حضور ؐ پر درود و سلام غم و فکر سے حفاظت کا ذریعہ

Updated: September 09, 2022, 1:54 PM IST | Dr. Abd al-Bari bin Awad Thabiti | Mumbai

حضرت ابو سعید الخدری ؓسے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں ایک انصاری صحابی کو دیکھا جن کا نام ابو امامہؓ تھا۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

حضرت ابو سعید الخدری ؓسے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں ایک انصاری صحابی کو دیکھا جن کا نام ابو امامہؓ تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ’’اے ابو امامہ! کیا بات ہے کہ میں تمہیں نماز کے علاوہ دیگر اوقات میں بھی مسجد میں بیٹھا ہوا دیکھتا ہوں؟‘‘ انہوں نے کہا:اے اللہ کے رسول ﷺ! کچھ فکر اور قرض ہیں جس میں میں ڈوبا ہوا ہوں۔یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا:’’ کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ جب تم اُن کے ذریعے دُعا کرو گے تواللہ تعالیٰ تمہاری فکر مندیوں کو دور کردے گا اور تمہارے قرضے اتاردے گا۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ ! تو رسولؐ اللہ نے فرمایا:”تم صبح و شام یہ دعا پڑھا کرو: اے اللہ میں فکر و غم سے تیری پناہ چاہتاہوں اور عاجزی و سستی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور بزدلی اور بخیلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اور قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ (سنن ابی داؤد)
بسا اوقات کسی آدمی کی کوئی ایسی بات آپ کے کانوں سے ٹکراتی ہے جو آپ کی نیند حرام کردیتی ہے ،آپ کی زندگی کو خار زار بنادیتی ہے اور آپ کو فکر و غم میں مبتلا کردیتی ہے تو اس کا علاج اُس الٰہی طریقے میں پوشیدہ ہے جو آپ کے دل سے فکر و غم کوایسے ہی دور کردے گا جیسا کہ اُس نے ہمارے نبی کریم ﷺ کے دل سے دور کیا تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’پس آپ کو ان کی بات غمناک نہ کرے، ہم ان کی پوشیده اور علانیہ سب باتوں کو (بخوبی) جانتے ہیں۔‘‘ (یٰسین:۷۶)یعنی آپ اپنے نفس کو رنجیدہ نہ کریں اور اپنے رب پر پھروسہ رکھئے اور اپنے معاملات کو اللہ کے سپر د کردیجئے ۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو تو وہ کبھی غمزدہ نہیں ہوگا۔آپ ﷺ کا رب مہلت دیتاہے لیکن غافل نہیں ہے۔ جو شخص زندگی کی پریشانیوں پر مجبوری میں نہیں بلکہ رضامندی کےساتھ صبر کرتاہے اور اللہ تعالیٰ سے نیکی کی امید رکھتاہے تو اللہ تعالیٰ اُسے اس مصیبت سے زیادہ بہتر بدلہ عطا فرماتاہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’جنہیں، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ (البقرہ: ۱۵۶۔۱۵۷)اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ اور اُن کی امت پر یہ فضل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کو ایسا ذکر قرار دیا جو غم سے بچاؤ اور فکرمندی سے حفاظت کا ذریعہ ہے جیسا کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کےرسول ﷺ! میں آپ پر بہت زیادہ درود و سلام پڑھتاہوں تو میں اپنی دُعا کا کتنا حصہ آپؐ پر درودوسلام پڑھنے کےلئے خاص کردوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:تم جتنا چاہو کرو،راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: چوتھائی حصہ کرلوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جتنا چاہو کرو ،اور اگر اس سے بھی زیادہ کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔تو میں نے کہا : آدھا حصہ کرلوں ؟ تو آپ ﷺ فرمایا: تم تنا چاہو کرو ،اور اگر اس سے بھی زیادہ کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا : دو تہائی حصہ کرلوں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم تنا چاہو کرو ،اور اگر اس سے بھی زیادہ کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔تو میں نے کہا : کیا میں اپنی تمام دعا میں صرف آپ ﷺ پر درود وسلام بھیجوں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر ایسا کرتے ہو تو تمہارے سارے غم دور کردیئے جائیں گے اور تمہارے گناہ بخش دئے جائیں گے ۔ (سنن ترمذی)لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ایک فکر مندی ایسی بھی ہے جو دوسری فکرمندیوں کو دور کردیتی ہے اور سارے غموں کو مٹادیتی ہے ۔اس سے کبھی نہ ختم ہونے والی سعادت، کبھی نہ دور ہونے والا اطمینان اور ایسی اُنسیت حاصل ہوتی ہے جس کا کوئی موازنہ نہیں ۔ اور یہ آخرت کی فکر ہے جو سینوں کو کھول دیتی ہے اور نفس کو راحت بخشتی ہے۔ اور جب انسان کی زندگی آخرت کی فکر سے بھر جائے اور دوسری فکر مندیوں پر غالب آجائے تو تمام بُری فکر مندیاں زائل ہوجاتی ہیں اور وہ ہیچ اور کمتر معلوم ہونے لگتی ہیں اور اُن کے چور دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔پھر ایک مسلمان کی حالت پاکیزہ ہوجاتی ہے ،وہ گھٹیا چیزوں کی فکر سے اوپر اُٹھ جاتا ہے اور بلندیوں پر پہنچ جاتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK