Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہاتھرس سانحہ کی دوبارہ جانچ کا کانگریس کا مطالبہ

Updated: May 22, 2026, 12:52 AM IST | New Delhi

مہیلا کانگریس کی صدرالکا لامبا نے کہا کہ اس کیس پر بنی ڈاکیومینٹری میں کئی حقائق اور ثبوت سامنے آئے ہیں لیکن اب تک ٹھوس کارروائی نہیںکی گئی ہے،ثبوتوں کے باوجود کارروائی نہ ہونے پر انہوں نے بی جے پی حکومت سے جواب مانگا

Mahila Congress President Alka Lamba during a press conference at the Congress headquarters.
مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا کانگریس کے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران

 کانگریس نے بی جے پی حکومت پر خواتین کے استحصال کے واقعات پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اتر پردیش کے ہاتھرس اجتماعی عصمت دری (گینگ ریپ) معاملے پر بنی ڈاکیومینٹری میں کئی حقائق اور ثبوت سامنے آئے ہیں لیکن اب تک اس معاملے میں کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی ہے، اسلئے پورے معاملے کی دوبارہ جانچ کرائی جانی چاہئے۔
 مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ہاتھرس میں ۱۴؍ ستمبر۲۰۲۰ء کو ایک دلت دوشیزہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا واقعہ ہوا تھا اور ۲۹؍ستمبر کو اس کی موت ہو گئی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ۳۰؍ ستمبر کی آدھی رات کو پولیس نے خاندان کی رضامندی کے بغیر لاش کی آخری رسوم ادا کر دیں جس سے پورے معاملے پر سنگین سوالات کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ نے متاثرہ خاندان کی ایک نہ سنی نیز خاندان کے افراد کو مبینہ طور پر گھر میں محصور کر دیا گیا اور بیٹی کا چہرہ تک نہیں دیکھنے دیا گیا۔ 
 الکا لامبا نے الزام لگایا کہ اس وقت لوک سبھا میں اپوزیشن  لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی کو متاثرہ خاندان سے ملنے سے روکا گیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت خاندان تک پہنچنے دیا گیا ہوتا تو انصاف کا عمل مختلف ہو سکتا تھا۔
 کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہاتھرس معاملے پر بنی دستاویزی فلم میں شامل ایک ماہر امراضِ نسواں نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ کو اسپتال لانے سے پہلے ثبوت مٹا دیے گئے تھے نیز اسے نہلایا اور صاف کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکیومینٹری میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ متاثرہ لڑکی کی ریڑھ کی ہڈی (اسپائنل کارڈ) ٹوٹ گئی تھی اور اسے گھسیٹا گیا تھا لیکن اسے ایمبولینس اور اسٹریچر تک فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ متاثرہ نے موت سے پہلے اپنے ساتھ ہوئے واقعے کی معلومات دی تھی لیکن اس کے بیان کو کافی اہمیت نہیں دی گئی۔
 الکا لامبا نے کہا کہ ہاتھرس جیسے سنگین معاملے میں پولیس کے کردار پر سوال اٹھے ہیں اور اگر وقت پر شواہد اکٹھے کیے گئے ہوتے نیز اہم ثبوت عدالت میں پیش کیے گئے ہوتے تو درندوں کو سزا مل سکتی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ ڈاکیومینٹری میں سامنے آئے حقائق کی بنیاد پر اتر پردیش پولیس اب تک کارروائی کیوں نہیں کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ۲؍ مارچ۲۰۲۳ء کو عدالت نے اس معاملے کے ۴؍ ملزموں میں سے ۳؍ کو بری کر دیا تھا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ معاملے کی جانچ کمزور کی گئی جس کی وجہ سے انصاف متاثر ہوا ۔ الکا لامبا نے بی جے پی حکو مت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ہاتھرس سے متعلق ڈاکیومینٹری میں سامنے آنے والے مبینہ نکات اور شواہد پر اتر پردیش پولیس کوئی کارروائی کرے گی یا نہیں؟ واضح رہے کہ ہاتھرس معاملہ ملک کے سب سے زیادہ زیر بحث اور حساس معاملات میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ اس اندوہناک واقعہ پر عدالتی اور سیاسی سطح پر طویل بحث بھی ہوتی رہی ہے۔
 واضح رہے۲۰۲۰ء کے ہاتھرس سانحہ پرپیٹرک گراہم کی ہدایت کاری میںبنی دستاویزی سیریز’ ہاتھرس ۱۶؍ڈیز‘۱۵؍ مئی کومنظر عام پرآئی ۔اس تحقیقاتی سیریز کی کہانی دلت لڑکی کے ساتھ کی گئی حیوانیت ، اس کی موت ، گھروالوںکو بتائے بغیر آدھی رات کو کئے گئے انتم سنسکار،متضاد بیانیے، ادارہ جاتی ناکامی اوراس پورے معاملے پر ملک گیر ہونے والی بحث پر مبنی ہے۔

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK