رشوت: محنت کے بغیر حاصل ہونے والی آمدنی سے بچیں

Updated: September 25, 2020, 12:05 PM IST | Mufti Mohammed Taqi Usmani

یہ خسارہ کیا کم ہے کہ نبی کریمؐ نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت بھیجی ہے۔ اس کے علاوہ دنیوی مصیبتیں بھی کم نہیں

Money - Pic : INN
روپے ۔ تصویر : آئی این این

بعض برائیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں لوگوں کی رائیں مختلف ہوسکتی ہیں۔ ایک شخص کے نزدیک وہ برائی ہے  اور دوسرا اسے کوئی عیب نہیں سمجھتا لیکن رشوت ایک ایسی برائی ہوتی ہے جس کے بُرا ہونے پر ساری دنیا متفق ہے۔ کوئی مذہب و ملت، کوئی مکتب فکر یا انسانوں کا کوئی طبقہ ایسا نہیں ملے گا جو رشوت کو بدترین گناہ یا جرم نہ سمجھتا ہو، حد یہ ہے کہ جو لوگ دن کے وقت دفتروں میں بیٹھ کر دھڑلے سے رشوت کا لین دین کرتے ہیں وہ بھی جب شام کو کسی محفل میں معاشرے کی خرابیوں پر تبصرہ کریں گے تو ان کی زبان پر سب سے پہلے رشوت کی گرم بازاری ہی کا شکوہ آئے گا اور اس کی تائید میں وہ (اپنے نہیں) اپنے رفقائے کار کے دوچار واقعات سنا دیں گے، سننے والے یا تو ان واقعات پر ہنسی مذاق میں کچھ فقرے چست کردیں گے یا پھر کوئی بہت سنجیدہ محفل ہوئی تو اس میں غم و غصہ کا اظہار کیا جائے گا لیکن اگلی ہی صبح سے یہی شرکائے مجلس پورے اطمینان کے ساتھ اسی کاروبار میں مشغول ہوجائیں گے ۔
غرض رشوت کی خرابیوں سے پوری طرح متفق ہونے کے باوجود کوئی شخص جو اس انسانیت سوز حرکت کا عادی ہوچکا ہو اسے چھوڑنے کے لئےتیار نظر نہیں آتا اور اگر اس کے بارے میں کسی سے کچھ کہا جائے تو مختصر ساجواب یہ ہے کہ ساری دنیا رشوت لے رہی ہے تو ہم کیاکریں؟ گویا ان کے نزدیک رشوت چھوڑنے کی شرط یہ ہے کہ پہلے دوسرے تمام لوگ اس برائی سے تائب ہوجائیں تب ہی چھوڑنے پر غور کرسکتا ہوں اس کے بغیر نہیں اور چونکہ رشوت لینے والے کے پاس بھی بہانہ ہے لہٰذا یہ تباہ کن بیماری ایک وبا کی شکل اختیار کرچکی ہے ۔
ظاہر ہے کہ یہ ایک استدلال نہیں ایک بہانہ ہے اور بات صرف یہ ہے کہ رشوت لینے والے کو اپنے اس عمل میں فوری طور سے کافی فائدہ ہوتا نظر آتا ہے اس لئے نفس اس فائدے کو حاصل کرنے کے لئے ہزار حیلے بہانے تراش لیتا ہے لیکن آئیے ذرا یہ دیکھیں کہ کیا رشوت لینے میں واقعتاً کوئی فائدہ ہےیا نقصان ہے؟ بظاہر تو رشوت لینے میں یہ کھلا فائدہ نظر آتا ہے کہ ایک شخص کی آمدنی کسی زائد محنت کے بغیر بڑھتی جاتی ہے لیکن اگر ذرا باریک بینی سے کام لیا جائے تو اس وقتی فائدے کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک ٹائیفائڈ میں مبتلا بچے کو چٹ پٹی غذاؤں میں بڑا لطف آتا ہے لیکن بچے کے ماں باپ یا اس کے معالج جانتے ہیں کہ یہ چند لمحوں کا فائدہ نہ صرف اس کی تندرستی کو دور سے دور تر کردےگا بلکہ انجام کار اسے زیادہ طویل عرصہ تک لذیذ غذاؤں سے محروم ہوجانا پڑے گا۔
یہ مثال صرف رشوت کے اخروی نقصانات پر ہی صادق نہیں آتی بلکہ ذراانصاف سے کام لیا جائے تو رشوت کے دنیوی نقصانات کے بارے میں بھی اتنی ہی سچی ہے ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جب معاشرے میں یہ لعنت پھیل جاتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی ایک جگہ سے کوئی رشوت وصول کرتا ہے تو اسے دسیوں جگہ خود رشوت دینی پڑتی ہے بظاہر تو ممکن ہے کہ اسے آج سوروپے زیادہ ہاتھ آگئے لیکن کل جب اسے خود دوسرے لوگوں سے کام پڑےگا تو یہ سو روپے نہ جانے کتنے سو ہوکر خود اس کی جیب سے نکل جائیں گے۔
رشوت کے یہ دنیوی نقصانات تو اجتماعی نوعیت کے ہیں اور بالکل سامنے کے ہیں ، لیکن اگر ذرا اور گہری نظر سے دیکھئے تو خاص رشوت لینے والے کی انفرادی زندگی بھی رشوت کی تباہ کاریوں سے محفوظ نہیں رہتی ۔ حدیث میں ہے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے رشوت دینے والے پر بھی ، رشوت لینے والے پر بھی اور رشوت کے دال پر بھی ۔
جس ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کے حق میں بھی دعائے خیر ہی کی ہو اس ذاتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی شخص پر لعنت بھیجنا معمولی بات نہیں ۔ اس کا اثر آخرت میں تو ظاہر ہوگا ہی، لیکن دنیا میں بھی یہ لوگ اس لعنت کے اثر سے بچ نہیں سکتے  چنانچہ جو لوگ معاشرے کو تباہی کے راستے پر ڈال کر، حق داروں کا دل دکھا کر، غریبوں کا حق چھین کر اور ملت کی کشتی میں سوراخ کرکے رشوت لیتے ہیں بظاہر ان کی آمدنی میں خواہ کتنا ہی اضافہ ہوجاتا ہو، لیکن اطمینان نہیں رہتا۔  خوشحالی اور راحت و آسائش روپے پیسے کے ڈھیر، عالیشان مکانات، شاندار گاڑیاں اور اپ ٹو ڈیٹ فرنیچر کا نام نہیں ہے، بلکہ دل کے اس سکون اور روح کے اس قرار اور ضمیر کے اس اطمینا ن کا نام ہے جسے کسی بازار سے کوئی بڑی سے بڑی قیمت دے کر بھی نہیں خریدا جاسکتا ، یہ صرف اور صرف اللہ کی دین ہوتی ہے ، جب اللہ تعالیٰ کسی کو یہ دولت دیتا ہے تو ٹوٹے جھوپڑے، کھجور کی چٹائی اور ساگ روٹی میں بھی دے دیتا ہے اور کسی کو نہیں دیتا تو شاندار بنگلوں، چمچماتی کاروں اور دن رات جاری رہنے والے کارخانوں میں بھی نصیب نہیں ہوتی ۔
آج اگر آپ کو رشوت کے ذریعے کچھ زائد آمدنی ہوگئی ہے، لیکن ساتھ ہی کوئی بچہ بیمار پڑگیا ہے تو کیا یہ زائد آمدنی آپ کو کوئی سکون دے سکے گی؟ آپ کی ماہانہ آمدنی کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے، لیکن اگر اسی تناسب سے گھر میں ڈاکٹر اور دوائیں آنے لگی ہیں تو آپ کو کیا ملا؟اور اگر فرض کیجئے کہ کسی نے مرمارکر رشوت کے روپے سے تجوریاں بھر لیں، لیکن اولادنے باغی ہوگر زندگی اجیرن بنادی، داماد نے جینا دوبھر کردیا، یا اسی قسم کی کوئی اور پریشانی کھڑی ہوگئی تو کیا یہ ساری آمدنی اسے کوئی راحت پہنچاسکے گی ؟
واقعہ یہ ہے کہ ایک مسلمان اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے باغی ہوکر روپیہ تو جمع کرسکتا ہے لیکن اس روپے کے ذریعے راحت و سکون حاصل کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔ عام طور سے ہوتا یہ ہے کہ حرام طریقے سے کمائی ہوئی دولت پریشانیوں اور آفتوں کا ایسا چکر لے کر آتی ہے جو عمر بھر انسان کو گردش میں رکھتا ہے۔ قرآن کریم  میں فرمایا گیا: ’’جو لوگ یتیموں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں نری آگ بھرتے ہیں، اور وہ جلد ہی دہکتی ہوئی آگ میں جا گریں گے۔‘‘ (النساء:۱۰)
بعض لوگ یہ سوچتےہیں کہ اگر تنہا میں نے رشوت ترک کردی تو اس سے پورے معاشرے پر کیا اثر پڑے گا؟ لیکن یہی وہ شیطان کا دھوکہ ہے جومعاشرے سے اس لعنت کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جب ہر شخص دوسرے کا انتظار کرے گاتومعاشرہ کبھی اس لعنت سے پاک نہیں ہوگا۔ آپ رشوت کو ترک کرکے کم ازکم خود اس کے دنیوی اور آخرت کے نقصانات سے محفوظ ہوسکیں گے، اس کے بعد آپ کی زندگی دوسروں کے لئے نمونہ بنے گی، کیا بعید ہے کہ آپ کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اس لعنت سے تائب ہوجائیںاور کیا عجب ہے کہ معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ ہی کو منتخب کیا ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK