مزدوروں کی اموات کے بیچ ۶؍سالہ’بے مثال ‘حکمرانی کا جشن

Updated: May 17, 2020, 4:00 AM IST | Aasim Jalal

کورونا وائرس سے نمٹنےکیلئے لاک ڈاؤن کا سہارا کم وبیش تمام ممالک نے لیا مگر اچانک نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن کے دوماہ بعد ہندوستان جو منظر پیش کررہاہے وہ دنیا کے کسی ملک میں  دیکھنےکو نہیں  ملا، شہر میں تمام جمع پونجی ختم ہوجانے کےبعد مزدور پیدل ہی دیہاتوں کیلئے نکل پڑے ہیں، پاؤں  پر چھالے پڑگئے، چھوٹے چھوٹے بچے بھوکے پیاسے پیدل چلنے پر مجبور ہوگئے، حادثوں  میں  روزانہ اموات ہورہی ہیں، بے بسی کی نئی نئی اور درد انگیز داستانیں کیمروں میں قید ہورہی ہیں مگر حکمراں جماعت کاعالم یہ ہے کہ وہ ’’ مودی سرکار کے ۶؍ سال...بے مثال‘‘ کا جشن منارہی ہے

Labors - Pic : PTI
مزدوروں کی نقل مکانی ۔ تصویر : پی ٹی آئی

پوری دنیا کورونا وائرس’کووڈ-۱۹‘ سے جوجھ رہی ہے،اس کے لئے دنیا کے تمام ممالک نے لاک ڈاؤن کا سہارا بھی لیا مگر لاک ڈاؤن کےبعد جو مناظر ہندوستان    پیش کررہا ہے وہ دنیا کے کسی ملک میں نظر نہیں آتے۔ کہیں بھی محض ۴؍ گھنٹے    کے نوٹس پر نہ لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا اور نہ۲؍ مہینے کے لاک ڈاؤن کے بعد اتنے بڑےپیمانےپر لاکھوں افراد کی نقل مکانی ہوئی۔ آج عالم یہ ہے کہ ہزاروں افراد  جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں،   سیکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرنےکیلئے پیدل ہی نکل پڑے ہیں، سڑکوں  پر  دلدوز مناظر روزانہ کیمروں میں قید ہورہےہیں۔ ہر روز کسی نہ کسی دل دہلادینے والے حادثے کی اطلاع موصول ہورہی ہے۔   بے سروسامانی کے عالم میں کسی طرح اپنے گاؤں  پہنچنےکی کوششوں میں مصروف افراد کی زندگیاں تباہ ہور ہی ہیں۔ اورنگ آباد  میں ۱۶؍ افراد کے مال گاڑی کی زد میں آنے کا معاملہ ہویا سنیچر کو علی الصباح   اوریا میں   اندوہناک سانحہ میں ۲۴؍ مہاجر مزدوروں کی موت کا حادثہ، ہر خبر دل کو دہلادیتی ہے۔ ہر حادثہ کچھ زندگیاں ہی ہم سے نہیں چھین لیتا بلکہ متعدد زندگیوں کو برباد بھی کردیتاہے۔ سنیچر کو ہی مدھیہ پردیش کے  چھتر پور  میں  پیش آنے والے سڑک حادثے کے ویڈیو کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو  آگیا۔      دو خواتین بے سدھ پڑی ہیں ، شاید جاں بحق ہوگئی ہیں اور دونوں کے بغل میں چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچے بیٹھے اپنی ماؤں کو جگانے کی کوشش کررہے ہیں۔  یہ وہ مناظر ہیں جنہیں  ہندوستان کبھی بھلا نہیں پائے گا۔  افسوس کہ ان بچوں سے ان کے سر کا سایہ  کے چھن جانے کا سبب بننے والوں کو کبھی سزا بھی نہیں مل پائےگی۔
  روزانہ منظر عام پر آنے والی ان تصویروں نے حکومت کی بھی نیند حرام کردی تھی۔  اس کی شبیہ بری طرح خراب ہورہی تھی۔ میڈیا نہ چاہ کر بھی اورنگ آباد جیسے حادثات کی خبر دکھانے پر مجبور تھا۔  ایسے میں جب وزیراعظم نریندر مودی نے شام ۸؍ بجے اچانک قوم  کے نام خطاب کا اعلان کیا تو یہ امید بندھی کہ شاید مہاجر مزدوروں کی حالت زار نے وزیراعظم کی بھی نیند حرام کردی ہے اور اب  وہ  انہیں راحت پہنچانے کیلئے کوئی بڑا اعلان کرسکتےہیں مگر  ایسا نہیں ہوا۔ آدھے گھنٹے  سے زائد کے اپنے خطاب میں الفاظ کی جادوگری کے ساتھ وزیراعظم نے جو باتیں کہیں وہ  ۳؍ نکات میں سمیٹی جاسکتی ہیں۔ اول یہ کہ  ۱۸؍ مئی سے لاک ڈاؤن ۴ ؍کا آغاز ہوگا۔ دوم، حکومت مالی پیکیج  کا اعلان کریگی  جو سابقہ پیکیج کو ملا کر مجموعی طور پر ۲۰؍ لاکھ کروڑ کا ہو جائے گا اور سوم یہ کہ آفت کو موقع میں تبدیل کرتےہوئے اب ہم ’’خود کفیل‘‘ ہندوستان کی جانب پیش رفت کریں گے۔اس کیلئے ہندوستانیوں کو غیر ملکی کمپنیوں کی مصنوعات پر دیسی کمپنیوں کی بنائی ہوئی مصنوعات کو ترجیح دینی ہوگی۔ وزیراعظم نے یہ نہیں بتایا کہ میک اِن انڈیا جیسے اُن دیگر  پروگراموں کا کیا ہوا  جو اگر کامیاب ہوجاتے تو آج  اسی کو ’آتم نربھر بھارت‘ کے عنوان سےدوبارہ متعارف نہ کرنا پڑتا اورجن کی مارکیٹنگ کچھ اس طرح کی گئی تھی کہ پل بھر میں سب کچھ بدلنے والا ہے۔ نہ کہیں میک اِن انڈیا نظر آرہا ہے نہ وہ اسمارٹ سٹی جن کا خواب  ہمیں ۲۰۱۴ءمیں دکھایاگیاتھا۔ 
 خیر!  وزیراعظم کے اس خطاب کے بعد سے وزیرمالیات نرملا سیتارمن  روزانہ  ’پنج سالہ منصوبوں‘ جیسے راحتی پیکیج کا اعلان کررہی ہیں جن میں ماہرین کے مطابق عوام یا مزدوروں کیلئے فوری راحت کا سامان تو کم ہے البتہ اصلاحات کا اعلان زیادہ  ہے۔طرہ یہ کہ اس  پیکیج میں ان اخراجات کو بھی شامل کردیاگیا ہے جو حکومت کو یہ پیکیج جاری نہ کرنے کی صورت میں بھی خرچ کرنا ہی تھا۔ مثال کے طورپر شہریوں کو ٹیکس میں دیا جانے والا    ری  فنڈ کیسے راحتی پیکیج کا حصہ ہوسکتاہے، وہ تو حکومت کو ہر حال میں  لوٹانا ہی تھا مگر یہ موجودہ حکومت میں ہی ممکن ہےکہ اسے بھی پیکیج کا حصہ بنادیا گیا۔  رہی بات اصلاحات کی تو    یہ اصلاحات اگر صحیح ثابت ہوئیں تو آئندہ کئی برسوں بعد  جا کران کا فائدہ عوام کو مل پائےگا۔ یعنی بھوک آج لگی ہے مگر کھانا کل  ملے گا۔  
 عوام سے وزیراعظم  کے خطاب اور اس کے بعد وزیر مالیات نرملا سیتارمن کی یومیہ پریس کانفرنس سے کوئی اور فائدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو یہ تاثر تو ضرور مل رہا ہے کہ حکومت بہت زیادہ متحرک ہے۔ حکومت کو اس سے بھی بڑا فائدہ یہ  ہواہے کہ قومی میڈیا پر مزدوروں کی بدحالی کی خبروں کی جگہ اب معاشی اعلانات کی خبریں چھائی رہتی ہیں جو کچھ اس قدر گنجلک ہوتی ہیں کہ اقتصادی ماہرین اسٹوڈیو میں بیٹھ کر پیاز کی طرح ان کی پرتیں  کھولنے میں ہی گھنٹوں گزار دیتے ہیں مگر مباحثے کے خاتمے پر یقین  کے ساتھ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس نے جو سمجھا ہے وہی صحیح ہے۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ نرملا سیتارمن کی روزانہ کی پریس کانفرنس کی وجہ سے  مزدوروں کی یہ پریشانیاں  لوگوں  کی نظروں سے اوجھل ہوگئی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا اس معاملےمیں متحرک رول ادا کررہاہے اور غریب مزدوروں کی پریشانیاں تمام رکاوٹوں کو عبور کرکےعام آدمی  کے موبائل فون سے ہوتے ہوئے اس کےدل دماغ کو متاثر کررہی ہیں۔
 حکومت کی ا س بگڑتی ہوئی شبیہ کو سدھارنےکیلئے بی جےپی نے ’’مودی سرکار کے ۶؍ سال... بے مثال‘‘ کے عنوان سے اشتہاری مہم شروع کردی ہے۔ حکومت کی دوسری میعاد کے ایک سال مکمل ہونے کا جشن منایا جارہاہے۔ کچھ لوگ اسے مزدوروں کی لاشوں پر جشن سے تشبیہ دےرہے ہیں۔  یہ پوری طرح سے غلط بھی نہیں ہے۔ ملک کی سڑکیں حکومت کی ناکامی کی دہائی دے رہی ہیں، لوگ مہینوں کا پیدل سفر طے کرکے گھر پہنچ  رہے ہیں، کچھ تو گھر پہنچنے کے بجائے شمشان یا قبرستان پہنچ رہے ہیں۔ ایسے میں بی جےپی کا یہ جشن اس کی بے حسی کا ثبوت ہے۔ یہ جشن اس لئے بھی بے وقت کی راگنی ہے کہ ملک جہاں  مہاجر مزدوروں کی پریشانیوں سے جوجھ رہاہے وہیں حکومت کورونا وائرس سے نمٹنے کےمحاذ پر بھی بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے  وبا کے پھیلاؤ کو روکا تو جا سکا ہے مگراس کا کریڈٹ حکومت سے زیادہ عوام کو جاتا ہے جنہوں  نے اس میں مکمل تعاون کیا ہے۔ مرکز پر تو اس بات کیلئے تنقیدیں  ہورہی ہیں کہ  اس نےبلا سوچے سمجھے  لاک ڈاؤن  نافذ کیا۔ ۴؍ گھنٹے قبل اس کا اعلان کرتےہوئے نہ اس بات کو دھیان میں  رکھا گیا کہ دیہی ہندوستان کیلئے یہ فصل کی کٹائی کا وقت ہے، نہ اس کا خیال کیاگیا کہ اچانک لاک ڈاؤن کے بعد روز کنواں  کھودنے اور روز پانی پینے والوں کا کیا ہوگا۔ ۸؍ کروڑ مہاجر مزدوروں کے بارے میں تو شاید سوچا بھی نہیں گیا۔ یہی وجہ ہے کہ لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد جیسے جیسے مسائل سامنے آتےگئےان کیلئے الگ الگ جی آر نکالے جاتے رہے۔ ایک ایک فیصلے کےبعد اس میں کئی کئی بار کی ترمیم اس بات کا مظہر ہے کہ فیصلے سوچ سمجھ کر نہیں  لئےگئے بلکہ ذہن میں خیال آیا اور اسے فیصلے کی شکل میں نافذ کردیاگیا۔ پھر جو مسئلے ابھرتے رہے  انہیں حل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ 
 یہی وجہ ہے کہ ۲؍ ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد حکومت کو بالآخر شرمک ٹرینیں اور خصوصی پسینجر ٹرینیں چلانی پڑیں تاکہ لوگ اپنے گھروں کو جاسکیں مگر یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوا ،اسلئے لاکھوں کی تعداد میں لوگ پیدل نکلنے پرمجبور ہوئے۔ اب جبکہ ملک میں کورونا کے متاثرین کی تعداد  ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے، اتنے بڑے پیمانے پر شہروں سےگاؤں کی جانب لوگوں کی نقل مکانی سے اس بات کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ کورونا کی وبا گاؤں  گاؤں تک  پہنچ جائے گی۔  اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری  یقینی طورپر مرکزی حکومت کی ہی ہوگی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK