحث ہو سکی۔ایک طرف حزب اختلاف وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے رہے تو دوسری طرف حکمراں جماعت نے اپوزیشن پر یہ الزام لگایا کہ وہ خواہ مخواہ نتیش کمار کے بیان کی آڑ میں مفادِ عامہ کے موضوع پر بحث ومباحثہ کرنے کو تیار نہیں ہیں اور نتیش کمار کی شخصیت کو دانستہ نشانہ بنا رہے ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے تو اپنے پریس اعلامیہ میں اپوزیشن کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار ریاست میں بے روزگاروں کو روزگار دینے کے ساتھ ساتھ جو برق رفتاری سے ترقیاتی کاموں کو انجام دے رہے ہیں اس سے حزب اختلاف کی نیند اڑ گئی ہیں اور وہ اب شخصی سیاست کو فروغ دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ دراصل حال ہی میں نتیش کمار نے ریاست کے پرائمری سے سکنڈری اسکولوں کیلئے ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد اساتذہ کو ملازمت کے پروانے تقسیم کئے ہیں اور تقریباً ایک لاکھ اساتذہ کی نئی بحالی کیلئےاسامیاں بھی نکال دی ہیں جس کی وجہ سے ریاست کے بیروزگاروں میں ایک نئی امید جاگ گئی ہے اور چہار طرف نتیش کمار کی پذیرائی ہو رہی ہے۔ واضح ہو کہ نتیش کمارنے جب قومی جمہوری اتحاد سے الگ ہو کر راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ عظیم اتحاد کی حکومت تشکیل دی تھی تو انہوںنے اعلان کیا تھا کہ وہ ریاست کے دس لاکھ بیروزگاروں کو روزگار دیں گے ۔نتیش کمار گزشتہ ایک سال کے اندر محکمہ پولیس اور محکمہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر محکموں میں برسوں سے خالی اسامیوں کو پُر کرنے میں لگے ہیں ۔ مگر اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت روزگار دینے کے نام پر صرف سیاست کر رہی ہے ۔ ظاہر ہے کہ جمہوریت میں کوئی بھی حکومت اپنے سیاسی مفاد کو مدنظر رکھ کر ہی کام کرتی ہے لہٰذا نتیش کمار بھی اسی روش کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
 بہر کیف! حالیہ قانون ساز یہ اجلاس کا ہنگاموں کی نذر ہونا ایک جمہوری طرزِ حکومت کے مفاد میں نہیں ہے کیوں کہ اسمبلی یا کونسل میں جب تک مفادِ عامہ کے مسائل پر بحث ومباحثہ نہیں ہوگا اس وقت تک ریاست کے عوام کے حق میں سرکاری پالیسیاں نہیں بن پائیں گی یا کابینہ کے ذریعہ جتنے بھی فیصلے کئے جاتے ہیں اگر وہ بِل کی صورت میں پاس نہیں ہوں گے تو اس سے عوام کا ہی نقصان ہوتا ہے ۔ اس لئے حزب اختلاف کے لیڈران کو بھی کسی ایک بیان کو لے کر مسلسل ہنگامہ آرائی کرنے سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ بحث ومباحثہ کے ذریعہ حکومت کو گھیر سکتے ہیں اور اگر حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانا چاہتی ہے تو اسے وہ اجلاس کے ذریعہ ہی اجاگر کر سکتے ہیں ۔ جہاں تک نتیش کمار کے حالیہ بیان کا سوال ہے تو انہوں نے جب خود ہی یہ اعتراف کرلیا کہ ان کی زبان پھسل گئی تھی اور اس سے خواتین کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ معافی کے طلب گار ہیں اور انہوں نے اپنے بیان بھی واپس لے لئے تھے تو ایک صحت مند جمہوری نظام کیلئےیہ بھی ضروری ہے کہ وزیر اعلیٰ کی معافی کے بعد ان کے بیان کو بے جا طول نہیں دیا جانا چاہئے۔مگر سچائی یہ ہے کہ حال کے دنوں میں اکثر ایسا ہی ماحول بنایا جاتا ہے خواہ وہ بہاراسمبلی کا اجلاس ہو یا دیگر ریاستی اجلاس ، بلکہ پارلیمانی اجلاس میں بھی زبانی جنگ کا ماحول زور پکڑتا جار ہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر اجلاس ہنگامے کی نذر ہو کر رہ جاتے ہیں اور مفادِ عامہ کے مسائل پر کوئی ٹھوس بحث نہیں ہو پاتی ۔ اس لئے حکمراں جماعت کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کیلئے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں کہ اجلاس جس مقصد سے طلب کئے جاتے ہیں وہ مقصد پورا ہو سکے کہ جب تک اس طرح کی ہنگامہ آرائی ہوتی رہے گی اور اجلاس ملتوی ہوتے رہیں گے تو اس سے نہ صرف سرکاری خزانے کا زیاں ہوتا رہے گا بلکہ عوام کی امیدوں پر بھی پانی پھرتا رہے گا۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ جمہوریت میں حکمراں جماعت سے کہیں زیادہ حزب اختلاف کی اہمیت ہے کہ وہ عوام کے مسائل پر حکومت پر نکیل کسنے کا کام کرتی ہے مگر افسوس صد افسوس کہ حالیہ دنوں میں حزب اختلاف اپنے اس جمہوری فرائض سے دور ہوتی نظر آرہی ہے جو ایک صحت مند جمہوریت کیلئے مضر ہے۔
 مختصر یہ کہ حالیہ اجلاس کے خاتمے کے بعد بھی ریاست میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے مبینہ بیان کو لے کر سیاست کا طوفان کھڑا ہے اور قومی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعہ نتیش کمار کی شخصیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جب کہ سچائی یہ ہے کہ ریاست میں خواتین کے جمہوری حقوق کیلئے نتیش کمار نے جتنے کارنامے انجام دئیے ہیں وہ تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ پنچایت اور بلدیاتی انتخاب میں خواتین کیلئے ۵۰؍فیصد سیٹوں کے ریزرویشن کا فیصلہ ہو کہ ریاست کی خواتین کو سرکاری ملازمت میں ۳۵؍فیصد ریزرویشن دینے کا تاریخی فیصلہ، نتیش کمار کی حکومت نے ہی کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ میڈیکل اور انجینئرنگ کے داخلے میں بھی خواتین کیلئے ۳۵؍ فیصد سیٹیں مخصو ص کرنے کا فیصلہ بھی نتیش کمار نے ہی کیا ہے ۔ آنگن باڑی اور آشا کی بحالیوں کے ذریعہ خواتین کو خود مختار بنانے کی پہل بھی نتیش کمار نے ہی کی ہے ۔ اس لئے نتیش کمار پر یہ مبینہ الزام تراشی کہ وہ خواتین کو کمتر دکھانے کی کوشش کر تے ہیں ، بے معنی اور صرف اور صرف سیاست کا حصہ ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK