سیرتِ نبویؐ کا مطالعہ ہمیں یہ سکھا تا ہے کہ حالات ہی زندگی کو مشکل نہیں بناتے، اکثر اوقات ہماری غیر ضروری خواہشات، مقابلہ اور دکھاوا کی عادتیں ہماری مشکلات میں اضافہ کرتی ہیں۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 4:16 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
سیرتِ نبویؐ کا مطالعہ ہمیں یہ سکھا تا ہے کہ حالات ہی زندگی کو مشکل نہیں بناتے، اکثر اوقات ہماری غیر ضروری خواہشات، مقابلہ اور دکھاوا کی عادتیں ہماری مشکلات میں اضافہ کرتی ہیں۔
نام و نمود اور نمائش بظاہر انسان کی شان و شوکت میں اضافہ کرتی ہے، مگر حقیقت میں یہ دل کو بے سکون، زندگی کو بوجھل اور انسان کو دوسروں کی نظروں کا محتاج بنا دیتی ہے۔ جب انسان اپنی خوشی کے بجائے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے جینے لگتا ہے تو اس کی خواہشات کا کوئی اختتام نہیں رہتا؛ ایک چیز حاصل ہوتی ہے تو دوسری کی طلب پیدا ہوجاتی ہے، اور یوں زندگی مقابلے، احساسِ کمتری اور بے اطمینانی کی زنجیر بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس سادگی انسان کو تکلف، مقابلے اور غیر ضروری خواہشات سے آزاد کرتی ہے۔ سادہ زندگی میں دل کو یہ اطمینان رہتا ہے کہ مجھے ہر وقت کسی کے لئے کچھ ثابت نہیں کرنا ہے؛ میرے پاس جو ہے، اللہ کی نعمت ہے، اور جو نہیں ہے، اس کیلئے بے چین ہونا ضروری نہیں۔ اس طرح سادگی دراصل محرومی کا نام نہیں ، بلکہ نعمتوں کو اعتدال کے ساتھ استعمال کرنے، دل کو خواہشات کا غلام نہ بنانے اور زندگی کو مقصد کے مطابق گزارنے کا نام ہے۔
دنیا کے سب سے عظیم انسان، اللہ کے محبوب اور ایک عظیم ریاست کے سربراہ ہونے کے باوجود آپؐ کی حیات ِ مبارکہ سادگی، قناعت اور بے تکلفی کا روشن ترین نمونہ تھی۔ حضرت عمرؓ ایک مرتبہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ ؐ کھجور کی چٹائی پر آرام فرما رہے ہیں اور چٹائی کے نشانات آپؐ کے جسمِ مبارک پر پڑ گئے ہیں۔ حضرت عمر ؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے قیصر و کسریٰ کی آسائشوں کا ذکر کیا، تو اللہ کے رسولؐنے فرمایا : ’’اے عمر! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت؟ ‘‘ (بخاری) یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ عظمت کا تعلق لباس، مکان، سامان اور ظاہری شان سے نہیں ؛ اصل عظمت دل کی پاکیزگی، کردار کی بلندی اور اللہ سے تعلق میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میلادالنبی ؐبرقی قمقموں کی روشنی نہیں، دلوں کے چراغ روشن کرنے کا نام ہے
آج اکثر لوگ نام ونمود اور نمائش کے لئے توانائی صرف کر رہے ہیں۔ ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ اس فکر میں گزرتا ہے کہ لوگ ہمارے گھر کو کیسا سمجھیں گے، ہمارا لباس کیسا ہے، ہماری گاڑی کون سی ہے، ہماری تقریبات کتنی شاندار ہیں اور ہم دوسروں کی نظروں میں کتنے کامیاب ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ بعض اوقات اسی ظاہری شان کو برقرار رکھنے کیلئے انسان اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرتا ہے، قرض لیتا ہے اور کبھی ناجائز ذرائع اختیار کرنے تک پہنچ جاتا ہے۔ جس چیز کا مقصد چند لمحوں کے لئے لوگوں کی تعریف حاصل کرنا تھا، وہ بعد میں انسان کیلئے پریشانی، ذہنی دباؤ اور بے سکونی کا سبب بن جاتی ہے۔ یوں انسان دوسروں کو خوش دکھانے کے لئے اندر سے غمگین ہوتا چلا جاتا ہے۔
نام و نمود اور نمائش کے ساتھ عموماً فضول خرچی بھی لازم ہوجاتی ہے، کیونکہ جب مقصد ضرورت پوری کرنا نہیں بلکہ دوسروں پر اپنی حیثیت ظاہر کرنا ہو تو خرچ کی کوئی حد باقی نہیں رہتی۔ حالانکہ اسلام نے مال کو اللہ کی نعمت قرار دیا، اس کے استعمال میں اعتدال کی تعلیم دی اور فضول خرچی سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’اور فضول خرچی نہ کرو۔ بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔ ‘‘ (سورۃ الاسراء:۲۶) غور کیجیے! جس خرچ کو ہم کبھی اپنی شان سمجھتے ہیں ، قرآن اسے اس قدر سخت الفاظ میں ناپسند کرتا ہے کہ فضول خرچ لوگوں کو شیطانوں کا بھائی قرار دیتا ہے۔ اس لئے مال خرچ کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ یہ خرچ واقعی ضروری ہے یا صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عصر حاضر میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت و اہمیت
یہاں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ سادگی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان اپنی وسعت سے نیچے کی زندگی گزارے، اپنی جائز ضروریات کو نظر انداز کرے یا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانا چھوڑ دے۔ اسلام رہبانیت اور مصنوعی فقیری کی تعلیم نہیں دیتا۔ صاف ستھرا لباس پہننا، اچھا گھر بنانا، حلال رزق سے اہلِ خانہ کو آسائش فراہم کرنا اور اپنی حیثیت کے مطابق زندگی گزارنا برا نہیں ؛ برائی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ضرورت خواہشات کی غلام بن جائے اور جب مقصد اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی نگاہ حاصل کرنا بن جائے۔ سادگی کا اصل حسن یہ ہے کہ انسان کے پاس آسائش ہو مگر دل آسائش کا غلام نہ ہو، مال ہو مگر مال کا غرور نہ ہو، اور نعمتیں ہوں مگر ان کی نمائش کی طلب نہ ہو۔
زندگی میں آسانی اور سادگی کو اپنانے کیلئے نبی اکرم ؐ کی حیات ِ مبارکہ کا مطالعہ کرنا ہر اعتبار سے ناگزیر ہے، کیونکہ آپؐ نے سادگی کو محض بیان نہیں فرمایا بلکہ اسے اپنی پوری زندگی میں عملی طور پر پیش کیا۔ آپؐ کی خوراک، لباس، رہن سہن، گھر، سفر، معاملات اور لوگوں سے برتاؤ، ہر جگہ اعتدال نمایاں ہے۔ سیرتِ نبویؐ کا مطالعہ ہمیں یہ سکھا تا ہے کہ حالات ہی زندگی کو مشکل نہیں بناتے، اکثر اوقات ہماری غیر ضروری خواہشات، دوسروں سے مقابلہ اور دکھاوا کی عادتیں ہی ہماری مشکلات میں اضافہ کرتی ہیں۔ جب انسان اپنی زندگی کو سنت کے آئینے میں دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ سکون زیادہ چیزیں جمع کرنے میں نہیں ، بلکہ غیر ضروری چیزوں سے دل کو آزاد کرنے میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اے کہ تیرا جمال ہے زینتِ محفلِ حیات
نسل نو میں سادگی منتقل کیجئے
بچوں کو سادگی کا درس صرف الفاظ سے نہیں دیا جاسکتا؛ وہ اپنے والدین کے طرزِ زندگی سے سیکھتے ہیں۔ اگر ہم خود ہر موقع پر مہنگی چیزوں، برانڈز، غیر ضروری خریداری اور نمود و نمائش کے پیچھے بھاگیں گے تو بچوں سے قناعت کی توقع کیسے کرسکتے ہیں؟ ان کی ہر خواہش پوری کرنے میں اپنی جان کو آزمائش میں مبتلا کرنا محبت نہیں ہے۔ یہ عمل ان کے اندر بے جا مطالبات کی عادت کو پروان چڑھاتا ہے۔ بچوں کو یہ سکھانا چاہئے کہ ہر خواہش پوری ہونا ضروری نہیں، ہر نئی چیز ضروری نہیں اور ہر وہ چیز جو دوسروں کے پاس ہے، ہمارے لئے بھی لازم نہیں۔ انہیں کبھی یہ بھی دکھائیے کہ خوشی مہنگے کھلونوں میں نہیں، خاندان کے ساتھ محبت بھرے وقت میں ہے؛ عزت قیمتی لباس میں نہیں، اچھے کردار میں ہے؛ اور کامیابی لوگوں کی واہ واہ میں نہیں، اللہ کی رضا میں ہے۔
سادہ زندگی کا فائدہ
سادگی کو اپنانے اور نام ونمود اور نمائش سے بچنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان کو سکون نصیب ہوتا ہےاور یہی وہ نعمت ہے جس کی تلاش میں آج تقریباً ہر شخص بھاگ رہا ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے صرف ایک سوال کرنا ہے: ہم اپنی زندگی اللہ کے لئے گزار رہے ہیں یا لوگوں کی نظروں کے لئے؟ اگر جواب اللہ کے لئے ہے تو پھر سادگی اختیار کرنا آسان ہوجائے گا۔ جب دل میں اللہ کی عظمت بس جائے تو لوگوں کو متاثر کرنے کی خواہش خود بخود کم ہونے لگتی ہے، اور انسان کو وہ سکون مل جاتا ہے جو کسی بازار میں فروخت نہیں ہوتا۔