Inquilab Logo Happiest Places to Work

دنیا لالچ دِلاتی ہے اور انسان آخرت کو بھولنے لگتا ہے

Updated: August 28, 2026, 4:36 PM IST | Alisha Sharif Moemenati | Mumbai

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے ذریعے انسان کو اس کی حقیقت، اس کی ذمہ داری، اس کی زندگی کا مقصد اور اس کے انجام سے آگاہ فرمایا۔ قرآن انسان کو بتاتا ہے کہ یہ دنیا مستقل ٹھکانہ نہیں بلکہ ایک عارضی سفر ہے، جبکہ آخرت اصل اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے ذریعے انسان کو اس کی حقیقت، اس کی ذمہ داری، اس کی زندگی کا مقصد اور اس کے انجام سے آگاہ فرمایا۔ قرآن انسان کو بتاتا ہے کہ یہ دنیا مستقل ٹھکانہ نہیں بلکہ ایک عارضی سفر ہے، جبکہ آخرت اصل اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی ہے۔ لیکن انسان جب دنیا کی ظاہری چمک دمک میں گرفتار ہوجاتا ہے اور آخرت کو بھلا دیتا ہے تو اس کے لئے حق کو قبول کرنا اور صراطِ مستقیم پر قائم رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ قرآنِ مجید کے احکام واضح ہیں۔ اس نے توحید، رسالت، آخرت، عبادات، اخلاق، معاملات، حلال و حرام اور انسانی زندگی کے ہر اہم شعبے میں رہنمائی فراہم کی ہے۔ اس کے باوجود بعض لوگ قرآن کی تعلیمات کو اپنی خواہشات، مفادات اور دنیاوی نظریات کے مطابق دیکھنے لگتے ہیں۔ جہاں قرآن ان کی خواہش کے موافق ہو وہاں اسے قبول کرتے ہیں ، لیکن جہاں قرآن ان کی خواہشات کے خلاف کوئی حکم دیتا ہے وہاں اس سے دوری اختیار کرنے لگتے ہیں۔ یہی کیفیت انسان کو رفتہ رفتہ قرآن سے دور اور صراطِ مستقیم سے منحرف کردیتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: چھاتراؤں کا دُکھ

دنیا کی حقیقت

دنیا اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہے اور اس میں رہتے ہوئے انسان کو اپنی ضروریات پوری کرنے، رزق حاصل کرنے، خاندان کی کفالت کرنے اور جائز طریقے سے ترقی کرنے کی اجازت ہے۔ اسلام دنیاوی زندگی سے فرار کی تعلیم نہیں دیتا۔ اصل مسئلہ دنیا کا ہونا نہیں بلکہ دنیا کا دل پر غالب ہوجانا ہے۔ 

انسان اگر دنیا کو آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائے تو یہی دنیا اس کے لئے اجر و ثواب کا سبب بن سکتی ہے۔ وہ حلال روزی کمائے، اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، ضرورت مندوں کی مدد کرے، علم حاصل کرے اور اپنی صلاحیتوں کو نیک کاموں میں استعمال کرے تو اس کی دنیاوی زندگی بھی آخرت کا سرمایہ بن سکتی ہے۔ لیکن جب دنیا انسان کا مقصدِ زندگی بن جائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا پس پشت چلی جائے تو یہی دنیا اس کیلئے آزمائش بن جاتی ہے۔ پھر انسان مال کیلئے جھوٹ بولتا ہے، منصب کیلئے دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہے، شہرت کیلئے دکھاوا کرتا ہے، خواہشات کی تکمیل کیلئے حلال و حرام کی تمیز بھول جاتا ہے اور دنیاوی فائدے کے مقابلے میں آخرت کے نقصان کو معمولی سمجھنے لگتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اخلاق کی طاقت

آخرت کو بھولنے کا اثر

آخرت پر ایمان انسان کے کردار کو سنوارتا ہے۔ جب انسان کو یقین ہو کہ ایک دن اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ہر قول و عمل کا حساب دینا ہے تو وہ اپنے اعمال کے بارے میں محتاط رہتا ہے۔ وہ تنہائی میں بھی گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر و باطن دونوں سے واقف ہے۔ اس کے برعکس جب آخرت کا تصور کمزور ہوجاتا ہے تو انسان کے اندر جواب دہی کا احساس بھی کمزور پڑنے لگتا ہے۔ پھر وہ یہ سوچتا ہے کہ ابھی زندگی کا لطف اٹھایا جائے، بعد میں توبہ کرلیں گے۔ یہی ’’بعد میں ‘‘ کی سوچ انسان کو گناہ پر گناہ کرنے کی طرف لے جاتی ہے، یہاں تک کہ دل گناہوں کا عادی ہوجاتا ہے اور نصیحت کا اثر کم ہونے لگتا ہے۔ 

قرآن مجید کی تعلیمات

قرآنِ مجید کی تعلیمات انسان کی خواہشات کو آزاد نہیں چھوڑتیں بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند بناتی ہیں۔ انسان چاہتا ہے کہ اسے جو اچھا لگے وہی کرے، لیکن قرآن اسے بتاتا ہے کہ ہر پسندیدہ چیز ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی پسندیدہ ہو۔ مثلاً انسان مال کمانا چاہتا ہے، قرآن اسے حلال و حرام کا فرق بتاتا ہے۔ انسان اپنی خواہشات پوری کرنا چاہتا ہے، قرآن اسے پاکیزگی اور حدودِ الٰہی کی تعلیم دیتا ہے۔ انسان بدلہ لینا چاہتا ہے، قرآن اسے عدل، صبر اور معافی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انسان دنیا کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے، قرآن اسے آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK