Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہم جین زی ہیں (ایک ڈراما)

Updated: August 28, 2026, 3:42 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

ہماری نسل پرانے طریقوں کو چیلنج کرتی ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کیوں ؟ اور مجھے لگتا ہے یہ اچھی بات ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

منظر اوّل : کالج کا کیفے
(تمام دوست ایک میز کے گرد بیٹھے ہیں۔ ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل فون ہے۔ )
ساجد : یارا لوگ کہتے ہیں Gen-Z بہت بدتمیز، خود پسند اور ضدی نسل ہے۔ کیا واقعی ہم ایسے ہیں ؟
جمیل: اگر سوال کرنا، اپنی رائے رکھنا اورہر بات کو آنکھیں بند کرکے قبول نہ کرنا بدتمیزی ہے، تو ہاں، ہم بد تمیز ہیں۔ 
ناصر: اور اگر ٹیکنالوجی استعمال کرنا خود پسندی ہے تو پھر پوری دنیا خود پسند ہے!
راشد : لیکن ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ ہماری نسل میں کچھ مسائل ہیں۔ ہم جلد غصے میں آجاتے ہیں، جلد مایوس ہوجاتے ہیں اور سوشل میڈیا کی دنیا کو کبھی کبھی حقیقی دنیا سمجھ بیٹھتے ہیں۔ 
رفیق: بالکل !ہمارے پاس معلومات بہت ہیں، مگر سکون کم ہے۔ ہمارے پاس رابطے ہزاروں لوگوں سے ہیں، مگر دل کی بات کرنے والا شاید ایک بھی نہیں۔ 
اسلم: اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی آزادی اور اپنی ذمہ داری میں توازن کیسے پیدا کریں ؟
منظر دوم:جین زی کا رویہ
ساجد: ہماری نسل پرانے طریقوں کو چیلنج کرتی ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کیوں ؟ اور مجھے لگتا ہے یہ اچھی بات ہے۔ 
اسلم : سوال کرنا اچھی بات ہے لیکن جواب تلاش کرنا بھی ضروری ہے۔ 
جمیل: بالکل! صرف روایت اس لیے درست نہیں ہوجاتی کہ وہ پرانی ہے۔ 
اسلم: اور صرف نئی چیز اس لیے درست نہیں ہوجاتی کہ وہ نئی ہے۔ 
ناصر: واہ!یعنی جین زی کو نہ اندھا مقلد بننا ہے، نہ اندھا باغی۔ 
راشد: ہمیں سوچنے والی نسل بننا ہے۔ 
رفیق: ایسی نسل جو اختلاف کرے، مگر احترام کے ساتھ، آزادی مانگے، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔ 
منظر سوم: ایمان اورجین زی 
(ماحول قدرے سنجیدہ ہوجاتا ہے )
جمیل: ایک بات پوچھوں ؟ آج کے دَور میں faith یعنی ایمان کا ہماری زندگی میں واقعی کیا مقام ہے؟
اسلم: میرے لیے ایمان صرف عبادات کا نام نہیں، ایمان مجھے یہ سکھاتا ہے کہ میں سچ بولوں، انصاف کروں، دوسروں کا احترام کروں اور مشکل وقت میں امید نہ چھوڑیں۔ 
ساجد : آج کے نوجوان البتہ بہت سے سوالات کرتے ہیں۔ 
رفیق : ایمان کے دشمن نہیں ہوئے، کبھی کبھی صحیح سوال انسان کو صحیح جواب تک پہنچاتے ہیں۔ 
راشد: تو کیا ہم جدید بھی ہوسکتے ہیں اور اپنے ایمان سے جُڑے بھی رہ سکتے ہیں ؟
اسلم: کیوں نہیں ؟ جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنا اور اپنی اخلاقی بنیاد مضبوط رکھنا ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ 
ناصر:یعنی موبائل ہاتھ میں ہو سکتا ہےمگر دل اور ضمیر بھی زندہ ہونا چاہئے۔ 
سب : بالکل !
منظر چہارم:ہمارا مستقبل
رفیق: مجھے سب سے زیادہ فکر ہمارے مستقبل کی ہے۔ مقابلہ، آٹو میشن، آرٹی فیشیل اِنٹیلی جنس۔ پتا نہیں دس سال بعد دنیا کیسی ہوگی۔ 
