خاندانی زندگی کے ۳؍ بنیادی ستون ہیں۔سکون سے مراد دل کا اطمینان، مودّت سے مراد باہمی محبت اور رحمت سے مراد ایک دوسرے کی کمزوریوں پر درگزر اور تعاون ہے۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 4:23 PM IST | Haafizah Sahar Ambarin | Mumbai
خاندانی زندگی کے ۳؍ بنیادی ستون ہیں۔سکون سے مراد دل کا اطمینان، مودّت سے مراد باہمی محبت اور رحمت سے مراد ایک دوسرے کی کمزوریوں پر درگزر اور تعاون ہے۔
اسلام نے خاندان کو محض سماجی ضرورت یا معاشرتی ادارہ قرار نہیں دیا بلکہ اسے انسانی تہذیب، اخلاقی تربیت اور روحانی ارتقاء کی بنیاد بنایا ہے۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خاندان وہ اولین درس گاہ ہے جہاں محبت، ایثار، ذمہ داری، احترام اور بندگیِ الٰہی کی صفات پروان چڑھتی ہیں۔ اگر خاندان صالح ہو تو معاشرہ صالح بنتا ہے، اور اگر خاندان کمزور ہو جائے تو پورا معاشرہ اخلاقی اور فکری بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔
اسی حقیقت کے پیشِ نظر قرآن مجید نے نکاح کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا اور میاں بیوی کے تعلق کو صرف قانونی معاہدہ نہیں بلکہ سکون، محبت اور رحمت کا سرچشمہ قرار دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ ‘‘ (سورۃ الروم: ۲۱)
یہ بھی پڑھئے: اے کہ تیرا جمال ہے زینتِ محفلِ حیات
اس آیتِ کریمہ میں خاندانی زندگی کے تین بنیادی ستون بیان کئے گئے ہیں : سکون، مودّت اور رحمت۔ سکون سے مراد قلبی اطمینان، مودّت سے مراد باہمی محبت، جبکہ رحمت سے مراد ایک دوسرے کی کمزوریوں پر شفقت، درگزر اور تعاون ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جن پر اسلامی خاندان کے فلسفے کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔
ان قرآنی اصولوں کی عملی تفسیر اگر کسی شخصیت میں مکمل طور پر جلوہ گر ہوئی تو وہ صرف ذاتِ اقدس حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ آپؐ نے بحیثیت شوہر، والد، نانا اور خاندان کے سربراہ جو عملی نمونہ پیش فرمایا، وہ رہتی دنیا تک ہر مسلمان کے لئے کامل راہنما ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’بے شک تمہارے لئے رسولؐ (کی ذاتِ مبارکہ) میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ ‘‘ (سورۃ الاحزاب:۲۱)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ خاندانی زندگی میں بھی مسلمان کے لئے اصل معیار نہ معاشرتی رسم و رواج ہیں ، نہ وقتی رجحانات، بلکہ رسول اکرمؐ کی سنت اور اسوہ ہے۔ آپؐ نے خاندانی حسنِ سلوک کو ایمان کی علامت قرار دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کیلئے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے اہلِ خانہ کیلئےتم سب سے بڑھ کر بہتر ہوں۔ ‘‘ (جامع ترمذی)
یہ بھی پڑھئے: حیات ِ نبویؐ سے سادگی اور اعتدال کا درس حاصل کرلیں
آج کا مسلم معاشرہ جن خاندانی مسائل، ناچاقی، طلاق، بے اعتمادی اور نسلوں کے درمیان فاصلے کا شکار ہے، ان کا بنیادی سبب اسوۂ نبویؐ سے دوری ہے۔ اگر خاندان دوبارہ قرآن کے ان اصولوں اور رسول اکرمؐ کی سنت کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لے تو گھر سکون کا گہوارہ، اولاد صالح کردار کی حامل، اور معاشرہ امن و استحکام کا نمونہ بن سکتا ہے۔
رسول اکرمؐ کی بعثت کا مقصد صرف چند عبادات کی تعلیم یا انفرادی اصلاح تک محدود نہ تھا بلکہ آپؐ نے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل فرمائی جس کی بنیاد صالح خاندان پر استوار تھی۔ اسلام میں فرد کی اصلاح کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، کیونکہ گھر ہی وہ پہلی درس گاہ ہے جہاں انسان محبت، احترام، ایثار، ذمہ داری اور اطاعت کے عملی اسباق سیکھتا ہے۔ اگر خاندان مضبوط ہو تو معاشرہ خود بخود مضبوط ہو جاتا ہے، اور اگر خاندان اپنی روح کھو دے تو معاشرہ بھی اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی لئے قرآن مجید نے اہلِ ایمان کو صرف اپنی ذات کی فکر کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اپنے اہل و عیال کی دینی اور اخلاقی تربیت کو بھی فرض قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یہ بھی پڑھئے: میلادالنبی ؐبرقی قمقموں کی روشنی نہیں، دلوں کے چراغ روشن کرنے کا نام ہے
’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ ‘‘ (سورۃ التحریم:۶)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے سربراہ کی ذمہ داری صرف معاشی کفالت تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی دینی تعلیم، اخلاقی تربیت اور کردار سازی کے لئے بھی جواب دہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اپنے اہلِ خانہ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سکھاؤ، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، کیونکہ یہی انہیں جہنم سے بچانے کا راستہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی ہر فرد کو اپنے دائرۂ اختیار کا نگہبان قرار دیتے ہوئے فرمایا: ترجمہ:’’تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ حاکم اپنی رعایا کا نگہبان ہے، مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا، اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگہبان ہے اور اس سے بھی اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ‘‘ (صحیح بخاری)