مواخات کا معنی ہے بھائی چارہ، بھائی بندی۔ عصر ِ حاضر کا معاشی بحران محض قیمتوں میں اضافے یا مالیاتی خسارے کا نام نہیں ، بلکہ یہ انسان اور معیشت کے باہمی رشتے کے ٹوٹ جانے کا بحران ہے۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 4:29 PM IST | Dr. Zaheer Ahmed Siddiqui | Mumbai
مواخات کا معنی ہے بھائی چارہ، بھائی بندی۔ عصر ِ حاضر کا معاشی بحران محض قیمتوں میں اضافے یا مالیاتی خسارے کا نام نہیں ، بلکہ یہ انسان اور معیشت کے باہمی رشتے کے ٹوٹ جانے کا بحران ہے۔
مواخات کا معنی ہے بھائی چارہ، بھائی بندی۔ عصر ِ حاضر کا معاشی بحران محض قیمتوں میں اضافے یا مالیاتی خسارے کا نام نہیں ، بلکہ یہ انسان اور معیشت کے باہمی رشتے کے ٹوٹ جانے کا بحران ہے۔ آج کی معاشی پالیسیاں اگرچہ شرحِ نمو اور قرضوں پر مرکوز ہیں ، مگر یہ اس بنیادی سوال سے عاری ہیں کہ معیشت کا اصل ہدف کیا ہے؟ اس کا جواب قرآنِ حکیم کے اس ابدی اصول میں مضمر ہے جو دولت کی منصفانہ گردش کا ضامن ہے۔ فرمایا:
’’تاکہ مال صرف مال داروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے۔ ‘‘ (الحشر: ۷)
یہ آیت معاشی مرکزیت کو توڑنے اور دولت کو معاشرے کی تمام سطحوں تک پہنچانے کا واضح حکم ہے۔ اسی قرآنی فلسفے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے حضور ﷺ نے ایک ایسے سماجی نظام کی بنیاد رکھی جس میں ہر فرد کی تکلیف ایک جسم کی طرح پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ نبوی نظامِ مواخات اسی جسمانی وحدت کو معاشی سطح پر نافذ کرنے کا ایک مستند نمونہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سکون، مودّت اور رحمت
ہجرتِ مدینہ محض ایک جغرافیائی نقل مکانی یا دو مقامات کے درمیان کا سفر نہیں تھا، بلکہ یہ ایک تہذیبی اور معاشی چیلنج تھا۔ مکہ سے آنے والے مہاجرین وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ کی رضا کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا۔ مدینہ میں ان کی آمد نے ایک ایسا انسانی بحران پیدا کیا جسے سنبھالنا محض خوراک اور رہائش کا انتظام کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک نئے سماجی تانے بانے کی تشکیل کا مرحلہ تھا۔ رسولؐ اللہ نے اس صورتِ حال کو ایک خیراتی تقسیم کے بجائے مستقل بحالی کے ایجنڈے کے طور پر دیکھا۔ آپؐ بخوبی جانتے تھے کہ مہاجرین کو معاشرے میں باوقار مقام دلانے کے لئے انہیں محتاج کی صف سے نکال کر کارکن کی صف میں لانا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کی بے سروسامانی کا نقشہ یوں کھینچا:
’’یہ مال ان مہاجر فقراء کے لئے ہے جنہیں ان کے گھروں اور جائیدادوں سے نکال دیا گیا، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا تلاش کرتے ہیں۔ ‘‘ (الحشر:۸)
قرآن نے مہاجرین کو فقراء کہا، مگر ان کی پہچان ان کی جدوجہد اور فضلِ الٰہی کی تلاش سے کرائی۔ آج کے معاشی بحران جیسے بے گھر مہاجرین، سیلاب زدگان یا معاشی پناہ گزین کے لئے سبق یہ ہے کہ امداد کا مقصد محض ان کا پیٹ بھرنا نہیں ، بلکہ ان کی اس جدوجہد کو بحال کرنا ہے جو انہیں معاشرے کا فعال رکن بنا سکے۔
مواخات: خیرات نہیں بلکہ ایک سماجی تعمیر ِ نو
ہجرت کے بعد نبی کریمؐ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان اخوت کا جو نظام قائم کیا، وہ سماج کے لئے ایسی انقلابی سماجی تدبیر تھی جس نے اجنبیت کو تعلق میں اور بے وسیلہ کو خود انحصاری میں بدل دیا۔ مواخات کو محض جذباتی بھائی چارہ کہنا اس کے معاشی اثرات کو کم کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جس نے ہر فرد کو ایک خاندان سے جوڑ کر سماجی تنہائی کا خاتمہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ایثار کا قرآنی اصول سورہ حشر میں یوں بیان فرمایا ہے: ’’ وہ (انصار) اپنی جانوں پر (مہاجرین کو) ترجیح دیتے ہیں ، اگرچہ خود انہیں کتنی ہی شدید حاجت ہو۔ ‘‘ (الحشر۹)
یہ بھی پڑھئے: حیات ِ نبویؐ سے سادگی اور اعتدال کا درس حاصل کرلیں
یہ آیت انصارِ مدینہ کی اس اعلیٰ ظرفی کی عکاسی کرتی ہے جس میں ایثار کا جذبہ موجود تھا۔ آج کے دور میں سماجی ذمہ داری کے تصور کو اسی ایثار کی روح سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ یہ صرف کمپنی کی شہرت کا ذریعہ نہ رہے بلکہ معاشرے کے نچلے طبقے کی حقیقی بیداری کا سبب بنے۔
ایثار اور خود کفالت کا حسین امتزاج
مواخاتِ مدینہ کا معاشی فلسفہ حضرت سعد بن ربیعؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے اس تاریخی مکالمے میں مضمر ہے جو آج بھی اسلامی معاشیات کا زریں اصول ہے۔ امام بخاریؓ کے مطابق، جب حضرت سعدؓ نے اپنی نصف دولت پیش کی، تو حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے نہایت شائستگی سے جواب دیا:’’ اللہ آپ کے اہل و مال میں برکت عطا فرمائے، آپ بس مجھے بازار کا راستہ دکھا دیں۔ ‘‘
یہ واقعہ عصرِ حاضر کی غربت کش پالیسیوں کے لئے تین اہم معاشی اسباق کا حامل ہے:
(۱) صاحبِ ثروت پر لازم ہے کہ وہ دولت کو اپنے تک محدود نہ رکھے بلکہ اس کی گردش اور سماجی تقسیم کو یقینی بنائے۔
(۲) مستحق ِ امداد کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ کسی غیر مشروط کفالت پر انحصار کر کے اپنی خود انحصاری کو مجروح نہ کرے، بلکہ ہنر اور محنت کے ذریعے روزگار کے مواقع تلاش کرے۔
(۳) یہ واقعہ سرمایہ دارانہ بے رحمی اور مفلوج کر دینے والی امداد کے درمیان ایک متوازن راستہ دکھاتا ہے۔
معاشی عدم تحفظ: دولت کی کمی نہیں ، تعلق کی شکست
غربت کے خاتمے کے لئے محض دولت کی فراوانی کافی نہیں ، بلکہ معاشی رشتوں کی بحالی ناگزیر ہے۔ درحقیقت، موجودہ بحران دولت کی قلت سے زیادہ تعلق کی شکست کا نام ہے۔ جب معاشرے سے مواخات کی روح، یعنی اپنے ہمسائے کی فکر وغیرہ، ختم ہو جاتی ہے، تو پورا نظام استحصالی ہو جاتا ہے۔ امام بیہقی اپنی سنن کبریٰ میں ایک حدیث ذکر فرماتے ہیں جس میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
’’وہ مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا رہے۔ ‘‘ (بیہقی، السنن الکبریٰ)
یہ حدیث ِ نبویؐ مواخات کے اس معاشی اصول کا خلاصہ ہے جس میں فرد کی خوش حالی، اس کے پہلو میں بسنے والے کی ذمہ داری سے جڑی ہے۔ آج کی معاشی پالیسیوں میں ہمیں یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہمارا نظام اس سماجی ذمہ داری کو یقینی بناتا ہے؟ اگر نہیں ، تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہم نے مواخات کے معاشی فلسفے کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