ناصر: دنیا بدلے گی، لیکن ہمیں بھی بدلنا ہوگا۔ صرف ڈگری کافی نہیں ہوگی، تخلیقی صلاحیت، اِسکل یا ہُنر بھی ضروری ہوں گی۔ 
جمیل: اور صرف کریئر ہی زندگی نہیں ہے۔ 
راشد: صحیح کہا۔ کامیابی کا مطلب صرف بڑی تنخواہ، بڑا عہدہ نہیں۔ اگر انسان ذہنی سکون، اچھے تعلقات اور مقصدِ زندگی کھو دے تو کامیابی ادھوری ہے۔ 
ساجد: تو جین زی کا مستقبل کیا ہے؟
اسلم: ہمارے ہاتھ میں ہے۔ 
رفیق : ہم شکایت کرنے والی نسل بن سکتے ہیں ....
جمیل: یا تبدیلی لانے والی نسل...
ناصر: ہم ٹیکنالوجی کے غلام بن سکتے ہیں ....
راشد: یا ٹیکنالوجی کو انسانیت کی خدمت کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ 
ساجد : ہم صرف اپنے حقوق کی بات کر سکتے ہیں ....
اسلم: یا اپنے فرائض بھی یاد رکھ سکتے ہیں۔ 
آخری منظر
(سب دوست کھڑے ہوجاتے ہیں )
رفیق: ہم جین زی ہیں۔ 
راشد: ہم سوال کرتے۔ 
جمیل: ہم اختلاف کرتے ہیں۔ 
ناصر: ہم نئی دنیا بنانا چاہتے ہیں۔ 
اسلم : ہمیں البتہ اپنی اقدار اور ایمان کو نہیں بھولنا۔ 
ساجد: ہمیں اپنی غلطیوں کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ 
رفیق: یاد یہ رکھنا ہے کہ مستقبل صرف ہمارا انتظار نہیں کر رہا۔ 
سب مل کر: مستقبل ہمیں خود بنانا ہے!
اسلم: ایسی دنیا جہاں آزادی ہو، مگر ذمہ داری بھی۔ 
راشد: ترقی ہو، مگر انسانیت بھی۔ 
ناصر: ٹیکنالوجی ہو، مگر ضمیر بھی۔ 
جمیل: سوال ہوں مگر احترام بھی۔ 
ساجد : اور اختلاف ہو، مگر نفرت نہ ہو۔ 
سب : ہم جین زی ہیں ۔ ہم صرف مستقبل کے نوجوان نہیں، ہم مستقبل کے معمار بھی ہیں ؟
(روشنی آہستہ آہستہ مدھم ہوتی ہے۔ پردہ گرتا ہے۔ )
جنریشن زیڈ
یہ نسل ہے، نئی، نیا اس کا جہاں ہے
ہتھیلی پہ دنیا، نگاہوں میں آسماں ہے 
اُنگلی کے اِشارے پہ دنیا سے رابطے کی مہم 
پل بھر میں خبر، لمحے میں ہر فاصلہ ختم 
کتابوں کے ساتھ اب اسکرین بھی ہے 
ہر خواب میں اِک نئی مشین بھی ہے 
یہ کہتی ہے: کیوں ؟ ہر بات کا سبب دو
جو حق ہے، دلیلوں سے اس کا جواب دو
یہ رسموں کی دشمن نہیں، اندھی مقلد بھی نہیں 
یہ سچ کی طلبگار ہے، صرف عادت کی نہیں 
یہ آزادی چاہتی ہے، مگر ذمہ داری بھی 
یہ علم بھی چاہتی ہے، کردار کی تیاری بھی 
یہ انصاف کے نعرے کو آواز دیتی ہے
مظلوم کی خاطر بھی آواز اُٹھاتی ہے
مگر ایک طرف روشنی، دوسری جانب جال 
اسکرینوں کی دنیا میں الجھا ہوا خیال 
ہزاروں سے رابطہ، پھر بھی تنہا دل
یہ کیسی ترقی ہے، یہ کیسا حاصل؟
معلومات کے انبار، مگر علم کی کمی، 
رفتار بہت تیز، مگر ٹھہرائو کی کمی
ہر سوال کا جواب تو گوگل سے ملتا ہے 
مگر زندگی کا شعور کہاں سے ملتا ہے؟
تجھے علم کے ساتھ بصیرت بھی چاہئے 
تجھے آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی چاہئے 
تُو چاہے تو دنیا کا رُخ موڑ سکتی ہے
اندھیری فضائوں میں چراغ چھوڑ سکتی ہے
تِرے ہاتھ میں ٹیکنالوجی، ذہن میں سوال 
تُو بن سکتا ہے کل کا روشن خیال
بس علم کو کردار کا زیور بنالے
سچائی کو اپنا رہبر بنالے
نہ تُو صرف ماضی، نہ صرف نیا کل 
تُو دنیا زمانوں کا ہے خوبصورت پَل 
اے جنریشن زی! تری اصل پہچان یہی 
ترقی بھی، اقدار بھی، انسانیت بھی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK