۱۵؍ اکتوبر اے پی جے کلام کا یومِ پیدائش دنیا بھر میں یومِ طالب علم کے نام سے اور ہمارے ملک میں یومِ ترغیب ِ مطالعہ کے نام سے منایا جاتا ہے اور یہ ان کی علمی اور فکری تفاخر کی پہچان ہے۔
EPAPER
Updated: January 22, 2026, 4:54 PM IST | Jawaria Qazi | Mumbai
۱۵؍ اکتوبر اے پی جے کلام کا یومِ پیدائش دنیا بھر میں یومِ طالب علم کے نام سے اور ہمارے ملک میں یومِ ترغیب ِ مطالعہ کے نام سے منایا جاتا ہے اور یہ ان کی علمی اور فکری تفاخر کی پہچان ہے۔
۱۵؍ اکتوبر اے پی جے کلام کا یومِ پیدائش دنیا بھر میں یومِ طالب علم کے نام سے اور ہمارے ملک میں یومِ ترغیب ِ مطالعہ کے نام سے منایا جاتا ہے اور یہ ان کی علمی اور فکری تفاخر کی پہچان ہے۔ کسی دانشمند کیلئے یہ اعزاز اس کے قد کا اندازہ بتانے کیلئے کافی ہے ایسی شخصیت جو وقت کی رفتار میں ٹھہر جائے عبقری اور نابغہ کہلانے کی حقدار ہے ۔
کتاب انسان کی سب سے سچی ، خاموش اور مخلص دوست ہے۔ جس طرح پھول خوشبو بکھیرتے ہیں، اسی طرح کتابیں علم اور فکر کی روشنی پھیلاتی ہیں۔ ریڈنگ ڈے دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ مطالعہ نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ انسانی ذہن کی تربیت، کردار کی تعمیر اور شعور کی بیداری کا سب سے مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ ریڈنگ ڈے منانے کا مقصد طلبہ اور عام لوگوں میں کتابوں کے مطالعے کی عادت کو فروغ دینا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں جب موبائل اسکرینوں نے کتابوں کی جگہ لے لی ہے، تو ایسے میں ریڈنگ ڈے ایک تازہ ہوا کا جھونکا بن کر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ الفاظ کی خوشبو اب بھی صفحات میں بسی ہے۔کتاب پڑھنا محض وقت گزارنا نہیں بلکہ ایک فکری سفر ہے۔ ہر صفحہ ہمیں سوچنے، سمجھنے اور زندگی کے نئے زاویوں کو پہچاننے کا موقع دیتا ہے۔ تاریخ کی کتابیں ہمیں ماضی سے جوڑتی ہیں، سائنسی کتابیں تحقیق کا شعور جگاتی ہیں، جب کہ ادب کی کتابیں ہمارے احساسات کو نکھارتی ہیں۔ ریڈنگ ڈے کے موقع پر اسکولوں اور کالجوں میں کتاب میلے، ریڈنگ کمپٹیشن، کہانی سنانے کے پروگرام اور لائبریری وزٹ جیسے اقدامات طلبہ میں مطالعہ کی دلچسپی پیدا کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جو قوم پڑھتی ہے، وہی آگے بڑھتی ہے۔ہم کتاب کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ کیونکہ ریڈنگ ڈے صرف ایک دن نہیں، بلکہ ایک فکری جشن ہے علم، روشنی اور شعور کی بیداری کا جشن۔
آج کا دور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا ہے۔ مشینیں انسان کی طرح سوچنے، لکھنے، اور یہاں تک کہ بات کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔ معلومات ایک کلک پر دستیاب ہیں۔ ایسے زمانے میں اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ جب سب کچھ آن لائن اور خودکار ہو گیا ہے تو کیا کتاب پڑھنے اور ریڈنگ ڈے کی کوئی اہمیت باقی رہ گئی ہے؟درحقیقت، ریڈنگ ڈے کی اہمیت آج کے دور میں اور بھی بڑھ گئی ہے۔مصنوعی ذہانت ہمیں معلومات تو دے سکتی ہے، مگر دانش اور فہم نہیں۔ کتاب پڑھنے سے جو گہرائی، توجہ، اور تفکر پیدا ہوتا ہے، وہ کسی مشین یا سرچ انجن سے حاصل نہیں ہو سکتا۔کتاب ہمیں سوچنے کا سلیقہ، محسوس کرنے کا شعور اور جینے کا نظریہ سکھاتی ہے۔ جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہم صرف الفاظ نہیں پڑھتے، بلکہ ہم انسانی تجربات، تخیلات اور جذبات سے جڑتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اعداد و شمار فراہم کر سکتی ہے، مگر وہ انسانی احساسات کو سمجھ نہیں سکتی۔یہ دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہم علم کے طالب رہیں، صرف صارف نہیں۔ کتاب ہمیں وہ ’’انسانی پہلو‘‘ دیتی ہے جو ٹیکنالوجی کے شور میں کھو جاتا ہے۔ لہٰذا، مصنوعی ذہانت کے اس دور میں ریڈنگ ڈے منانا صرف ایک روایت نہیں بلکہ ایک فکری ضرورت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ٹیکنالوجی ہماری مدد کر سکتی ہے، مگر انسانیت کو زندہ رکھنے کا کام صرف مطالعہ ہی کر سکتا ہے۔
یہ صرف ایک دن کا نام نہیں بلکہ سوچنے، سمجھنے اور علم سے محبت کرنے کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مطالعہ زندگی کا وہ روشن چراغ ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و آگاہی کی روشنی میں لے آتا ہے۔کتابوں کا مطالعہ ایک مقدس عمل ہے، کیونکہ کتابیں ہی انسان کی فکری اور اخلاقی تعمیر کرتی ہیں۔ یومِ ترغیب ِ ، مطالعہ کے موقع پر ہمارا پہلا فریضہ یہ ہونا چاہئے کہ ہم کتاب سے اپنی دوستی کو دوبارہ زندہ کریں۔ہماری ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ ہم خود پڑھیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کو پڑھنے کی ترغیب دیں۔ بچوں میں کتابوں کا شوق پیدا کریں، دوستوں کے ساتھ علمی گفتگو کریں، اور گھر میں مطالعے کا ماحول بنائیں۔کیونکہ ایک باشعور معاشرہ وہی ہوتا ہے جو پڑھنے اور سمجھنے کی عادت رکھتا ہے۔آج کے ڈیجیٹل دور میں جب سوشل میڈیا نے توجہ کو منتشر کر دیا ہے، تو ریڈنگ ڈے ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ کتاب ہی وہ ذریعہ ہے جو سوچنے کی طاقت اور فیصلہ کرنے کی بصیرت عطا کرتی ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی کرے، نوجوان باشعور بنیں، اور قوم مضبوط ہو، تو ہمیں مطالعے کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ یہی ریڈنگ ڈے کا اصل پیغام اور ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ مطالعہ انسان کی ذہنی، اخلاقی اور فکری تربیت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسی عادت ہے جو نہ صرف طالبِ علم بلکہ ہر انسان کے لیے زندگی بھر مفید رہتی ہے۔ علم حاصل کرنے کی کوئی عمر نہیں، اور پڑھنے کا شوق انسان کو ہر مرحلے پر ترقی کی راہ دکھاتا ہے۔
بچپن میں مطالعہ انسان کے اندر تجسس، سیکھنے کی خواہش اور الفاظ سے محبت پیدا کرتا ہے۔ کہانیاں، نظمیں اور تعلیمی کتابیں بچوں کے ذہن کو وسیع کرتی ہیں اور ان میں اخلاقی قدریں بیدار کرتی ہیں۔جوانی میں مطالعہ شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ نوجوان جب اچھی کتابیں پڑھتے ہیں تو وہ مثبت سوچ، مقصدیت، اور اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ اس عمر میں مطالعہ انسان کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے راستے دکھاتا ہے۔ بلوغت اور عمر رسیدگی میں مطالعہ ذہن کو تازہ اور فعال رکھتا ہے۔ کتابیں انسان کو تنہائی میں ہم سفر اور فکر میں ہم راز بن جاتی ہیں۔ درحقیقت، مطالعہ وہ ساتھی ہے جو وقت، عمر یا حالات کی قید سے آزاد ہے۔ جو پڑھتا ہے، وہ سیکھتا ہے، اور جو سیکھتا ہے، وہ بہتر انسان بنتا ہے۔لہٰذا، چاہے ہم طالب ِ علم ہوں یا استاد، نوجوان ہوں یا بزرگ ہمیں کتاب سے اپنا رشتہ کبھی نہیں توڑنا چاہئےکیونکہ مطالعہ صرف علم نہیں دیتا، بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔
شاعر معاشرے کا نباض بھی ہوتا ہے۔ گلزار کی نظم ”کتابیں“ ایک درد بھری یاد دہانی ہے کہ کتابیں صرف کاغذ کے اوراق نہیں، بلکہ وہ رشتوں، یادوں اور احساسات کی امانت ہیں۔شاعر کہتا ہے کہ الماری کے شیشوں کے پیچھے بند کتابیں حسرت سے جھانکتی ہیں جیسے کوئی پرانا دوست انتظار میں ہو کہ کوئی آئے، اسے چھوئے، اسے کھولے، اس کے اندر چھپی خوشبو اور لفظوں کو محسوس کرے۔یومِ ترغیب ِ مطالعہ پریہ عہد کریں :
(۱)کتابوں سے دوبارہ دوستی : ریڈنگ ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کتابوں کو صرف سجاوٹ نہیں بلکہ اسے دوست سمجھا جائے۔
(۲) لمس اور لفظ کا رشتہ بحال کرنا:ڈیجیٹل اسکرین کی روشنی کے بجائے صفحے کے لمس میں وہ سکون ہے جو دل کو روشنی دیتا ہے۔
(۳)مطالعے کی خوشبو واپس لانا: ریڈنگ ڈے ان یادوں کو واپس لانے کی دعوت ہے کہ مطالعہ صرف علم نہیں، بلکہ احساس کا سفر ہے۔
(۴)نئی نسل کو کتابوں سے جوڑنا:گلزار کی نظم ایک تنبیہ ہے نئی نسل کیلئے کہ اگر کتابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا تو زبان، تخیل اور تہذیب و تاریخ سب مدھم پڑ جائیں گے۔
(۵) ریڈنگ ڈے: ایک تحریک، ایک وعدہ کہ ہم کتابوں سے رشتہ دوبارہ زندہ کریں گے۔