کانگریس نے بی جے پی کے قریب الختم دس سالہ دور حکومت کی ناکامیوں کو اُجاگر کرنے کی غرض سے ’’قرطاس اسود‘‘ (بلیک پیپر) جاری کیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 09, 2024, 10:15 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
کانگریس نے بی جے پی کے قریب الختم دس سالہ دور حکومت کی ناکامیوں کو اُجاگر کرنے کی غرض سے ’’قرطاس اسود‘‘ (بلیک پیپر) جاری کیا ہے۔
کانگریس نے بی جے پی کے قریب الختم دس سالہ دور حکومت کی ناکامیوں کو اُجاگر کرنے کی غرض سے ’’قرطاس اسود‘‘ (بلیک پیپر) جاری کیا ہے۔ یہ کانگریس کی فعالیت کا مظہر ہے کیونکہ اپنی بجٹ تقریر میں وزیر مالیات نرملا سیتا رمن یہ اعلان کرچکی تھیں کہ مودی حکومت عنقریب، کانگریس کی قیادت میں سابقہ یو پی اے حکومت کی دس سالہ ناکامیوں کا پردہ فاش کرنے کے مقصد سے ’’قرطاس ابیض‘‘ (وہائٹ پیپر) پیش کریگی۔ کانگریس نے اس سے پہلے ہی قرطاس اسود پیش کردیا۔ ان دونوں دستاویزات کے بغور مطالعہ کے بعد ہی کوئی رائے پیش کی جاسکتی ہے مگر جہاں تک اُصولی طریق کار کی بات ہے، موجودہ حکومت کو اپنے اب تک کے دس سالہ دورِ حکومت کی بات کرنی چاہئے نہ کہ سابقہ حکومت کی۔ یہ تب ممکن تھا جب اس حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا۔ اگر یہ ساری باتیں تب کی جاتیں تو کسی حد تک مان بھی لیا جاتا مگر ایک دہائی گزرنے کے بعد اُس دور میں جاکر وہاں کی مبینہ ناکامیوں کو شمار کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ موجودہ حکومت ایک طرف تو یہ کہتی ہے کہ دیش واسیوں کو مستقبل پر نگاہیں مرکوز کرنی چاہئیں، دوسری طرف عوام کو ماضی کی طرف لے جانے کی کوشش کرتی ہے جو کسی بھی زاویئے سے مناسب نہیں ہے۔ اگر اسے مناسب سمجھ لیا گیا تو عوام ماضی ہی میں کھوئے رہیں گے اور حال و مستقبل سے غافل رہنے کی جانب دھکیل دیئے جائینگے۔
کیا حکومت یہی چاہتی ہے کہ ماضی کے بخیئے اُدھیڑے جائیں؟ یا، قرطاس ابیض کے پس پشت کوئی اور مقصدبھی ہے؟ ہمارے خیال میں اس کا مقصد ایسے وقت میں کانگریس کو آڑے ہاتھوں لینا اور اس کی عوامی مقبولیت پر اثرانداز ہونا ہے جب لوک سبھا کا الیکشن قریب ہے۔ اگر کانگریس مورد الزام تھی، اس کی حکومت ناکام تھی اور اس کی کارگزاری اطمینان بخش نہیں تھی تو ۲۰۱۴ء اور ۲۰۱۹ء کے الیکشن میں عوام اسے سزا دے چکے ہیں۔ ایک بار نہیں دو بار سزا مل چکی ہے اس پارٹی کو، اب کیوں اس کو تختۂ مشق بنایا جائے؟
لطف کی بات یہ ہے کہ گزشتہ روز، جب راجیہ سبھا سے سبکدوش ہونے والے اراکین کو اُن کی خدمات کیلئے خراج تحسین پیش کیا جارہا تھا، تب وزیر اعظم مودی نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی تعریف کی۔ اُنہیں جمہوریت کو مستحکم کرنے والا بتایا مگر اسی دن اُن کی سربراہی میں جاری رہنے والی حکومت کو ’’آئینہ دکھانے‘‘ کی کوشش کی گئی! ۲۰۰۴ء سے ۲۰۱۴ء کے دوران اس کالم میں، ڈاکٹر منموہن سنگھ کی معاشی پالیسیوں پر کئی مرتبہ اظہار خیال کیا گیا ، مگر اس کے ساتھ ، تب بھی اور اب بھی، یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ملک کو معاشی پیش رفت کے قابل بنانے میں اُن کے رول سے انکار نہیں کیا جاسکتا، طریق کار سے بحث کی جاسکتی ہے۔ ہم نے اُس دور میں کئی مرتبہ حکومت کو ہدف تنقید بنایا کہ اگر معاشی ترقی ہوئی ہے تو اس کا فائدہ غریب ترین عوام تک کیوں نہیں پہنچتا، مگر، سچائی یہ بھی ہے کہ منموہن سنگھ کی ۱۹۹۰ء کی پالیسیوں کے بعد ہی سے ہمارے اور بیرونی دُنیا کے معاشی رشتوں میں غیر معمولی تبدیلی آئی جس کے سبب موجودہ حکومت نے عالمی سطح پر ہندوستان کی معاشی طاقت کو منوانے کی جانب قدم بڑھایا۔ اعدادوشمار اُلجھا سکتے ہیں مگر عوام صرف یہ دیکھتے ہیں کہ مہنگائی بڑھی یا گھٹی اور روزگار ملا یا نہیں۔ اس طرح اُن کی اپنی ریاضی ہے جس کی بنیاد پر وہ اپنے ووٹ کا فیصلہ کرتے ہیں۔